جرنلزم ڈیپارٹمنٹس اور عملی صحافت کے تقاضے


فرمان نواز
برصغیر میں صحافت کی تربیت کی کی پہلی منظم کوشش1941-42کے دوران پروفیسر پی پی سنگھ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں کی۔لیکن تقسیم کے وقت پروفیسر پی پی سنگھ دھلی چلے گئے اور بعد میں چندی گڑھ منتقل ہوگئے جہاں پنجاب یونیورسٹی کا نیا کیمپس شروع کیا گیا تھا۔پروفیسر پی پی سنگھ نے یونیورسٹی آف میسوری University of Missouri))کے میسوری سکول آف جرنلزم جو کہ دنیا میں صحافت کی تدریس کاپہلا ادارہ ہے ، سے جرنلزم میں ایم اے کیا تھا۔آپ وہی نظریات لیکر لاہور آئے تھے اور آج تک پاکستان اور انڈیا کے صحافت کے تعلیمی ادارے اُن نظریات اور طریقوں سے جان نہیں چھڑا پائے۔بعد میں بھی صحافت کی تدریس میں وہی طرز اپنائے رکھا گیا۔اور بدلتے وقت اور تقاضوں کا ادراک نہیں کیا گیا۔
ماضی اور حال کے اکثر مشہور صحافیوں نے صحافت کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ جاب کے دوران کام کو سیکھا۔آج جتنے صحافت کے طالب علم کامیاب صحافی ہیں یہ اُن کی ذاتی کاوش کا نتیجہ ہے ناکہ اُس تعلیم کا جو اُس کو جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں دی جاتی تھی۔بلکہ اکثر کامیاب رپورٹرز کا تعلق جرنلزم کالجوں سے نہیں ہوتا۔ایک کامیاب رپورٹر اچھا لکھنے کے ساتھ ساتھ خبر حاصل کرنے کے ذرائع کا ایک وسیع نیٹ ور ک رکھتا ہے ۔یہ نیٹ ورک یا تو صحافی کی اپنی تعلقات کا نتیجہ ہوتا ہے یا اپنے ادارے کے مرہونِ منت اُس کو میسر ہوتا ہے۔کیا شعبہ صحافت طالبعلوں کو دورانِ تعلیم خبر کے مختلف مراکز میں متعارف کرا سکتا ہے؟نیوز سٹوری بنانا اتنا مشکل کام نہیں کہ اس کیلئے نوجوانوں کو ایک دو سال تعلیم دی جائے بلکہ خبر ڈھونڈ نکالنے کا تجسس اور اس خبر کو قابلِ فروخت بنانا اصل کام ہے۔
دو سالوں کے دوران طالبعلموں کو جو تعلیم دی جاتی ہے وہ صرف عملی صحافت کا ایک مختصر تعارف ہوتا ہے۔یہ تعلیم عملی صحافت کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ان دو سالوں میں آدھا وقت طالب علم کو میڈیا تھیوریز کو یاد کرنے میں لگ جاتے ہیں۔تحقیق کے حوالے سے ان نظریات کے پڑھنے کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں لیکن صحافت کی انڈسٹری کو جس قسم کے صحافی چاہئے اُس کیلئے ان نظریات کو پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ صحافت کی تدریس کیلئے ایسے نامی گرامی ایڈیٹرز اور رپورٹرز کی مدد لی جاتی جو صحافت کی تدریس میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہوں ۔کیونکہ اُن کوعملی میدان کے تقاضوں کا ادراک ہوتا ہے۔ اس طرح جرنلزم ڈیپارٹمنٹ عملی طور پر ایک اخبار یا نیوز چینل کا دفتر بن جاتااور طالبعلموں سے وہ سارے کام لیئے جاتے جو میڈیا کے آفس میں معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔لیکن حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ جرنلزم ڈیپارٹمنٹس کے اکثر اساتذہ کا عملی صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اس طرح صحافت کا طالبعلم صحافت کی تعلیم سے تو آشنا ہوتا ہے لیکن تربیت کے مرحلوں سے کوسوں دور ہوتا ہے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب وہ صحافت کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو دو وجوہات کی وجہ سے وہ عملی صحافت سے کٹ جاتا ہے، ایک تو انتہائی محنت اور دوم کم تنخواہ۔ محنت اس لیئے کرنی پڑتی ہے کیونکہ جوکام اُس کو دورانِ تعلیم سکھایا جانا تھاوہ اب اس کو سیکھنا پڑ تا ہے ، اب جو غلطیاں وہ کر رہا ہے یہ دورانِ تعلیم درست کی جا سکتی تھیں اور اُسے ایک خاص سمت میں کام کرنے کا اہل بنایا جا سکتا تھا۔
