وزیرستان آپریشن کا جواز اور خدشات


فرمان نواز

آج کل فیصل شہزاد کی گرفتاری کی خبر کے بعد دانشور حضرات پھر سے دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ کچھ دانشور اس کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں اور کچھ اس کو حقیقت مان کر شمالی وزیرستان میں آپریشن کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگر واقعے کی نوعیت کو دیکھا جائے تو نائن الیون کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ وہاں بھی ایک عجیب ڈرامائی انداز میں واقعات کی کڑیاں ایک دوسرے سے مل رہی تھیں اور یہاں بھی وہی عمل ہو رہا ہے۔ اُس وقت بھی امریکہ بہادر نے الزام القائدہ پر لگایا تو القائدہ نے فوراََ لبیک کہا اور اب بھی امریکہ نے جیسے ہی طالبان کا نام لیا تو طالبان نے فوراََ ہامی بھر لی ۔ عجیب سی بات ہے طالبان کا مطالبہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اُن پر حملہ کرنے کے جھوٹے جواز نہ تراشے جائیں۔ دوسری طرف امریکہ بھی مسلسل یہ کہتا رہا ہے کہ اگر اُن پر حملہ ہوا تو یہ منصوبہ قبائلی علاقوں میں تیار ہوا ہوگا۔ اب امریکہ الزام لگا رہا ہے اور طالبان قبول کر رہے ہیں۔ اب اس ڈرامائی حقیقت کو سازش کہنا انتہائی معقول سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
لیکن ایک اور حقیقیت بھی تو ہے جس پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ اس واقعے کی ذمہ داری پاکستانی طالبان نے قبول کی ہے جبکہ امریکہ آپریشن افغانی طالبان کے خلاف چاہتا ہے۔ اُصولی طور پرطالبان جس گروپ کے بھی ہوں ہماری سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔ اس ناسور کو ختم کرنا ہی نتیجہ خیر ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا یہ بات فوجی نقطہء نظر سے بھی ممکن ہے۔ ہم نے صرف پاکستانی طالبان کے خلاف محاذ کیا کھولا کہ پورا پاکستان لہولہان ہو گیا۔ اب اس موقع پر کیا یہ بہتر ہو گا کہ افغانی طالبان سے بھی جنگ کی جائے؟ افغانستان میں امریکہ کی مثال دیکھ لیں ۔ کیا امریکہ پاکستانی طالبان کو بھی ٹارگٹ کرتا ہے؟ بیت اللہ محسود کو بھی اُس وقت مارا گیا جب پاکستانی فوج کا گھیرااُس کے گرد تنگ ہو رہاتھا۔ امریکہ صرف اُن پاکستانی طالبان پر حملہ کرتا ہے جو اُس کے خلاف عملی طور پر آواز بلند کرتے ہیں۔
پاکستانی فوج افغانی طالبان کے خلاف آپریشن نہ کرکے اُصولی طور پر غلط کر رہی ہے لیکن عملی طور پر فوج کا یہ فیصلہ دُرست ہے۔ سیاست میں بھی تو بعض فیصلے اُصولی طور پر ٹھیک ہوتے ہیں لیکن اُن کے عملی نتائج کافی بھیانک ہوتے ہیں۔ اگر ہم سیاست میں اس اُصول کو مانتے ہیں تو جنگ میں بھی اپنی آنکھوں پر اُصولوں کا پردہ ڈال کر غلط فیصلے نہیں کرنے چاہئے۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ فوج نے ہی شروع کی تھی اب ہمیں فوج کی حکمت عملی پر شک نہیں کرنا چاہئے۔ ہا ں امریکی سوچ پر شک کیا جا سکتا ہے کیونکہ جب پاکستانی فوج دہشت گردوں کا پیچھا کر رہی تھی تو امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے ساتھ مفاہمت کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ اور تو اور حکومت میں اُن کیلئے حصہ داری کا مطالبہ کر دیا۔ کیا یہ افغان عوام کا مطالبہ تھا؟ اِس مفاہمت کے دروازے حقانی گروپ پر کیوں بند ہیں؟اورایک ایسے ملک میں جہاں لوگ اپنے بچے فروخت کر نے پر مجبور ہیں وہا ں یہ اعلان کرنا کہ جو طالبان ہتھیا ر ڈال دیں گے اُن کو پیسے اور روزگار ملے گا، ایسے میں کونسا نوجوان نہیں چاہے گا کہ وہ طالبانکیساتھ مل جائے اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لے۔
فیصل شہزاد کی گرفتاری کے بعد امریکہ نے عجیب بیانات دینے شروع کر دیئے۔ اعلان کیا گیا کہ اُسامہ کے متعلق پاکستانی فوج کو زیادہ معلومات ہیں۔ اس سے کچھ عرصہ قبل امریکہ اُسامہ کی موجودگی کا الزام تہران پر لگا چکا ہے۔ جس کا جواب ایران نے یہ دیا کہ اُسامہ واشنگٹن میں ہے۔ آزاد اقوام کی آزاد رائے ہوتی ہے۔ اب وہی الزام پاکستان پر لگادیا گیا۔سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ جب امریکہ کو اپنے دشمن کا بھی پتہ ہے اور اُس کے معلومات رکھنے والے کا بھی اور اس کے باوجود امریکہ پاکستان پر اعتبار کئے بیٹھا ہے تو اس پر تو ایک ہی بات صادق آتی ہے یعنی پھر وہی عطار کا لونڈا۔
