ایران کی تنہائی میں پیوستہ مفادات کا کردار


فرمان نواز
ایران کے متعلق سیکوریٹی کونسل کی قرارداد کے بعد عالمی سیاست میں بحث کیلئے ایک نیا باب کھل گیا ہے۔ ایران کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قرارداد پر کافی لکھا جا چکا ہے۔ اور اس کا ہر پہلو زیر بحث ہے۔ ہماریصحافی حضرات کسی مسئلے پر لکھتے وقت بعض دفعہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ بعض دفعہ کسی منظورِ نظر فرد ، ادارے یا ملک کا دفاع کرتے کرتے ہم سچائی کی قربانی دے دیتے ہیں۔ کوئی اچھاشخص بعض دفعہ غلط اقدام اُٹھانے کی غلطی کر سکتا ہے لیکن سچ ہمیشہ سچ ہی رہتا ہے اور ہمیشہ کیلئے کڑوا ہی ہو تا ہے۔ ہم میں ہمیشہ سچ سننے اور بولنے کا حوصلہ ہونا چاہئے ۔ اس طرزِعمل سے اچھے اور ایمان دار لوگوں کو سیدھی راہ پر چلنے میں مدد ملے گی۔
تقریباََ مہینہ پہلے امریکہ یہ اعلان کر چکا تھا کہ ایران کے خلاف تمام عالمی قوتوں کو متحد کیا جا چکا ہے۔اس ناجائز فیصلے کے حوالے سے چین اور روس کی حمایت کوئی حیرانی کی بات نہیں تھی۔لیکن پھر بھی ہمارے بعض صحافتی حلقے روس اور چین پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے۔وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ ایک غلط اقدام تھا۔ روس اور چین کے اس فیصلے کاکی حمایت کا جواز یہ بیان کیا جاتا ہے کہ روس اور چین نے امریکہ کو 2003کی طرح جارحانہ اقدام سے روکنا تھا۔ کیونکہ امریکہ نے 2003میں یو این او کو نظرانداز کرکے یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوئے عراق پر حملہ کر دیا تھا۔ لیکن ہمارے صحافی حضرات یہ بھول گئے کہ کچھ ہی مہینے پہلے وہ اس بات کا اعلان کر رہے تھے کہ امریکہ اب واحد سُپر پاور نہیں رہا اور یہ کہ امریکہ خود بھی اس بات کا اقرار کرتا ہے۔ لیکن موجودہ واقعہ تو اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ امریکہ اب بھی ایسا سُپر پاور ہے جو اقوامِ متحدہ کے قوانین کی آڑ میں کمزور ممالک کا استحصال اور طاقتور ممالک کو بلیک میل کرتا ہے۔
روس اور چین کی اس موقع پر حمایت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اور نہ ہی اُن کا یہ اقدام ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہونا چاہئے۔کیونکہ ہم نے ان ممالک کے اچھے فیصلوں کی ماضی میں بھی حمایت کی ہے اور مستقبل میں بھی صرف اور صرف اچھے فیصلوں کی حمایت ہی کریں گے ۔ کیونکہ اصلاح اور قانون کو جواز بنا کر غیر قانونی اقدام کی کیسے حمایت کی جاسکتی ہے۔ پھر ہم میں اور امریکہ میں فرق کیا رہ گیا۔
یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ چین نے کچھ عرصہ پہلے ایران کے حوالے سے امریکہ کی حمایت کا فیصلہ کرنے کے بعد ایران پاکستان گیس منصوبے کے متبادل کے طور پر پاکستان کے ساتھ سوِل نیوکلیر ٹیکنالوجی معاہدے کیلئے کوششیں تیز کر دی تھیں۔یہ بھی تو ایک حقیقیت ہے کہ روس ایران کے ساتھ مغرب کی جانب گیس اور تیل کی منڈیوں کی تلاش میں مقابلے سے حتیٰ الوسع پرہیز کرتاہے۔ روس کی کوشش ہے کہ ایران اپنی بزنس کا دائرہ بجائے ترکی کے مشرق کی طرف بڑھائے۔ حلانکہ مشرق میں بزنس کے مواقع اگر محدود نہیں تو حوصلہ افزا بھی نہیں ہیں۔ روس کی امریکی حمایت کے پیچھے شاید ایران کیلئے یہی اشارہ ہے۔ اس کے علاوہ مضبوط سیول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا حامل پُر جوش ایران شاید لاشعوری طور پر علاقاعی ممالک کیلئے قابلِ قبول نہ ہو۔ کیونکہ شنگائی تعاون تنظیم نے نیوکلیر حوالے سے امریکی چال بازی سے بچنے کیلئے وسطی ایشیائی ممالک کیلئے اقدامات اُٹھانے کیلئے سوچنا شروع کر دیا ہے۔