ٍٍٍٍ دُنیا پرنٹ جرنلزم کے دور سے نکل کر ڈیجیٹل اور سائبر جرنلزم کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔جبکہ یونیورسٹیوں کے جرنلزم پروگرام دھائیوں پہلے کے سیلبس پر عمل پیرا ہیں۔آج انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ہر شخص بلاگز کی شکل میں اپنے خیالات پیش کرکے صحافی بن چکا ہے۔ اس دور میں شعبہ صحافت کے محققین اور اساتذہ کو سوچنا ہوگا کہ صحافت کے طلباء کو دورانِ تعلیم کیا سکھایا جائے کہ وہ صحافت کی بدلتی دنیا میں جبکہ خبریں موبائیل فون پر دستیاب ہونے لگی ہیں،کیسے خود کو ایڈجسٹ کر سکیں۔شعبہ صحافت کو اپنا سیلبس جدید دنیا اور جدید صحافت کے تناظر میں بدلنا ہوگا۔اور اس کے ساتھ ساتھ عملی تربیت کا انتظام بھی کرنا ہوگا۔مثلاََ طلباء کیلئے کسی اخبار یا چینل میں انٹرن شپ کو کورس کالازمی حصہ قراردیا جانا چاہئے۔ حال ہی میں کچھ سالوں سے یونیورسٹیوں میں FMریڈیوسٹیشن کا انتظام کیا گیا ہے۔جہاں مختلف ادارے طلباء کو ٹرینیگ بھی دیتے ہیں۔ یہ ایک اچھی کوشش ہے ، اس کے ذریعے طلباء عملی طور پر ریڈیو جرنلزم سیکھتے ہیں ۔اُسے یہ تربیت مل جاتی ہے کہ سکرپٹ کیسے تیار کیا جاتا ہے۔لیکن کیا یہ ٹرینیگ طلباء کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ جدید میڈیا میں اپنی جگہ بنا سکے جہاں کا اُصول یہ ہے کہ خبر کو بطورِمیڈیا پراڈکٹ فروخت کیا جاتا ہے؟
شعبہ صحافت میں صحافت کا ایسا تربیتی ماحول فراہم ہونا چاہئے کہ طلباء خود کو ورکینگ جرنلسٹ تصور کرے۔اُس کے کام کا باقاعدہ مشاہدہ اور تجزیہ ہوتا رہے۔اُس میں ایسی صلاحیتیں پیدا کی جائیں کہ وہ خبر کو نیوز سٹوری نہ سمجھے بلکہ اُس کی نظر میں خبر کی نوعیت بطورِ میڈیا پراڈکٹ ہو جسے فروخت کرنا مقصود ہو۔طلباء کو ایسی تربیت دی جائے کہ یہ تسلسل اُس کی پروفیشنل زندگی تک برقرار رہے۔اُسے اپنے سماج کو سمجھنے کی بھی تربیت دی جانی چاہئے۔ ان دو سالوں کے دوران اُن کو ایسے تحقیقی کام دیئے جائیں کہ وہ معاشرے کے مختلف طبقوں سے میل جول رکھنے پر مجبور ہو۔ہر طالبعلم ایک مخصوص سوچ،مفاد،پس منظر اور خواہشات رکھتا ہے۔شعبہ صحافت طلباء کو ایسا ماحول فراہم کرے کہ ان کی ذاتی زندگی اُس کی صحافت کی زندگی پر اثرانداز نہ ہو اور وہ مختلف مزاج کے لوگون کیلئے لکھ سکے اور جرنلزم کے چیلینجز کا مقابلہ کر سکے، جیسا کہ آج کے صحافی کو بلاگز کا مقابلہ کرنا ہے۔اس ماحول میں صحافی ایک خبر کو ویلیو ایڈیڈ کیسے بنائے گا۔آج کنزیومرز کو خبر انتہائی سستے ذرائع سے مل جاتی ہے۔اخبار کے چھپتے چھپتے خبر کے مختلف پہلوعوام جان چکے ہوتے ہیں ۔ ایسے میں اخباری صحافت کو کیسے زندہ رکھا جائے؟یہ صرف اخبار کے مالکان کی ذمہ داری نہیں بلکہ شعبہ صحافت کو اس کے متعلق سوچنا ہوگا ایسا نہ ہو کہ اخبار ایک نایاب نوع(Endanger Species) بن جائیں۔
ایک جرنلزم ڈیپارٹمنت کو کیسا ہونا چاہئے اس کیلئے ایک سروے کی جا سکتی ہے۔جس میں شعبہ صحافت کے اُن فارغ التحصیل طلباء کو شامل کیا جائے جوکم از کم پانچ سالوں سے جرنلزم کی فیلڈ کے ساتھ منسلک ہیں۔ان طلباء میں Questionnaire تقسیم کیا جائے اور کچھ ایسے سوال پوچھے جائیں جیسے کہ وہ کس نوعیت کا کام کر رہا ہے اور دورانِ تعلیم کس قسم کا تجربہ اُس کے کام آرہاہے؟ عملی صحافت کیلئے طلباء کاذہنی پس منظر کیا ہونا چاہئے؟وہ اساتذہ جو عملی صحافت سے منسلک ہیں اُن سے کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟ کورس میں کونسی تبدیلیاں ہونی چاہئے؟ میڈیا اور ڈیپارٹمنٹ کے ماحول میں کیا بنیادی فرق ہوتا ہے؟نئے طلباء کیلئے کیا مشورہ دیں گے؟اِس سروے کے بعد اساتذہ، محققین ، ورکینگ جرنلسٹ اور دانشور مل کر ایک لائحہ عمل طے کر سکتے ہیں۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s