صحافیوں پر ایک تنقیدی نظر


فرمان نواز
آخر کیا وجہ ہے کہ شاعر، سیاست دان، مفکر، اداکار، گلوکاراور فوجی دہائیوں تک یاد رکھے جاتے ہیں لیکن صحافی خبر لکھتے لکھتے بے خبری سے دنیا چھوڑ جاتا ہے اور دنیا اس با خبر صحافی سے بہت جلد بے خبر ہو جاتی ہے۔ جس طرح ایک خبر کی عمر چند گھنٹے ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ خبر ٹھوکری کی نظر ہو جاتی ہے بالکل اسی طرح ایک صحافی بھی جب تک لکھتا ہے وہ صحافت کی دنیا میں زندہ رہتا ہے اور اگر اُن کی موت واقع ہو جاتی ہے تو کچھ ہی مہینوں میں باسی خبر کی طرح دنیا اُس کو بھول جاتی ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اُس کی موت بھی اکثر کوئی بڑی خبر نہیں بن پاتی۔
بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ حبیب جالب کو کو ن نہیں جانتا، دلیپ کمار کی آج بھی لوگ نقل کرتے ہیں، رفیع کے گانے گا کر لوگ گانا سیکھتے ہیں۔ آج بھی بہت سے نوجوان راشد منہاس بننا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا کوئی نوجوان تیس سال بعد حامد میر، شاہد مسعود، کامران خان ، جاوید چوہدری ، انصار عباسی بننا پسند کرے گا؟ بننا تو درکنار شاید کوئی اُس وقت اِن کا نام بھی نہ جانتا ہوں۔ آخر کیوں؟ جواب بہت سادہ ہے ۔ شاعر ، سیاست دان، اداکار اور گلوکار عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ شاعر دل کے درد کو سمجھتا ہے اور جذبات کو عقل کے تابع کرنے کا نظریہ دیتاہے۔ سیاست دان جتنا بھی کرپٹ ہو عوام کے مسائل کو سمجھتا بھی ہے اور سسٹم کے اندر جتنا ممکن ہو عوام کی مدد کرتا ہے اور عوام کی مدد کا نظریہ دیتا ہے۔اداکار سماج کے تضادات کو آسان بنا کر پیش کرتا ہے اور سچ اور خلوص کی فتح کا نظریہ دیتاہے۔گلوکار شاعر کے لفظوں کو جادو کے پَر لگا کر آدمی کے دل و دماغ کو سرور دیتا ہے اور دل کے ارمانوں کے ہاتھوں مرنے کی بجائے ان ارمانوں کو آواز کے ذریعے محبوب کے دل تک پہنچانے کا نظریہ دیتاہے۔ مفکر دن رات سوچ کر تضادات اور مفادات کی جنگ میں بیچ کا راستہ نکالتا ہے اور تشدد کی بجائے مسائل عقل کے ذریعے حل کرنے کا نظریہ دیتا ہے۔ فوجی وطن کیلئے جان قربان کرتا ہے اور انفرادیت کی بجائے اجتماعیت کا نظریہ دیتا ہے۔
اب صحافی کیا کرتا ہے اور کس چیز کا نظریہ دیتا ہے؟ کہنے کو تو صحافی کا کام عوام کو نئی نئی خبریں فراہم کرنا ہے۔ جس میں کیا، کب،کہاں، کون، کیوں اور کیسے کا جواب موجود ہو تا ہے اور ان سب معلومات کو جیومیٹری کے اُلٹے اہرام کی شکل میں ترتیب دیا جاتا ہے تاکہ ضروری خبر قاری پہلی نظر میں پڑھ لیں اور اگر جگہ کی کمی ہو تو غیر ضروری مواد کو چھوڑ دیا جائے۔لیکن اخبار پڑھنے پر پتہ چلتا ہے کہ اب خبر صرف ’’ کیوں‘‘ پر مشتمل ہوتی ہے جس کے بعد ’’کیوں‘‘ پر مرچ مسالہ لگا ہوتاہے۔ شعبہء صحافت میں دورانِ طالب علمی ہمیں بتایا گیا تھا کہ مصدقہ خبر وہ ہوتی ہے جس میں ’’source‘‘ کا واضح ذکر ہو ورنہ خبر غیر مصدقہ شمار ہوتی ہے۔ لیکن اخبار اُٹھا کر دیکھ لیں sourceکا یا تو ذکر نہیں ہوتا کیونکہ خبر خبر نہیں غیر جانبدار تجزیہ ہو تا ہے۔ یا پھر یہ لکھا ہوتا ہے کہ ذرائع کے مطابق۔ جبکہ غیر ضروری معلومات اُس کو کہا جاتا ہے جو صحافی کو خود پسند نہیں۔