حیران کن طور پر ترکی کی مخالفت کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس طرح ایران کیلئے مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ اگر پہلے تجزیئے کو درست مان لیا جائیتو ترکی کا یہ اقدام چین اور روس کی اس نام نہاد کوشش، کہ امریکہ ایران پر حملہ نہ کرے، کو نقصان پہنچاتا ہے۔ دوسری طرف سوال تو یہ اُٹھتا ہے کہ ترکی چین اور روس کے اس تصور کو سمجھ کیوں نہیں سکا۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ 2003میں اہم ممالک کا امریکہ کی حمایت نہ کرنے کا اقدام بھی عراق کیلئے مذاکرات کے دروازے نہ کھول سکا۔ ترکی کی مخالفت کی اصل حقیقیت یہ ہے کہ ترکی کی مخلص کو ششوں کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ ترکی بھی روس کی طرح یورپ کے ساتھ بہترین تعلقات استوار کرنے کا خواہشمند ہے لیکن ترکی یورپ میں ایشیا کا لیڈر بن کر داخل ہونا چاہتا ہے۔ ترکی اور ایران ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اور اُن میں ظاہری طور پر کوئی اختلاف بھی نہیں۔
دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو کیا امریکہ بھی روس اور چین کی طرز پر سوچ رہا تھا۔ کیا امریکہ بھی جنگ نہیں چاہتا تھا یا اُس کا کوئی اور ہی منصوبہ تھا۔ اصل میں امریکہ ایران پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو ایران کے خلاف متحد کرنا چاہتا تھا کیونکہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کو للکارا تھا۔ جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکیسویں صدی میں اس ریجن میں چین اور روس نے امریکہ کوکبھی چیلنج نہیں کیا۔ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی یا تو روس اور چین کی شکست ہے یا پھر ان سب کی افغانستان کے وسائل کے استحصال کی ملی بھگت۔
فرض کیا چین اور روس اتنے ہی مخلص تھے کہ ایران پر حملہ نہ ہو اور مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رہیں تو یہ کام امریکی خواہشات کے مطابق اور امریکی پچ پر ہی کیوں کیا گیا۔ اور ایک ایسی پلیٹ فارم پر جس پر ہمیشہ امریکی مفادات کیلئے کام کرنے کا الزام لگتا رہا۔ یہ کام علاقائی پلیٹ فارم پر بھی ہو سکتا تھا۔ لیکن بڑے افسوس کا مقام ہے کہ شنگائی تعاون تنظیم علاقائی مسائل کے حل کیلئے تیا رنہیں۔ پاکستان اور انڈیا کی ممبر شپ کا مسئلہ بھی فی الحال اسی لئے اٹکا ہوا ہے کیوں کہ اس طرح کشمیر کا مسئلہ SCOکے دائرہ کار میں آجا ئے گا۔
ایران کو ایک منظم طریقے سے تنہائی کا شکار کیا گیا لیکن اُمید ہے ایران علاقائی ممالک کو اُن کی غلطی کا احساس جلد کرا دے گا۔ ایران کی ایک غلطی یہ بھی ہے کہ وہ علاقائی ممالک کو اعتماد میں نہیں لے سکا۔ اور علاقائی ممالک بھی امریکی خواہشات کے آگے ڈھیر ہو گئے۔ چین پہلے بھی علاقائی مسائل کے حوالے سے سستی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ جیسے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت پر جب امریکہ نے پابندیاں لگائیں تو چین کا موقف تھا کہ پابندیاں اس بھی سخت تھی لیکن یہ تو چین کی کوششوں سے نرمی بھرتی گئی۔ آج افغانستان کی حالت سب کے سامنے ہے۔ بقول محترمہ افضل توصیف کے ، چین سے ہمیں یہ بھی گِلہ ہے کہ چینی حُکام نے ضیاء الحق کو پاکستانی عوام کے امنگوں کا ترجمان کہا تھا۔ آج اگراس خطے کے ممالک ہر مسئلے کے حل کیلئے امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں تو اس میں علاقائی قوتوں کی بھی غلطی ہے۔ چین اور روس جب تک علاقائی مسائل کے حل کیلئے آگے نہیں آئیں گے کمزور ممالک یونہی امریکہ کے ہاتھوں یرغمال ہو تے رہیں گے۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s