تقسیم کرو اور حکومت کرو


فرمان نواز
ڈیوائڈ اینڈ رول ایک ایسی جامع سیاسی، فوجی اور معاشی حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے طاقت کے مراکز کو تقسیم کرکے حکومت پر قبضہ کی کوشش کی جاتی ہے۔ اِس حکمت عملی کے تحت بکھرے ہوئے طاقت کے ماخذ کو اکھٹا ہونے سے روک کر حکومت کو مستحکم کیا جاتا ہے۔قدیم رومن یہی ٹیکنیک اپنا کر حکومت کو دوام بخشتے تھے۔جدید دنیا کی تاریخ میں Triano Baccaliniاس اُصول کو سیاست کا ایک قدرِمشترک قرار دیتا ہے۔ اس ٹیکنیک کے ذریعے رعایا کو مختلف واقعات اور مفادات کے ذریعے منتشر رکھ کر کنٹرول کیا جاتا ہے اورمختلف گروہی طاقتوں کو متضاد مفادات میں الجھائے رکھا جاتا ہے۔ Michiavelliاسی اصول کو فوجی انداز میں بیان کرتا ہے۔ کہ دشمن کی فوج کو کیسے منتشر رکھا جائے۔مخالف سپہ سالار اور فوج کے درمیان شکوک و شبہات پیدا کرنا اور مخالف فوج کو مختلف اہداف کے ذریعے منتشر کرنا۔ ڈیوائڈ اینڈ رول ٹیکنیک کے بنیادی نقاط کچھ ایسے ہیں۔
۱) ایسی قوتیں جو حکمران کو للکار سکتی ہیں اُن کے درمیان انتشار کے بیج بونا۔
۲) اُن عناصر کی حوصلہ افزائی کرنا جو اپنی مرضی سے معاون بنتے ہیں۔
۳) علاقائی سرداروں میں پھوٹ ڈالنا۔
۴) ایسے اخراجات کی حوصلہ شکنی کرنا جس سے سیاسی اور فوجی مقاصد کیلئے درکار سرمایہ کم پڑتا ہو۔
اس ٹیکنیک کے ذریعے رومن اور انگریز نے بہت کم فوجی قوت کا مظاہرہ کر کے دور رس نتائج حاصل کئے۔ انگریز نے مقبوضہ علاقوں کے لوگوں کو مذہبی ، لسانی ، معاشی اورنسلی بنیادوں پر تقسیم کیا اور حکمرانی کے مزے لوٹتے رہے۔جرمنی اور بلجیئم نے راوانڈا اور Burundi پر حکومت کی۔ جرمنی نے Hutuاکثریتی گروہ کے مقابلے میں Tutsiاقلیتی گروہ والوں کو حکومت میں شامل کیا۔1916میں جب بلجیئم نے قبضہ کیا تو دونوں گروہوں کی تنظیمِ نو کی۔Tutsiاُن لوگوں کو قرار دیا گیا جن کی لمبی ناک تھی اور دس سے زیادہ گائے رکھتے تھے۔جبکہ Hutuاُن لوگوں کو کہا گیا جن کے دس سے کم گائے تھی اور ناک لمبی کی بجائے موٹی تھی۔یہ سماجی اور معاشی تقسیم آزادی کے بعد بھی برقرار رہی اور روانڈا کی نسلی فسادات میں یہ ایک اہم عنصر تھا۔
جب انگریز نے سوڈان پر قبضہ کیا تو شمالی اور جنوبی سوڈان کے درمیان آمدورفت پر پابندی لگا دی گئی۔جنوبی سوڈان کو نظر انداز کیا اور حکومت سے بے دخل رکھا۔یہی تضادات پہلی اور دوسری سوڈانی سول وار کی وجہ بنے۔1900سے 1960کے دوران برطانیہ نے نائجیریا کے مختلف علاقوں کو انتظامی سہولتوں کے نام پر اپنے مفادات کیلئے تقسیم کیااور Igbo جو کہ جنوب مشرقی نائجیریا اور Hausa جو کہ شمالی نائجیریا میں رہتے ہیں،کے لوگوں درمیان تضادات سے فائدہ اُٹھا کر اپنی حکومت مستحکم کی۔
1878میں روس اور ترکی کی جنگ سے فائدہ اٹھا کر برطانیہ نے معاہدہ کے تحت سائپرس پر اپنی گرفت مضبوط کی۔سائپرس بعد میں 1906میں بحری اڈابنا۔ جس کے ذریعے مشرقی بحیرہ روم اور سویز کنال پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔جو کہ انڈیا تک آنے کا بہترین راستہ تھا۔سائپرس میں یونانی اکثریت اور ترک اقلیت کو متحد ہونے سے روکا گیا اور اپنی گرفت مضبوط کی۔مشرقِ وسطیٰ میں عربی یہودی تضادات دہائیوں سے سامراجی قوتوں کیلئے آسان ہدف ہیں۔فلسطینیوں کو حماس اور فلسطین لیبریشن آرگینائزیشن میں تقسیم کرکے یاسر عرفات کے مشن کو کمزور کر دیا گیا ہے۔اسرائیل کے ذریعے عراق ، شام اور ایران میں کرد قومیت کا شوشہ پیدا کیا گیا۔یاد رہے کہ صلاح الدین ایوبی کا تعلق بھی کرد قوم سے تھا۔عراق میں شیعہ سنی تقسیم کی جا چکی ہے۔صدام حسین کی موت سے یہ تقسیم اور بھی گہری ہو گئی ہے۔عراقی اب امریکیوں کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔جبکہ امریکہ عراق کو شیعہ ، سنی اور کرد قومیت کی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔
