گُڈگورنینس ۔۔۔۔۔۔اُصول اور پیمانے


فرمان نواز

25مئی کو حکومتِ پاکستان نے سوئس کیسسز کے متعلق اپنا موقف سپریم کورٹ میں پیش کیا۔ یہ ایک تاریخی واقعہ تھا۔ حکومتی وزراء ملزموں کی طرح عدالت میں کھڑے تھے۔ لیکن پیپلز پارٹی کا یہ رویہ قابلِ تعریف ہے۔ کم از کم انہوں نے 90کی دہائی کی طرز پر نواز شریف کی طرح عدالت پر حملہ تو نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی نے مقدر قوتوں کیلئے ایک مثال قائم کر دی کہ بُرے حالات کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ لیکن نواز شریف نے جب پیپلز پارٹی کو کسی حد تک کامیاب ہوتے دیکھا توفوراََ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی اور بُری کارکردگی کا طعنہ دیا۔ نواز شریف کی اس غیر منطقی اور بے وقت تنقید کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ عوام کو گُڈ گورنینس کا صحیح مفہوم معلوم ہو۔ خاص کر جنگی صورتِحال میں اس کی سمجھ بہت ضروری ہے۔
گورنینس(Governance)سے مُراد یہ لی جاتی ہے کہ حکومت ، سول سوسائٹی،میڈیا اور مارکیٹ کے وہ اختیارات یا صلاحیتیں جن کو بروئے کار لاکر سیاسی، معاشی یا سماجی کمزوریوں کو ممکنہ حد تک کم کیا جا سکے۔ایسی گورنینس جس سے مطلوبہ مقاصد حاصل ہو جائیں اُسے گُڈ گورنینس(Good Governance) کہا جاتا ہے۔یہ اختیارات سیاسی، معاشی اور انتظامی ہو سکتے ہیں۔ویسے عمومی طور پر گُڈ گورنینس سے انتظامیہ کی کارکردگی مراد لی جاتی ہے۔اور عوام کی سوچ یہ ہے کہ انتظامیہ سیاسی قیادت کی رحم و کرم پر ہوتی ہے ، کیونکہ عام لوگ سسٹم کی پیچیدگیوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
گُڈ گورنینس ایک ایسے آئیڈیل کا نام ہے جوکُھلی اور مکمل طور پر حاصل کرنا تو ناممکن ہے لیکن اِسی آئیڈیل کو پانے کی کوشش میں ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو جاتا ہے، جس کا لازمی اثر یہ ہوتا ہے کہ انفرادی اور اجتماعی آمدن میں اضافہ ہو جاتا ہے اور عوام کے پاس حکومت کو جانچنے کا یہی آسان طریقہ ہے۔گُڈ گورنینس کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ذہن میں کچھ اِس طرح کے سوالات ہونے چاہئے۔گُڈ گورنینس کی خصوصیات یا اُصول کیا ہوتے ہیں؟یہ اُصول کیسے نافذ کئے جاتے ہیں؟او ر گُڈ گورنینس کی پہچان کے پیمانے کیا ہیں؟
عوام کی شرکت گُڈ گورنینس کیلئے بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔یہ شرکت براہِراست بھی ہوسکتی ہے ا ور منتخب نمائندوں کے ذریعے بھی۔لیکن یہ ممکن ہی نہیں کے تمام لوگوں کے آراء کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جاسکے۔بلکہ عوام کی شرکت سے مُراد یہ ہے کہ اُن کو تحریر و تقریر اور ترقی کے عمل میں شرکت کی آزادی ہو اور سول سوسائٹی کو منظم اور پرامن طریقے سے کام کرنے دیا جائے۔گُڈ گورنینس کیلئے غیر جانبدار عدلیہ اور انصاف ، مفادِعامہ اور دور رس نتائج پر مبنی قوانین کا اطلاق بھی انتہائی ضروری ہے۔