افغانستان میں ہار جیت کی حقیقت


فرمان نواز
افغانستان میں جنگ کون جیت رہا ہے؟ اس کا جواب کوئی بھی نہیں دے سکتا۔لیکن مجموعی طور پر پوری دُنیا کی میڈیا کا موقف یہ ہے کہ امریکہ کو شرمناک شکست کا سامنا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی میڈیا خود بھی افغان جنگ کے متعلق سوالات اُٹھا رہا ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے اس شکست اور فتح کے اعلانات کے پیچھے مقاصد کیا ہیں۔افغانستان میں مختلف ممالک کا ان اعلانات کے پیچھیمقصد صر ف اور صرف اپنی پالیسی کیلئے جواز ڈھونڈنااور موقعے کا فائدہ اُٹھانا ہوتا ہے۔ جو فریق بھی اپنی شکست یا جیت کا اعلان کرتا ہے اس کے پیچھے اُس کے اپنے کچھ مقاصد کی تکمیل کا جواز ہوتا ہے۔
پچھلے دنوں زرداری نے جو برطانوی وزیراعظم کے انڈیا میں بیان کے بعد موقف اپنایا اور مغربی قوتوں کو شکست کا طعنہ دیا وہ اُس کا اپنا موقف نہیں تھا بلکہ اُس نے تو صرف مغربی میڈیا کے موقف کو دُھرایا تھا۔ مقربی میڈیا کچھ مہینے پہلے افغانستان میں شکست کا ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے اور پھر کچھ عرصے بعدطالبان سے مفاہمت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ امریکہ کی اس شکست کے اعلان کے پیچھے طالبان سے مفاہمت کا راز چھپا تھا۔ لیکن زرداری کا موقف یہ نہیں تھا بلکہ دُنیا کو یہ بتانا تھا کہ پاکستان کوئی تر نوالا نہیں جس کو آسانی سے نگل لیا جائے۔
ظاہری طور پر امریکہ ہمیشہ سے علاقے کی ترقی اور امن کا واویلا کرتا ہے لیکن علاقائی امن کی کوششوں کو ہمیشہ سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ افغانستان کے حالات کا ادراک رکھنے والے اس بات کو محسوس کر سکتے ہیں کہ جب کبھی علاقائی ممالک ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں تو امریکہ اور اُس کے اتحادی علاقے میں دہشتگردی کے خطرات کا روناروتے ہیں۔ حال ہی میں جب پاکستان اور انڈیا خدا خدا کرکے مذاکرات پر راضی ہوئے تو برطانوی وزیراعظم نے انڈیا جا کر پاکستان پر کیچڑ اُچالا۔ اس بیان کی سچائی سے کسی کو انکار نہیں۔ واقعی ہم اس کام میں ایک حد تو ملوث ہیں لیکن اس موقع پراس بیان کا مقصد پاکستان اور انڈیا کو ایک دوسرے سے دور رکھنا تھا۔ اس سے پہلے بھی وکی لیکس کی ریپورٹس منصوبہ بندی کے تحت شائع کرائی گئیں جس پر امریکہ برہم بھی ہے۔ میک کرسٹل کی انٹرویوں کا تو اشاعت سے پہلے امریکی حکام کو پتہ تھا لیکن وکی لیکس کا کسی کو بھی پتہ نہ چل سکا؟ بلکہ اب جب کہ وکی لیکس مزید کچھ رپورٹس سامنے لا رہا ہے تو پینٹا گون نے اشاعت سے پہلے وہ رپورٹس دیکھنے سے انکار کر دیا۔ اب اس کو کیا کہا جائے۔امریکہ نے دُنیا کو بیوقوف سمجھ رکھا ہے۔
