پراکسی وار اور جہادی کلچر


فرمان نواز
فروری 1946کو لارڈ ویول نے سیکریٹری آف سٹیٹ فار انڈیا کو ٹیلی گراف بھیجا کہ سرحد، مغربی پنجاب، بلوچستان اور سندھ کو ملا کر ایک ایسا ملک بن سکتا ہے جو بریٹن کے ایشیا میں مفادات کی حفاظت کیلئے کافی ہوگا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد بریٹن کو ایسے ملک کی ضرورت تھی جو ایران میں اُن کے تیل کے مفادات کی حفاظت کر سکے۔یہاں سے پاکستان اور اور بریٹن کے مفادات مشترک ہو گئے۔پاکستان کو اسلحہ چاہئے تھا اور بریٹن کو فوج۔بس یہاں سے نان سٹیٹ ایکٹر کی وبا بھی پھوٹ پڑی۔1937میں انگریز کو یہ یقین کرا دیا گیا تھا کہ مسلمان فوج جو کہ انڈین آرمی میں 40فیصد تھے، جنگِ عظیم دوم میں انگریز کی وفا دار ہوگی۔اِس کے نتیجے میں 1940کے قرادادِ پاکستان کیلئے راہ ہموار ہوتی ہے۔اور 1942میں جب کانگرس’’ کویٹ انڈیا مومینٹ‘‘ کا آغاز کرتی ہے تو انگریز کیلئے مسلمانوں کی وفاداری اور بھی ضروری ہو جاتی ہے۔
پاکستان کے معارضِ وجود میں آتے ہی پاکستان کو دفاعی مجبوریوں کے باعث بیرونی امداد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔جس کا لازمی نتیجہ بیرونی مفادات کی حفاظت کی صورت میں نکلتا رہا۔یہاں تک کہ 1949میں ’’ ایکسر سائز سٹالن‘‘ کے نام سے روس کے خلاف فرضی جنگ لڑی گئی جس پر پاکستانی فوجی اور سیاسی لیڈرشپ اعتراض نہ کر سکی۔پاکستان کی سیٹو ، سینٹو اور افغان جنگ میں شمولیت اِسی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ نومبر 1947میں سردار نجیب اللہ خان ظاہر شاہ کے حکم پر بطورِ خاص سفیر پاکستان آئے اور تین مطالبے پاکستانی حکومت کے سامنے پیش کئے۔سرحد اور فاٹا کو خودمختا ر سٹیٹ بنایا جائے۔پاکستان افغانستان کو مغربی بلوچستان کے راستے سمندر تک سپیشل راستہ دے یا پھر کراچی میں فری افغان زون بنایا جائے۔پاکستان اور افغانستان مستقبل میں جنگ سے بچنے کیلئے معاہدہ کریں۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اُس وقت سنگین نوعیت اختیار کر گئے جب افغانستان بھارت کی مدد سے فاٹا میں پختونستان کے قیام کیلئے مختلف مسلح گروپوں کی فنڈینگ کرتا رہا۔60کی دھائی میں افغانستان کی فورسسز باجوڑ ایجنسی میں داخل ہوئیں۔
ان حالات میں بقا کیلئے پاکستان کو مذہبی نظریات کی ترویج کرنی پڑی اور جہادی گروپوں کو تیار کیا گیا۔یوں ابتدائی سالوں کے خطرات نے کمزور پاکستان کو اپنی بقا کیلئے اسلام اور جہاد کی پالیسی اختیا ر کرنے پر مجبور کیا۔اور قائداعظم کے سیکولر پاکستان کو قراردادِ مقاصد کے ذریعے مذہبی پاکستان میں بدل دیا جاتا ہے۔دوسری طرف تقسیم کے وقت برطانیہ کی خاموشی اور نااہلی پاکستان کو ایک کمزور اور مجبور ریاست بنانے کیلئے کافی تھی۔کشمیر کو متنازعہ بنا کر بریٹن نے پاکستان کو شروع ہی سے پراکسی وار لڑنے کا چسکا لگا دیا ۔ہتھیاروں اور وسائل کی کمی نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ کشمیر میں قبائلیوں کی مدد سے جنگ لڑے۔انڈیا ، افغانستان اور بریٹن کی پالیسیوں نے پاکستان کو غیر ادارتی طرزِ عمل اپنانے پر مجبور کیا جس کو پاکستان نے پھر بعد کے سالوں میں اپنی دفاعی پالیسی کا ناگزیر حصہ بنا لیا۔1947کی جنگ، 60کی دہائی میںآپریشن جبرالٹر ، 1965کی جنگ کی شروعات،1978سے لیکر 2001تک کی افغان جنگ اور 1998-99کی کارگل میں یہی سوچ کارفرما تھی۔
افغان جنگ کے دوران پوری اسلامی دنیا سے نوجوانوں کوجہاد کے نام پر بلایا گیا اور خوست میں ان کو ٹرینیگ دی گئی۔فلسطین کی حماس تحریک کی جڑیں بھی انہی ٹرینیگ کیمپوں سے ملتی ہیں۔کارگل کی جنگ میںیہی نوجوان کام آئے،1995میں بینظیر حکومت کا تختہ اُلٹنے میں بھی یہی نوجوان استعمال ہوئے۔یہی لوگ مشرف دور میں آزاد کرائے جاتے ہیں اور کابل کا رُخ کرتے ہیں۔اور آج وزیرستان کی شورش کی وجوہات بھی انہی نرسریوں سے جا ملتی ہیں۔اگر آج افغانستان تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے تو پاکستان کا دامن بھی جل رہا ہے۔پاکستان نے مذہبی مسلح جماعتوں کو تیا کیا اپنی حفاظت کیلئے لیکن آج وہی تنظیمیں مذہبی جواز بنا کر پاکستان کیلئے دردِ سر بنی ہوئی ہیں۔
پاکستان ہمیشہ سے اپنے مسائل بیرونی امداد سے حل کرتا رہا اور یہ امداد فوجی نقطہ نظر سے پاکستان کو دی جاتی تھی۔اس لیے فوج کو کبھی بھی سیاسی اداروں کا محتاج نہیں ہونا پڑا۔اسی وجہ سے سیاسی ادارے بھی کبھی مضبوط نہیں ہوسکے اور نہ فوج پارلیمنٹ کو جوابدہ رہی۔ کیری لوگر بل کی اگر ہمایت کی جائے تو یہی ایک نقطہ ہے کہ یہ امدار سیاسی حکومت کو مل رہی تھی۔فارن پالیسی ہمیشہ سے فوج کے ہاتھ میں رہی جس کا خمیازہ آج قوم اور فوج دونوں بھگت رہے ہیں۔جب تک ہم اپنی یہ سوچ نہیں بدلیں گے یہ خون کی ندیا ں بہتی رہی گی ۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s