اور ایک شخص، خوا وہ سٹیٹ یا گورنمنٹ کا سربراہ ہو یا کسی ادارے کا ، کی حکمرانی کی بجائے قانون کی حکمرانی کا دور دورہ ہو۔ رولز ریگولیشن کو سامنے رکھ کر فیصلے کئے جائیں اور اُن کا اطلاق بھی کیا جائے۔اور اِن فیصلوں سے متاثرہ افراد کو اِن فیصلوں کے معلومات تک رسائی کے برابر مواقع دیئے جائیں۔تمام ادارے معینہ وقت کے اندر عوام کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔اجتماعی مفاد کے فیصلوں کو ممکنہ حد تک عوامی انداز سے کیا جائے تاکہ پورا معاشرہ اُن کی افادیت کو سمجھے۔معاشرے کے ہر فرد کو ایسا محسوس ہو کہ وہ اِس معاشرے کے باعزت شہری ہیں ان کے آراء کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔گُڈ گورنینس کیلئے احتساب کا عمل انتہائی ضروری ہے۔ احتساب کا دائرہ صرف حکومت تک محدود نہیں ہوتا بلکہ ہر ادارہ اور سول سوسائٹی احتسابی عمل سے بچنا نہیں چاہئے۔ پُرامن حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ مختلف جغرافیائی، ثقافتی اور لسانی گروپوں کو نمائندگی دی جائے۔مضبوط اداروں کا قیام ،انتظامیہ کی نگرانی اور پروفیشنل اور ایماندار بیروکریسی گُڈ گورنینس کیلئے انتہائی ضروری ہے۔اس کے علاوہ ایسی پالیسیاں جس سے معیشت مضبوط ہو، غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکے، انویسٹمنٹ کا محور عوام ہوں اور پرائیویٹ سیکٹر کیلئے مفید مقابلے کا رجحان پیدا ہو سکے۔
گورنینس ایک پیچیدہ اور مختلف پرتوں پر مشتمل ایک عمل ہے۔ روایات،ٹیکنالوجی،ثقافت، تاریخ،حکومت، پرائیویٹ سیلکٹر، سول سوسائیٹی اور میڈیا گورنینس پر اثرانداز ہونے والے عناصر ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر گُڈ گورنینس کو جانچنے کیلئے مختلف پیمانے بنائے گئے ہیں اور انہی کی بنیاد پر ڈونر ایجنسیا ں اور بینک فنڈز کا اجراء کرتی ہیں۔ یہ ادارے کسی ملک کے اِن پہلوؤں کا جائزہ لیتی ہیں۔ احتسابی عمل، سیاسی استحکام، عدم تشدد، حکومتی رٹ، حکومتی اختیارات، قانون کی حکمرانی، کرپشن کا کنٹرول، تعلیم، ٹرانسپورٹ، ٹیکسیشن کا نظام، عوام کا حکومت پر اعتماد، کرائم ریٹ، وسائل کی دستیابی،بیروکریسی کا سائز، معاشی ترقی ، تحقیق اور جمہوریت۔ گُڈ گورنینس ترقی کی پہلی سیڑھی ہے ۔ ایک جیسے وسائل رکھنے والے ملکوں میں ترقی کا مختلف معیار وہاں پر موجود گورنینس کے سسٹم کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جن ملکوں میں کرپشن ، فنڈز کا غلط استعمال، احتساب کا نہ ہونا، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور فوج کیحکومت میں باربار مداخلت ہوگی وہاں ترقی کی راہیں محدود ہو جاتی ہیں۔ جبکہ ایسے ممالک جہاں گُڈ گورنینس کے اُصولوں کا خیال رکھا جا تا ہے ، ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق اُن ممالک کے GDPکے ایک فیصد امداد دینے سے ایک فیصد غربت کم ہوتی ہے۔ گُڈ گورنینس کا نقطۂ عروج یہ ہوتا ہے کہ عوامی شعور اتنا بلند ہو جات ہے کہ وہ جھوٹ اور بے ایمانی نفسیاتی طور پر برداشت نہیں کرتے اور نفرت کا برملا اظہار کرتے ہیں۔
