تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی


فرمان نواز
امریکہ، پاکستان اور طالبان مثلث کی پہیلی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان شدت پسندوں گروپوں کی تشکیل امریکی سی آئی اے اور پاکستانی آئی ایس آئی کی کوششوں کی مرہونِ منت ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ان شدت پسندوں سے جو کام لیا جانا تھا وہ مکمل ہو چکا ہے یا ابھی رہتا ہے؟یہ گتھی سلجھاتے وقت مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب موجودہ حالات میں امریکہ ، پاکستان اور طالبان کے مقاصد کا تعین کیا جاتا ہے۔ایک نظریہ یہ ہے کہ شدت پسند امریکی اور بھارتی ایجنٹ ہیں اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔اس طرز کے سوچ پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر شدت پسند ایجنٹ ہیں تو پھر وہ امریکی فوج پر حملے کیوں کرتے ہیں؟اور امریکہ ان کو تباہ کرنے پر کیوں تلا ہوا ہے؟
کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ مذکورہ نظریہ کے ماننے سے ایک واضح تصویر نہیں بنتی جس پر سنجیدہ حلقوں کو مطمین کیا جاسکے۔کیونکہ اگر امریکہ طالبان کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے تو وہ پاکستان کو امداد اور قرضے کیوں دیتا ہے؟طالبان پر ڈرون حملے کیوں کرتا ہے؟اور پوری دنیا امریکہ کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ کیوں دیتی ہے؟یہ بات درست ہے کہ مطالعے کی کمی اور مقاصد سے بے گانگی کی وجہ سے اس طرح ایک واضح تصویر نہیں بنتی لیکن اسی مفروضے کو اُلٹا کرکے دیکھتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے تک امریکہ کا خیال تھا کہ آئی ایس آئی اور طالبان کے مضبوط روابط ہیں اور امریکہ جن معلومات کا پاکستانی فوج سے تبادلہ کرتا ہے وہ آوٹ ہو جاتی ہیں اور طالبان ڈرون حملے سے پہلے اُن ٹھکانوں سے ہٹ جاتے ہیں۔اب ان دانشوروں کے سامنے یہ سوال ہونا چاہئے کہ پھر امریکہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پرا عتمادکیوں کرتا ہے؟بار بار فوج سے مذاکرات کیوں کئے جاتے ہیں؟امریکہ پاکستان کو امداد کس خوشی میں دیتا ہے؟اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں کون ملوث ہیں؟پاکستانی ادارے تو پاکستانی حدود کے اندر طالبان کو پیشگی اطلاع دیتے ہونگے لیکن افغانستان کے حدود میں طالبان امریکہ کے چنگل سے کیسے نکل جاتے ہیں۔ہم یہ فوراََ مان لیتے ہیں کہ پاکستانی اداروں کے طالبان کے ساتھ روابط ہونگے لیکن سی آئی اے جس نے طالبان اور القاعدہ کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا ، کیا سی آئی اے اِن سے اپنے روابط توڑ چکی ہوگی؟ اگر پاکستانی عدالت یا انٹیلی جنس ادارے دہشت گردوں کو رہا کر دیتے ہیں(یقیناجس کی حمایت نہیں کی جا سکتی) تو ان دانشوروں کو اُن پر لاکھ اعتراضات ہوتے ہیں لیکن امریکی جیلوں سے سینکڑوں طالبان رہا کر دیے جاتے ہیں اور وہ واپسی پر طالبان کے سرکردہ رہنما بن جاتے ہیں، اُن پر اعتراض کی نوبت نہیں آتی۔اگر امریکی شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج سے لاتعلق بھی نہیں ہوتے اوراس کے باوجود ایک تصویر بنتی ہے۔تو پھر پاکستانی دانشور اور دبے الفاظ میں حکومتی اہلکاروں کا طالبا ن اور امریکہ کا گٹھ جوڑ ثابت کرنے پر ہمیں ایک تصویر بنتی نظر آنی چاہئے۔
