تزویراتی گہرائی کا نیا تصور


فرمان نواز
جب ہمارے سیاست دان،بیروکریٹس، فوج، صحافی اور بیزنس کمیونیٹیپڑوسی ممالک میں پاکستان کے مفادات کی تکمیل، تحفظ اور گارنٹی نہیں دے سکتے توایسے مسلح گروپ کہ جن کو افغانی اور ہندوستانی دونوں ٹھکرا چکے ہوں ، کیسے ہمارے پڑوسیوں کو ہمارے آگے سر جھکانے پر مجبور کر سکتے ہیں اور ہمارے مفادات کے تحفظ کا بیڑا اُٹھا سکتے ہیں۔ یہی زمینی حقیقت ہماری گردن مروڑ کر ہمیں اپنی تزویراتی گہرائی کے تصور کو بدلنے پر مجبور کرے گی۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے عروج کے دِنوں میں بھی ہم نے کونسے خزانے پا لئے تھے۔ کیا ہم انڈیا کو کشمیر کے متعلق ہماری شرائط ماننے پر مجبور کر پائے تھے۔ کیا ہم دُنیا کو اس بات پر قائل کر سکے تھے کہ طالبان (جوکہ ہمارا، سعودی عرب اور امریکہ کا مشترکہ سرمایہتھے) پر حملہ نہ کیا جائے۔ بلکہ ہم طالبان پر اُس حملے میں امریکہ کے اتحادی بن گئے۔ آج تک ہمارا وسطی ایشیائی اقوام سے زمینی رابطہ نہیں ہوسکا اور نہ ہم کسی کو کرنے دیتے ہیں۔ ہمارا اپنا سرمایہ طالبان ہماری سلامتی اور ایٹمی ہتھیاروں کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ پاکستانی اور افغانی طالبان جو کہ آج فوج کی رحم دلی کا مزہ لے رہے ہیں، کوپاکستان نے آج نہیں تو کل دنیا کی خوشنودی کی خاطر ختم کرنا ہوگا۔ پاکستان کواس کینسر کا خود ہی علاج کرنا ہوگا اس سے پہلے کہ دنیا اوزاروں سمیت آپریشن کیلئے پہنچ جائے۔
کیا طالبان اسلحہ پھینک کر سیاسی جماعت بنانے پر راضی ہو سکتے ہیں؟ ہمارے پیارے پیغمبر نے بھی تو اکثر موقعوں پر انتہائی سخت شرائط کے ہوتے ہوئے بھی تو مفاہمت کی تھی۔حقیقت میں طالبان کبھی بھی ہمارا سرمایہ تھے ہی نہیں۔ ہم نے بس مغربی دنیا کے مفادات کیلئے ان کی پرورش کی۔ آج بھی اُن کی کاروائیاں افغانستان میں بیرونی قوتوں کی مستقل قیام کی وجہ بن رہی ہیں۔ جو ہم سوچ رہے ہیں وہ کبھی نہیں ہونے والا۔ طالبان کے ساتھ مفاہمت مغربی مفادات کے تکمیل کے کام ہی آئے گی۔
کیا ہم نے افغانستان میں طالبان کے علاوہ بھی کسی سے مفاہمت کا سوچا ہے؟ جس طرح حماس نے یاسر عرافات کی کوششوں پر پانی پھیر دیا تھا اسی طرح ہم نے کشمیر میں جہادی بھیج کر کشمیر کی حقیقی لیڈر شپ کو ناکام بنا دیا ہے۔ اسی طرح افغانستا ن میں طالبان کی حمایت کرکے ہم نے اُن پختونوں کی حمایت بھی کھو دی جو باچہ خان اور اُن کے پیروکاروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مولانا فضل رحمان اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کا افغانستان کے پختون بیلٹ میں کوئی اثرورسوخ نہیں۔
