وسعت اللہ خان اور سورج گرہن


فرمان نواز
حالاتِ حاضرہ میں دلچسپی رکھنے والے لوگ وسعت اللہ خان کے نام اور کام سے خوب واقف ہیں۔غیر جانبدار صحافت میں اُن کا ایک مقام ہے۔ اداریہ لکھنے کاایک آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے پیراگراف میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ دوسرے پیراگراف میں واقعے کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔ تیسرے پیراگراف کیلئے اُسی نوعیت کا واقعہ ماضی سے ڈھونڈ نکالنا ہوتاہے اور دونوں واقعات کا موازنہ کیا جاتا ہے اور آخری پیراگراف میں نتیجہ اخذ کیا جاتاہے۔ یہی طریقہ کالم نویسی میں بھی کام آتا ہے۔ وسعت اللہ خان صاحب ماضی سے واقعات ڈھونڈنکالنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
پچھلے دِنوں اُن کا ایک کالم ’’جنگ جرنیلوں پر نہیں چھوڑی جا سکتی‘‘ شائع ہوا۔ مضمون میں جنرل کیانی کا نام لئے بغیر اُن کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اب وسعت اللہ خان کے مضمون پر اعتراض کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی سورج کو چراغ دکھائے۔ لیکن اگر سورج کو گرہن ہو جائے تو سب لوگ سورج کی طرف حیرت سے دیکھتے ہیں کہ سورج کو کیا ہو گیا۔
اپنے کالم میں وسعت اللہ خان صاحب نے تاریخ سے مختلف جرنیلوں کے حوالے دیئے ہیں جنہیں عین حالتِ جنگ میں فارغ کیا گیا تھا۔ وہ یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں کہ جرنیل بدلنے سے جنگ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ شکست اور جیت خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ سوال یہ اُٹھتا ہے کہ پھر یہ جرنیل تبدیل ہی کیوں کئے گئے۔ وہ ایک بات یہ بھی بھول رہے ہیں کہ جنگیں مختلف نظریات کے تحت لڑی جاتی ہیں۔وہی نظریات فوج،عوام اور سیاستدانوں پر حاوی ہوتے ہیں۔ جرنیلوں کی برطرفی کا حال تو انہوں نے بیان کر دیالیکن اُن حالات کا ذکر نہیں کیا جن حالات اور نظریات کے تحت وہ جنگیں لڑی گئیں۔حالات اور واقعات کے بغیر نتائج کا ذکر کرکے کوئی بھی بات ثابت کی جاسکتی ہے۔ یہی اُن کے اس مضمون کی خرابی ہے۔
وہ اپنے مضمون کا آغاز فرانسیسیمدبر، صحافی اور وزیراعظم جارج کلیمنشیوکے اس جملے سے کرتے ہیں کہ ’’جنگ ایک سنجیدہ کام ہے اسے جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا‘‘۔ اس جملے کے پیچھے حالت و واقعات کا ایک سلسلہ ہے۔اُسے سمجھے بغیر یہ جملہ کسی جرنیل کے بارے میں لکھنا سراسر نا انصافی ہے۔جارج کلی منشیوجب پہلی جنگِ عظیم کے دوران فرانس کا وزیراعظم بنا تویورپی ممالک جرمنی کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہو رہے تھے۔فرانسسی فوج ، عوام اور سیاستدان جرمنی کے آگے حوصلے ہار چکے تھے۔ جنگ میں فتح حاصل کرنا ناممکنات میں سے تھا۔ایسے موقع پر اُس نے قوم کو جیت کی نوید سنائی۔ میدانِ جنگ میں فوج کے اگلے مورچوں میں جا کر اُن کی حوصلہ افزائی کی اورقوم کو بتا دیا کہ جنگ اب بھی جیتی جاسکتی ہے۔فوجی جرنیلوں کی پھیلائی ہوئی شکست کی افواہوں پر پانی پھیر دیااور قوم کو بتایا کہ جنگ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اسے صرف جنگی نقطہء نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے۔ قوم کو شکست کے نتائج سے خبر دار کر دیا اور اُن میں جیت کا جذبہ پیداکر دیا۔
جنرل کیانی پر جارج کلیمنشیو کا اُصول لاگو نہیں ہوتا ۔ کیانی نے قوم اور فوج کو شدت پسندوں کے خلاف سوچ دی لیکن دوسری طرف اپنی شہرت کا غلط فائدہ نہیں اُٹھایابلکہ این آر او سے لیکر اب تک جمہوریت کو مضبوط کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔خالد بن ولید کا واقعہ بھی جنرل کیانی کے مدتِ ملازمت میں توسیع کے ساتھ بالکل منطبق نہیں ہوتا۔وہاں اُن کی شہرت خلیفہ کے مرتبے کے آڑے آرہی تھی یہاں معاملہ مختلف ہے جنرل کیانی کی شہرت اُن کی غیر معمولی پالیسی ہے یعنی فوج کو سیاست سے دور رکھنا اور جمہوریت کو پنپنے دینا۔