یونائٹیڈانڈیا کے متعلق یہ کہنا کہ یہاں تقسیم کی سیاست انگریز نے شروع کی تھی ، ٹھیک نہیں ہوگا۔کیونکہ ہندوستانی سیاست میں تقسیم کا عمل انگریز کی آمد سے پہلے شروع ہو چکا تھا۔لیکن یہ تقسیم مذہبی بنیادوں پر کم اور حکمران خاندانوں کے درمیان زیادہ تھی۔ البتہ اس تقسیم سے انگریز نے خوب فائدہ اٹھا یا ۔ انگریز نے علاقائی طور پر تو انڈیا پر قبضہ کر کے متحد کر دیالیکن مذہبی بنیادوں پر ایک نئی تقسیم شروع کر دی۔ہندوستانی سیاست کے وہ تضادات جو کہ حکومت حاصل کرنے کیلئے استعمال ہوتے تھے ، اتنے زور پکڑ گئے کہ ہندو مسلم ریاستوں کے قیام پر بات آکر ٹہر گئی۔جو آگے جاکر ختم نہیں ہوئی بلکہ پاکستان ہندوستان اب بھی جنگ کے دھانے تک پہنچ جاتے ہیں۔لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ آج ہم ہندوستان کی تقسیم پر تو بات کرتے ہیں لیکن انگریز کی آمد اور حکومت پر کامیاب قبضہ کی وجوہات پر بات نہیں کی جاتی۔وہ کونسی وجوہات تھی کہ خصوصاََ مسلمان حکمران اپنی حکومت نہیں بچا سکے۔مثلاََ ٹیپو سلطان اور نظامِ حیدرآباد میں اتحاد کیونکر ممکن نہ ہو سکا۔کیونکہ ٹیپو سلطان کی موت کے بعد انگریز کیلئے کوئی قابلِ ذکر مخالف قوت نہیں رہی۔مسلمان قوم اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرنے سے کیوں کتراتی ہے؟ایک قوم جو مٹھی بھر بیرونی حملہ آور کا مقابلہ نہ کر سکی وہ اپنی مختلف مذاہب پر مشتمل رعایا کے حقو ق پورے کرنے میں کتنی مخلص ہوگی؟ان سوالوں پر ہمیں سوچنا چاہئے۔
ٍٍ انگریز نے تقسیمِ بنگال کے ذریعے ہندو مسلم فسادات کو ہوا دی۔انتظامی تقسیم کے بہانے بنگال کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا۔انگریز کا دوسرا وار ہندوستانیوں کو self ruleکا جھانسہ دینا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ separate electorateکے فلسفے کو بھی ہوا دی گئی۔مسلمانوں کے اس حق کو تسلیم کرنے سے تین سال پہلے ہی مسلم اکابرین نے مسلم لیگ کی بنیا رکھی تھی۔تقسیم بنگال کے ذریعے کمزور مسلمانوں کو اچھی مستقبل کے فریب میں پھنسا کر مڈل کلاس ہندو سے لڑایا گیا۔مقاصد پورے ہونے کے بعد انگریز نے اس نام نہاد اچھے منصوبے کو ختم کر دیا۔
پاکستان کی سیاست کا اگر مطالعہ کیا جائے تو انگریز کی وفادار فوج ہمیشہ برسرِاقتدار رہی۔چاہے آمریت کا دور ہو یا مارشل لائی جمہوریت کا فوج نے ہمیشہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنائے رکھی۔جب ضرورت پڑی تو مسلم لیگ کو تقسیم کیا۔اقتدار ہاتھ سے جاتا محسوس ہوا تو ملک تقسیم کر دیا۔اور پھر بھی حالات نہ سدھرے تو پیپلز پارٹی کو اقتدار سونپ دیا۔حالات بہتر ہوئے تو پھر مارشل لاء ۔اور جہاد کیلئے جماعتِ اسلامی کی خدمات حاصل کی گئی۔وقت پڑنے پر پیپلز پارٹی کو بھی تقسیم کر دیا۔اور آج پھر سے حالات کو ایسے نہج پر لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں رخنے پیدا کئے جا سکیں۔ لیکن اس بار یہ کام فوج نہیں بلکہ وہ قوتیں کر رہی ہیں جو پاکستان میں جمہوریت کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتی۔ لیکن یہ کافی خوشی کی بات ہے کہ ذرداری سیاست میں بہت سخت جان ثابت ہوا۔ 90کی دہائی میں ایسے حالات کا نواز شریف اور محترمہ بے نظیر مقابلہ نہیں کر پائے تھے۔ زرداری اگر اسی طرح مفاہمت پر کار بند رہا اور اتحادیوں اور اپوزیشن کے متضاد مفادات میں ہم آہنگی لا سکا تو اُمید ہے پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل روشن ہے۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s