اسی طرح جب پاکستان اور افغانستان تجارتی معاہدے پر دستخط کرتے ہیں تو اچانک حامد کرزئی پر امریکی بھوت کا بسیرا ہوتا ہے اور وہ اس بات پر حیرانی کا اظہار کرتا ہے کہ امریکی فوج پاکستان میں کاروائی کیوں نہیں کرتی۔ حامد کرزئی کو خوب پتہ ہے کہ یہ اتحادی افواج کا مینڈیٹ نہیں کہ وہ پاکستان میں گھس کر کاروائی کریں۔ امریکی ڈرون حملوں سے اگرچہ دہشت گرد ہلاک ہوتے ہیں لیکن اُن کا بھی خفیہ مقصد یہی ہے کہ قبائلی عوام مجبور ہو کر امریکہ سے رابطہ کریں۔ شاید وہ دن قبائل کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا آخری دن ہوگااور یہی امریکہ کی خواہش ہے۔ اس سے پہلے بھی جب پاکستان نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تو امریکہ طالبان کو ایک حقیقت مان کر اُن سے مفاہمت پر عمل پیرا ہوا۔مقصد واضح تھا کہ طالبان کو شکست سے بچایا جائے۔
پاکستان اور بھارت جب بھی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو امریکہ افغانستان سے انخلا کی باتیں شروع کر دیتا ہے۔ اس طرح پاکستان پھر سے افغانی طالبان سے توقعات وابستہ کر لیتا ہے اور اُن کیلئے افغانستان میں حصہ داری کی راہ ہموار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس سے بھارت کو اپنے مفادات خطرے میں محسوس ہونے لگتے ہیں اور اس طرح الزامات کا سلسلہ شروع ہو جاتاہے۔ دوسری طرف جب بھی پاکستان، ایران اور بھارت میں گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت ہونے لگتی ہے تو امریکہ بھارت کی طرف دوڑلگا دیتا ہے اور سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں ۔ اور پھر سے علاقائی ملاپ کی کوششیں خاک میں مل جاتی ہیں۔
جب آگ لگانے کا اور کوئی آپشن نہیں بچتا تو اُسامہ میدان میں کود پڑتا ہے اور امریکی خدشات کو سچ ثابت کر دیتا ہے۔ مُلا عمر کب پیچھے رہنے والا ہے وہ بھی ایک آدھ بیان داغ دیتا ہے اور اپنی موجودگی کا احساس دلا دیتا ہے۔ اُسامہ کا ارتکاز مغربی ممالک میں حملوں پر ہوتا ہے جس کے خدشات امریکہ بھی ظاہر کرتا رہتا ہے جبکہ مُلا عمر افغانستان میں طالبان کے کردار کی ترجمانی کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے دونوں مختلف ایجنسیوں کی ترجمانی کرتے ہوں۔ لیکن یہ سارا منظر کسی سسپنس سے بھرپور ڈرامہ سیریل کی طرح لگتا ہے۔
امریکہ کے شکست اور جیت کے اعلانات علاقائی ممالک میں پھوٹ ڈالتے ہیں کیونکہ وہ افغانستان میں مستقبل کے حوالے سے اپنے مفادات کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔دوسری طرف جب بھی طالبان مایوسی اور تھکن کا شکار ہوتے ہیں تو امریکہ اپنی کمزور پوزیشن کا اظہار کر دیتا ہے جس سے طالبان میں ایک ولولہ پیدا ہوتا ہے اور لڑنے کیلئے تیاری کرائی جاتی ہے۔ اسی طرح جب بھی اتحادی ممالک کی مزید امداد کی ضرورت ہوتی ہے تو امریکہ مایوسی اور کمزوری کی باتیں شروع کر دیتا ہے۔ امریکہ کی شکست سے ہمیں نفسیاتی خوشی تو مل سکتی ہے لیکن کوئی بھی اس خطے میں دہشت گردوں کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتا اس لئے علاقائی ممالک بھی امریکہ کی مضبوطی کی کوششیں شروع کر دیتے ہیں۔
امریکہ کی شکست کی باتیں تو سب کرتے ہیں لیکن کوئی یہ سوال نہیں اُٹھاتا کہ امریکہ کے شکست کے نتائج کیا ہونگے؟ امریکہ مقاصد کی تکمیل کے نہ ہونے کا دُنیا کو جواب کیا دے گا؟ یہ مشن مکمل کئے بغیر امریکہ کیا کوئی دوسرا مشن شروع کر سکتا ہے ؟ اگر یہ سوالات سمجھ آ جائیں تو امریکہ کے شکست اور جیت کے اعلانات بھی سمجھ آ جائیں گے

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s