ایران اور پاکستان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ امریکہ کی لاکھ کوشش کے باوجود ایران کو تنہا نہیں کیا جا سکا۔ ایران اپنی بہترین سفارتکاری کے ذریعے یہ ثابت کر چکا ہے کہ امریکہ اب واحد سپر پاور نہیں رہا۔ کیونکہ امریکہ کوشش کے باوجود دنیا کو ایران کے خلاف اکھٹا نہیں کر سکا۔ جبکہ پاکستان کا معاملہ اُلٹ ہے۔ ہم پر امریکہ کے علاوہ کوئی اور ملک نہ تو بھاری سرمایہ لگاتا ہے اور نہ مسلسل اعتبار کرتا ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ پاکستان کے سارے راستے واشنگٹن سے ہو کر آتے ہیں۔ ایسی صورت میں امریکہ کی بات نہ مان کر پاکستا ن تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ مطلب شمالی وزیرستان آپریشن کرنا ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ لیکن اگر پاکستانی اور افغانی طالبان مل کر پاکستان کے خلاف محاذ کھولتے ہیں اور امریکہ بھی افغانی طالبان کے ساتھ مفاہمت کرکے بارڈر سے چوکیاں ہٹا دیتا ہے تو پاکستان خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔
امریکہ نے نائن الیون کے بعد غیر سفارتی زبان استعمال کرکے پاکستانی فوج کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن بھلا ہو پرویز مشرف کا کہ وہ حالت کی سنگینی اور امریکی عزائم بھانپ گیا اورپاکستان دھشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بن گیا۔ بعد میں امریکہ کا خیا ل تھا کہ پاکستان طالبان کے خلاف جنگ کا آغاز کرکے انتشار کا شکار ہو جائے گا کیونکہ امریکہ نے جہاد کے زمانے سے جو سانپ پاکستان میں پالے ہیں پاکستانی فوج اُن کے آگے سیاسی اور جنگی طور پر ناکام ہو جائے گی۔ لیکن پاکستان نے دو رُخی پالیسی اختیار کر کے طالبان کے خلاف جنگ کا آغاز کیا جس پر کافی تنقید بھی کی گئی لیکن یہ جہاد ی پالیسی کے بعد ایک مناسب عملی قدم تھا۔اور آخر کار جب پاکستانی فوج اور سیاست دان عوام میں طالبان مخالف سوچ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے توایک وسیع علاقے میں آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔ لیکن یہاں بھی امریکہ دھوکہ دے گیا اور اپنا سرمایہ یعنی طالبان محفوظ کرنے کیلئے افغانستان میں مفاہمت کی دوغلی پالیسی شروع کر دی جس سے پاکستانی فوج کشمکش کا شکار ہو گئی۔یہی مفاہمت جب پاکستانی فوج کر رہی تھی تو امریکہ ناراض تھا لیکن اب خود امریکہ مفاہمت پر اُتر آیا۔ اب سوال یہ تھا کہ طالبان کو ختم کیا جائے یا مستقبل کیلئے پالا جائے۔
ظاہر ہے کہ یہ آستین کے سانپ ہم نے پالنے نہیں لیکن امریکی منشا کے مطابق یہ جنگ جیتی بھی نہیں جاسکتی۔ کیونکہ امریکہ کبھیطالبان کے خاتمے کا اعلان کرتا ہے تو دوسرے دن اِن کو ایک طاقت اور حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ دہشت گردی کی جنگ پاکستان کو علاقائی وزن کے ساتھ لڑنی ہوگی۔ ریجنل ازم پر امریکہ ہمیشہ وار کرتا ہے۔ ایران،پاکستان اور انڈیا کی گیس پائپ لائن کا منصوبہ اس کی ایک مثال ہے۔ افغانستان، ایران، انڈیا ، چین اور روس کی شرکت کے بغیر اس جنگ کا خاتمہ ناممکن ہے۔ وزیرستان آپریشن پاکستان کو علاقائی قوتوں کے تعاون سے کرنا ہوگا۔ اس موقع پر اگر علاقائی قوتیں مصلحت سے کام لیتی ہیں تو پاکستان کبھی بھی امریکی غلامی سے نجات نہیں پائے گا اور نہ ہیپھر کوئی علاقائی تنظیم امریکہ کے راستے میں دیوار کھڑی کر سکتا ہے۔ اگر علاقائی قوتیں پاکستان کو امریکی غلامی سے آزا د کرانا چاہتی ہیں تو اس نازک مرحلے پر پاکستان کا ساتھ دیکر دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اُکھاڑنا ہوگا۔ وگر نہ صرف مذمتی قراردادوں سے امریکی سامراج کو شکست نہیں دی جا سکتی۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s