اِس پہیلی کو سلجھانے کیلئے ہمیں واقعات کے نتائج پر دھیا ن دینا چاہئے۔طالبان کی کاروائیوں سے پاکستان غیر مستحکم ہوتا ہے یا امریکہ؟یقیناپاکستان۔طالبان کی کامیاب کاروائی سے اگر کسی نظریے کو تقویت پہنچتی ہے تو وہ امریکہ کی دہشت گردی کو بطورِ بین الاقوامی خطرہ کے باور کرانے کا ہے۔طالبان کے خاتمے سے اگرکسی قوت کا نقصان ہوتا ہے تو وہ پاکستان نہیں بلکہ امریکہ ہے۔کیونکہ اگر ہم یہ نظریہ مانتے ہیں کہ امریکہ ایک لمبے عرصے کیلئے اس خطے میں اپنی موجودگی چاہتا ہے تو پھر اِس کا جواز صرف اور صرف طالبان کی بقا ہے۔اگر کسی کو یہ وہم ہے کہ امریکہ افغانستان کی تعمیر نو کے بہانے بھی اس خطے میں رھ سکتا ہے تو اُن کا یہ خواب ٹوٹنا چاہئے کیونکہ تعمیر نو میں بین الاقوامی طاقتیں اپنا حصہ مانگے گی۔جس کی واضح مثال مڈل ایسٹ ہے جہاں امریکہ کو کویت اور عراق میں بین الاقوامی طاقتوں کے نخرے اُٹھانے پڑے۔
اگر افغانستان کے مسئلے کو ایک پٹی ہوئی قمیض تصور کیا جائے تو اس میں درجنوں سوراخ ہیں جس میں جتنے پیوند ڈالنے کی کوشش کریں گے یہ قمیض رنگ برنگی ہوتی جائے گی۔ ہمیں ہر واقعے کو دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کرنی چاہئے۔انفرادی واقعات اور اس کے نتائج اخذ کرنے سے واضح تصویر بنانا مشکل ہے۔کیونکہ سامراج کی پالیسی کے کے کئی پرت ہوتے ہیں۔ایک پرت کو دوسرے سے جدا کرکے دیکھیں گے تو سمجھ نہیںآئے گی۔ شدت پسند کو اگر اُجرتی قاتل تصور کیا جائے،امریکہ کو ایک سامراجی طاقت اور پاکستان کو موجودہ حالات میں مجبور، خوفزدہ اور اکیلا قوم پرست تصور کیا جائے تو اس پہیلی کی تصویر واضح ہونا شروع ہو جاتی ہے۔جس پر جتنی تحقیق کی جائے گی تصویر کے رنگ گہرے ہونا شروع ہو جائیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ امکانات اور مفروضات کو یکسر رد نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ سائنسی طریقہ کار میں مفروضات کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
کچھمہینے پہلے ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب پر خودکش حملہ کیا گیا۔ ایران نے الزام لگاتے وقت مجرموں کی فہرست میں پاکستان کا نام بھی ڈال دیا۔ اور اس کاروائی کو ایران مخالف ایجنسیوں کا مشترکہ منصوبہ قرار دیا۔ جن تجزیہ کاروں اور سیاستدانوں کا پہلے سے ذہن بنا ہوا ہے کہ امریکہ اور طالبان مل کر کام کرتے ہیں اُن کیلئے تو تجزیہ کرنا انتہائی آسان تھا۔ لیکن جو یہ گھٹ جوڑ نہیں مانتے اُن کیلئے واقعات کو ترتیب دینا مشکل ہوگیا۔ اور آخر کار وہی ہوا کہ انُوں نے بھی اس کاروائی کو امریکہ کی سازش قرار دیا۔ چونکہ امریکہ ایران میں پہلے سے تضادات چلے آرہے ہیں اس لئے اُن کو اب تصویربنتی نظر آئی۔ لیکن ان تجزیہ کاروں سے گزارش ہے کہ اب پہلی تصویر اور نئی تصویر میں ربط پیدا کریں ۔ ان کو تو امریکہ اور پاکستانی طالبان کا گھٹ جوڑ سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن اب امریکہ طالبان اور جندولہ کا ٹولہ ایک جگہ کیسے جمع ہو گیا؟

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s