معیشت کی دو بدلتی دُنیا ؤں کی کہانی


فرمان نواز
گلوبلا یزیشن کے اس دور میں دُنیامیں ایک گہری معاشی تقسیم نظر آتی ہے۔یہ تقسیم جی سیون ممالک کے معاشی مُستقبل اور سیاسی استحکام کیلئے دور رس نتائج کی حامل ہے۔اس تقسیم کے نتیجے میں ہمارے سامنے دو طرح کے ممالک نظر آتے ہیں۔ایک وہ جو ڈالر سسٹم کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں جس میں یورو زون کے ممالک بھی شامل ہیں اور دوسرے وہ ممالک جن کی معیشتیں ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں۔خاص طور پر برازیل،انڈیا ،روس، انڈونیشیا اور چین۔ان ممالک کا امریکہ پر برآمدات کے حوالے سے انحصار کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔کیونکہ یہ خود بھی بڑی منڈیاں ہیں اور نئے منڈیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔جس کا لازمی اثر امریکہ کے بطور واحد سپر پاور کا گراف آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہا ہے۔جس کی وجہ سے نئے اکانومک زون بننے کا رجحان زور پکڑتا جا رہا ہے۔
یورپی یونین اور امریکہ کے مقابلے میں چین، انڈیا ، انڈونیشیا اور برازیل کا ایک مثبت پہلو ان ممالک کی جوان، متحرک اور بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔پہلی جنگِ عظیم سے پہلے بریٹن اور فرانس کے مقابلے میں جرمنی کی معجزاتی ترقی کا راز بھی یہی تھا۔جس کی وجہ سے 1873کی برطانیہ کی گریٹ ڈیپریشن کے بعد لوگوں نے امریکہ امیگریشن شروع کی۔جی سیون ممالک کے رہنما بھی اپنی سُست معیشت کی وجہ ان ممالک کی بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دے رہے ہیں۔کیونکہ مغربی ممالک کی اپنی کنزیومر مارکیٹس سُکڑھ رہی ہیں۔ کیونکہ مغربی ممالک جن ممالک کو کنزیومر مارکیٹ تصور کئے ہوئے تھے آج وہ ممالک خود صنعتی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے ہیں۔
دو سال سے چین اور اس کے تجارتی پارٹنرز ڈالر سسٹم کے بگاڑ کے بعد متبادل کی تلاش میں مصروف ہیں۔امریکہ کی ڈگمگاتی معیشت مختصر مدتی نہیں بلکہ 65سال کی ناقص معاشی پالیسی کی عکاس ہے۔جی سیون ممالک کے قرضوں کا اگر ذکر کیا جائے تو امریکہ کا پبلک ڈیٹ جی ڈی پی کا 80فیصد ، اٹلی کا 100فیصد، جاپان کا 199فیصد،زمبابوے کا 218فیصد اور جرمنی کا جی ڈی پی کا 77فیصد ہے۔جبکہ دوسری طر ف انڈیا کا 58فیصد ، برازیل کا 45فیصد، انڈونیشیا کا34فیصد ، چین کا 18فیصد اور روس کا پبلک ڈیٹ ، جی ڈی پی کا 6فیصد ہے۔جبکہ روس آج 404بلین ڈالرکے فارن ایکسچینجکا مالک ہے۔جوکہ دنیا میں چوتھا بڑا خزانہ ہے۔ جی سیون ممالک کامعاشی زوال دو وجوہات کی بنا پر ہے۔ ایک طرف بڑھتے ہوئے قرضے اور دوسری طرف گھٹتی ہوئی آبادی۔آج چین ،انڈیا ، انڈونیشیا اور برازیل کی معیشتیں ترقی کر رہی ہیں اور وہاں کے نوجوان مستقبل کے متعلق نہایت پُر امید ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر مستقبل قریب میں دنیا کا جیوپالیٹکس کا محور بھی تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ آج فری مارکیٹ اکانومی اور یک رُخی گلوبلا ئزیشن کا ماڈل زوال کا شکار ہے۔پہلے بش اور اب اوباما امریکی زوال پذیر معیشت کو بچانے کیلئے بیل آوٹ کے مصنوعی ٹیکے لگا رہے ہیں جس سے حالات سدھرنے کی بجائے مزید خراب ہونے کے خدشات ہیں۔پچھلے دس مہینوں کے دوران امریکہ کا پبلک ڈیٹ 60فیصد سے بڑھ کر 80فیصد ہو چکا ہے۔اگلے تین سالوں میں ملازمین کی ریٹا ئرمنٹ اور بیروزگاری کے بعد امریکی پبلک ڈیٹ تقریباََ جاپان یا زمبابوے کے برابر ہو جائے گا۔کیونکہ ریٹائرڈ اور بیروزگار معیشت پر بوجھ بن جاتے ہیں۔
دوسری طرف اپریل میں انڈیا کی موٹر گاڑیوں کی سیل پچھلے سال کے مقابلے میں 4.2فیصد زیادہ رہی۔چین میں 2008کی پہلی سہ ماہی میں اشیائے ضروریہ کی سیل 15فیصد زیادہ رہی۔چینی میعشت کی نمو کیشرح رواں برس 8فیصد ، انڈیا 6فیصد اور انڈونیشیا کی 4فیصد رہے گی۔جبکہ امریکہ،یورپ اور جاپان کی معیشت سکڑھ رہی ہے۔سکڑنے کی شرح میں امریکہ کا سالانہ تناسب 6.1فیصد رہا، جاپان کا 15فیصد اور یورپ کا 9.6فیصد رہا۔یہ اعدادوشمار 1930کی دھائی کی یاددلاتے ہیں۔رواں سال امریکہ کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 13فیصد سے زیادہ تھا۔مغربی ممالک کے بینک تقریباََ دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔اس طرح کے حالات دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے تھے۔جبکہ2008کی آخری سہ ماہی میں انڈیا کے بینک منافع میں رہے۔چین کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 3فیصد رہا اور چین کے فارن ریزرو 2ٹریلین ڈالر کے قریب پہنچ چکے ہیں۔انڈونیشیا نے نو سالوں کے دوران پبلک ڈیٹ جی ڈی پی کے 100فیصد سے کم کرکے 34فیصد کر لیا ہے۔مغربی ممالک کے برعکس جہاں حکومتوں کے پاس یا تو پیسوں کی کمی ہے پھر نئے تخلیقی نظریوں کی،چین،انڈیا،برازیل ، انڈونیشیا اور روس کے پاس اب بھی معیشت کو بچانے کے کئی آپشنز ہیں ۔ اور ان ممالک کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔
آج امریکہ ایک امیرترین اور انتہائی طاقتور ملک ہے۔نہ صرف معاشی اعتبار سے بلکہ فوجی اعتبار سے بھی امریکہ کا پلہ بھاری ہے۔کوئی مانے یا نا مانے امریکہ ایک عظیم سُلطنت ہے۔روس جن معاشی جھٹکوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا، امریکہ ایسے کئی جھٹکے برداشت کرکے ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا۔لیکن جس طرح سولویں صدی کا سپین اور بیسویں صدی کا گریٹ بریٹن ، قرضوں اور سُست معاشی ترقی کے باعث زوال کا شکار ہوئے،آج امریکہ بھی اُنہی حالات میں گِھرا ہوا ہے۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s