صدرابراہملنکن نے خانہ جنگی کے دوران اپنے سات جرنیل تبدیل کئے۔اس کی وجہ کیا تھی؟لنکن کے بہت سے فوجی افسران مستعفی ہو کر مخالف فوج میں چلے گئے تھے۔دوسری طرف خانہ جنگی میں کسی جرنیل کی وفاداری کا کوئی تعین نہیں کیا جا سکتا۔ اسلئیصدر لنکن بار بار اعلان کرتا ہے کہ یہ خانہ جنگی نہیں بلکہ جنگ ہے۔ اس کے علاوہ غلامی کے متعلق صدر لنکن کے ابتداء میں نظریات ڈواں ڈول تھے۔بار بار جرنیلوں کی تبدیلی کا یہی پس منظر تھا۔ اُس نے جتنے جرنیل تبدیل کئے ہر نئے جرنیل نے پچھلے کے مقابلے میں زیادہ خونخواری کا مظاہرہ کیا اور جنگ کو جیتنے کی کوشش کی۔پاکستان میں خانہ جنگی نہیں ہے بلکہ کچھ شدت پسند عناصر کی بغاوت کو دبایا جا رہا ہے۔ اور ان عناصر کے ساتھ فوج کی ا علیٰکمان کی کوئی ہمدردی نہیں جو اسلام آباد میں منتخب جمہوری حکومت کیلئے خطرہ بن سکے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ شدت پسند عناصرکے ساتھ نرمی کی جا رہی ہے لیکن یہ جنگی حکمتِ عملی ہے۔
وسعت اللہ خان صاحب نے جنرل میک آرتھر کی مثال دی کہ کس طرح صدر ٹرومین نے اُس جنگی ہیرو کو عین حالتِ جنگ میں فارغ کر دیا۔ لیکن وسعت اللہ خان صاحب ایک حقیقت تو بتانا بھول ہی گئے۔ وہ یہ کہ جنرل آرتھر تو 1937میں ریٹائرڈ ہو رہے تھے لیکن جاپا ن کی جنگی حکمتِ عملی کو ناکام بنانے کیلئے اُس کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی گئی تھی۔1951میں اُن کو امریکی پالیسیسے اختلاف کی بنا پر فارغ کر دیا گیا تھا جیسے حال ہی میں جنرل میک کرسٹل کو۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا پاکستانی فوج کیلئے مسئلہ نہیں پاک فوج کا کوئی بھی جرنیل یہ قابلیت رکھتا ہیکہِ اس جیسی جنگ کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے لیکن پاکستانی فوج میں شدت پسندی کے خلاف موجودہ سوچ کا اُبھرنا ، اِس کو عملی جامہ پہنانا اور اس سوچ کی حفاظت کرنا جن جرنیلوں کی محنت کا نتیجہ ہے جنرل کیانی کو اُن میں ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ تیس سال کی جہادی پالیسی سے ہمیں مالِ غنیمت کے طور پر کیا ملا؟ جہادی پالیسی کے بعد اس موجودہ نئی سوچ کو پروان چڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ چین، ایران اور انڈیا کے ہم پہلے اتنے قریب نہیں تھے جتنے آج ہیں۔ افغانستان کو انڈیا کے ساتھ تجارت کیلئے راہدری دینا اسی نئی سوچ کی بنا پر ممکن ہوا۔ جندواللہ کے لیڈروں کی گرفتاری میں پاکستانی اجنسیوں کا کردار ایک نئے پاکستان کی عکاسی کرتا ہے۔
ان سب حقائق کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا صدر مملکت جناب آسف علی زرداری کی مشاورت سے جنرل کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع اس بات کی عکاسی کر تا ہے کہ پاکستان کی حکمران جماعتوں کو فوجی نقطہء نظر سے جنگی حالت کا مکمل ادراک ا ور عالمی و علاقائی سیاست کی صحیح سمت معلوم ہے۔ ہم جرنلسٹ لوگ بعض دفعہ اصولوں کی کسوٹی پرواقعات کو پرکھ کرحقائق کو مسخ کر دیتے ہیں۔ جس طرح ماضی کے مسلمہ قوانین موجودہ مسائل کا حل پیش نہیں کر سکتے اسی طرح ماضی کے بہترین فیصلے بھی نئے حالات کے مطابق ضروری نہیں کہ عمدہ نتائج کا سبب بن سکیں۔
ایک جرنلسٹ کو صحافتی قوانین اور اُصولوں کا مکمل ادراک ہونے کے ساتھ ساتھ سیاستدان ، معیشت دان، مذہبی پیشوا اور فوجی کا کردار بھی نبانا ہوتا ہے۔ دو جمع دو چار کا قانون ہر جگہ ایپلائی نہیں ہوتا۔ جرنلزم کا مطلب ہی یہی ہے کہ پیچیدہ معاملات کو عوام الناس کیلئے آسان زبان اور قومی سوچ اور مفادکے ہم اہنگ بنا کر پیش کیا جائے ۔ یہی اصل صحافت ہے باقی ۔۔۔۔۔۔ آپ سمجھ تو گئے ہونگے!!

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s