ہمیں اپنے تزویراتی گہرائی کے تصور کو بدلنا ہوگا۔ طالبان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے آج امریکہ اور نیٹو ہمارے پڑوسی بن چکے ہیں۔ جبکہ ہمارے پڑوسی اُسی افغانستان سے بزنس کرنا چاہتے ہیں جو ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے تباہ ہوا۔اگر ہمیں افغانستان میں دوست حکومت چاہئے تو ہمیں دوسروں کے مفادات کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔ ورنہ مغربی قوتوں نے تو وزیرستان اور بلوچستان میں ایسے حالات پیدا کر لئے ہیں کہ اب اُن کیلئے 1947جیسے حالات بنانا مسئلہ نہیں رہا۔ ہمارا کوئی بھی غلط قدم ہمارے پڑوسیوں کو مایوس اور پریشان کر کے امریکہ کا ہمنوا بنا سکتا ہے۔ کہ شاید اس طرح اُن کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک کوئی آسان راستہ مل جائے۔امریکہ آزاد بلوچستان بنا کروہاں ڈیرے جمائے تو کیوں نہ کوئی اور آن ٹپکے اور اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھولے۔ کیونکہ امریکہ جہاں بھی جاتا ہے مدِ مقابل قوتوں کو بھی کچھ نہ کچھ حصہ مل ہی جاتاہے۔
مغربی قوتوں نے دنیا کی تقسیم پہلے ہی کچھ ایسے کی ہے کہ اب اُن کیلئے دنیا کے ٹکڑے کرنا انتہائی آسان کام ہے۔ کُردوں کو دیکھ لیں ، یہ قوم ایران، عراق اور ترکی میں آباد ہے۔ بلوچی پاکستان ، افغانستان اور ایران میں آباد ہیں۔ پختون پاکستان اور افغانستان کا حصہ ہیں۔ بہت سی وسطی ایشیائی اقوام افغانستان میں آباد ہیں۔ پنجابی پاکستان اور انڈیا کا حصہ ہیں۔ بنگالی انڈیا اور بنگلہ دیش میں آباد ہیں۔ کسی بھی وقت مغربی قوتیں ساز باز کرکے 1947کی طرح پھر سے نفرت کی دیواریں کھڑی کر سکتے ہیں۔ بلوچستان کو مسلم دنیا کا مشرقی تیمو ر نہیں بننا چاہئے۔ اس سے ایران، پاکستان اور افغانستان تینوں غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔
سوال یہ اُٹھتا ہے کہ آخر ان حالات میں پاکستان کو کیا کرنا چاہئے۔ پاکستان کا نیا تزویراتی گہرائی کا تصور کیسا ہونا چاہئے۔ جواب بہت سادہ ہے۔ وہی جو ہم نے چین کے ساتھ کیا ہے۔ آج پاکستان کی مارکیٹوں پر چین کا قبضہ ہے۔ ضرورت کی ہر چیز چینی مصنوعات میں سستے داموں مل جاتی ہے۔ پاکستان کی صنعتی پیدوار ویسے بھی نہ ہونے کے برابر تھی اور رہی سہی کسر چینی مصنوعات نے پوری کر دی ۔ کاٹج انڈسٹری مکمل ختم ہونے کو ہے۔ لیکن آپ نے دیکھا ہوگا کہ مارکیٹ میں ایک شخص ایسا بھی تو ہوتا ہے جس کے پاس سرمایہ نہیں ہوتا لیکن اپنی عقل کے استعمال سے وہ خوب کماتا ہے۔ پاکستان کی مثال بھی اُس شخص کی سی ہے۔ ہمارے پاس سرمایہ نہیں لیکن ہمارا جغرافیہ ہمارا سرمایہ ہے۔ پاکستان کو ایک اچھے بروکر کی طرح اپنے سارے پڑوسیوں کے ضروریات اور مفادات کو سمجھنا ہو گا اور اپنے دروازے سب کیلئے کھولنے ہونگے۔ یہی ایک طریقہ ہے پاکستان کو بچانے کا۔ پاکستان کو پڑوسیوں کے متضاد مفادات میں ربط لاکر علاقائی ممالک کے قریب آنا ہوگا۔ یقیناًاس طرح پاکستان کا اعتماد بحال ہوگا۔
اب یہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت، جرنل کیانی اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں۔ایک ایسا پاکستان جو اس پورے خطے کی تقدیر بدل دے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ علاقائیممالک ہم سے تنگ آکر اپنی تقدیر بنانے کیلئے امریکی جال میں پھنس کر ہمارا جغرافیہ ہی نہ بدل ڈالیں۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s