صحافی کا ایک کردار غیر جانبدار تجزیہ کا ر کا بھی ہوتا ہے۔ لیکن موجودہ تجزیے اور تجزیہ کار غیر جانبداری کے عنصر سے پاک ہوتے ہیں۔ پچھلے سال کیری لوگر بل کے بعد ایک سینئر تجزیہ کار نے آسمان سر پر اُٹھا رکھا تھا کہ حکومت گئی۔ اُن کا موقف تھا کہ امریکہ نے زرداری کو چھوڑدیا ہے کیونکہ زرداری امریکی منشا کے مطابق کام نہیں کر سکا۔ لیکن اُس نے یہ جواب نہیں دیا کہ اب زرداری کے بعد کس نے امریکہ کے کاموں کا بیڑا اُٹھا لیا ہے۔ دوسرے وہ بار بار ایک ہی جملہ استعمال کر رہا تھا کہ ’’ Party is over‘‘۔ لیکن پارٹی تو سال گزر گیا اب بھی ختم نہیں ہوئی۔ اب حال ہی میں دیکھ لیں جنرل کیانی کو مدتِ ملازمت میں توسیع ملی تو بہت سے تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا کہ یہ تو باقی کور کمانڈروں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ نا انصافی اُن کو ضیا ء اور مشرف ادوار میں یاد نہیں آئی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ صحافی عوام کو یہ نہیں بتاتے کہ یہ لوگ خود نئے لکھنے والوں سے کیا سلوک کرتے ہیں۔ اخبار کے ادارتی صفحات صرف انہی زعماوءں کیلئے مختص ہیں۔ نئے لکھنے والوں کے مضامین کو ردی کی ٹھوکری میں پھینک دیاجاتا ہے۔ کیا یہ صحافت کے مستقبل کے ساتھ بے انصافی نہیں ہے؟
اب ذرا صحافی کے نظریئے کی بھی بات ہو جائے۔ صحافی کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ملکی مفاد کا سودا کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے۔ اب اگر میڈیا کے بارے میں مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ میڈیا گروپ اپنی پالیسی ریٹینگز دیکھ کر بناتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک معروف ٹی وی اینکر نے احسن اقبال کے موقف (کہ میڈیا کو تعلیم، صحت وغیرہ کو بھی ٹائم دینا چاہئے )کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جب میڈیا تعلیم اور صحت وغیرہ کے متعلق پرگرام تیار کرتا ہے تو کوئی نہیں دیکھتا۔ احن اقبال نے جواب میں بہت خوبصورت بات کہی کہ میڈیا سیاست دانوں کو لڑانے کی بجائے اُن سے تعلیم، مہنگائی اور صحت وغیرہ کے متعلق اُن کی پالیسی کے بارے میں پوچھیں۔
صحافیوں نے این آر او کے متعلق بہت واویلا مچایا لیکن کسی نے یہ پوچھنے اور تحقیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ اسی ان آر او کے متعلق ابتدا میں میڈیا بالکل خاموش تھا۔ اور تو اور نواز شریف نے بھی جب تک پاکستان میں قدم نہیں رکھا این آر او کے متعلق ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ جلا وطنی کے دوران ایک موقع پر محترمہ بے نظیر کی خیریت دریافت کرنے فون کر کے کہا کہ مفاہمت کو اور بھی وسیع کیا جا ئے تاکہ باہر بیٹھے لوگ بھی فائدہ اُٹھا سکیں۔ آج کل جعلی ڈگری کا شور ہو رہا ہے۔ یہ میڈیا کی ذمہ داری تھی کہ الیکشن سے پہلے عوام کو ان جعل سازوں سے آگاہ کرتے۔ الیکشن کے بعد جب عوام کا پیسہ ذائع ہو گیا اب کیا جعل سازی کا رونا رونا۔ عوام کے حقوق کا تحفظ اگر بروقت نہ کیا جائے تو بعد میں انتشار پیدا کرنا کہاں کی عقل مندی ہے۔
ہر ادارے کا احتساب ہو نا چھاہئے ۔ صحافیوں کا احتساب کون کریگا اس کے متعلق کوئی مضمون ابھی تک نظر سے نہیں گزرا اور نہ ہی میڈیا پراس موضوع پر باقائدہ کوئی تحریک چلی ہے۔ جب تک صحافی خود کو احتساب سے بالاتر سمجھے گا، غیر جانبداری کا مظاہرہ نہیں کرے گا، سچ اور جھوٹ میں تمیز نہیں کرے گا، ملکی مفاد کو قربان کرے گا، ہر مسئلے کو مبہم قوانین کی کسوٹی سے گزارے گا، علاقائی مسائل کا حل تلاش نہیں کرے گا، اُس وقت تک کوئی بھی صحافی ، شاعر، سیاستدان، مفکر، اداکار، گلوکار اور فوجی کی طرح امر نہیں ہوگا۔ وہ ہر دن مار کھاتا رہے گا ، مرتا رہے گا لیکن عوام کیلئے آئیڈئیل نہیں بن پائے گا۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s