لیکن دوسری طرف اگر ہم دیکھیں تو جنگ یا جنگی صورتِحال میں کیا ملکی تقدیر کا فیصلہ کرنے والی قوتیں اس قابل ہونگی کہ وہ گُڈ گور نینس کے اُصولوں پر چل سکیں۔کیونکہ اُن کے ذہنوں پر وار گورنینس کا قبضہ ہو تا ہے۔گورنینس تووعدوں اور دعوؤں سے بھی کی جاسکتی ہے لیکن جنگ وعدوں اور نعروں سے نہ لڑی جاتی ہے اور نہ جیتی جاتی ہے۔گُڈ گورنینس اور جنگ دونوں وسائل سے کئے جاتے ہیں ۔ اگر وسائل جنگ کی نظر ہو جائیں تو کیا ہمیں ایسی صورتِحال میں وہی پیمانے حکومت کو جانچنے کیلئے استعمال کرنے چاہئے جو امن کے ماحول میں استعمال ہوتے ہیں؟جنگ کی پہلی گولی چلانے سے پہلے جنگ کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔لیکن اگر جنگ ورثے میں ملے یا حکومت کے پاس کوئی دوسرا آپشن ہی نہ رہے تو کیا جنگ اور گُڈ گورنینس کے تصور کو ساتھ لیکر چلنا ممکن ہوگا۔کیونکہ جنگ جیتی جائے یا ہاری جائے دونوں صورتوں میں نقصان کا ازالہ تو کرنا ہوگا۔جنگ کیلئے افراد، مشینری اور انفراسٹکچر کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ فوجی کمانڈروں کے شارٹ نوٹس پر تیار نہیں کئے جا سکتے۔اِن کے ساتھ ساتھ جنگ کیلئے سوچ و فکر اور توانائی کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔اگر حکومت کی ساری مشینری اِن وسائل کے حصول میں مصروف ہو تو کیا وہ حکومت عوام کے فلاح و بہبود کیلئے کچھ کرنے کے قابل ہوگی؟اور کیا عوام حکومت سے ویسے ہی توقعات رکھیں جو امن کے زمانے میں حکومت سے رکھے جاتے ہیں۔کیونکہ جنگ کا اثر تعلیم ،صحت، قانون کی حکمرانی،قانون سازی سب پر پڑتا ہے۔جنگ کے ماحول میں نہ حکومت کچھ کارکردگی دکھانے کے قابل ہوتی ہے اور نہ عوام ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔اِس صورت میں دونوں اطراف سے جتنا ہو سکتا ہے ملک کیلئے جدوجہد کرنی چاہئے۔کیونکہ ملک مستحکم ہوگا تو وسائل سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
یہ انتہائی غیر معقولیت پر مبنی ہوگا کہ جنگی ماحول میں حکومت کو کارکردگی کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ پیپلز پارٹی کو ایسے وقت میں حکومت ملی جب پاکستان اپنی تیس سال کی جہادی پالیسی کی سزا بھگت رہا تھا۔ حکومت کا جہادی پالیسی پر یو ٹرن لینا ماضی پر پچھتاوے کی غمازی کرتا ہے۔ ان حالات میں عوام اور خاص کر جہادی میڈیا کو مطمین کرنا خاصا مشکل ہے۔ جہادی میڈیا کی شور و غوغامیں حکومت کی اچھی پالیسیاں بھی تنقید کی نظر ہو جاتی ہیں۔ تاہم گلگت بلتستان کے انتخابات سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام اب بھی پیپلز پارٹی پر اعتماد کرتے ہیں۔ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھی حکومت کے پاس اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کا بہترین موقع ہے۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s