بخدمت جناب آصف علی زرداری صاحب، نواز شریف صاحب، اسفندیار ولی خان صاحب، مولانا فضل الرحمان صاحب،پرویز مشرف صاحب، عمران خان صاحب، الطاف حسین صاحب، منور حسن صاحب، چودھری شجاعت حسین صاحب، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری صا حب ،جنرل پرویزکیانی صاحب اور جنرل شجاع پاشا صاحب۔


By Farman Nawaz

بخدمت جناب آصف علی زرداری صاحب، نواز شریف صاحب، اسفندیار ولی خان صاحب، مولانا فضل الرحمان صاحب،پرویز مشرف صاحب، عمران خان صاحب، الطاف حسین صاحب، منور حسن صاحب، چودھری شجاعت حسین صاحب، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری صا حب ،جنرل پرویزکیانی صاحب اور جنرل شجاع پاشا صاحب۔

میں آپ سب صاحبان کو موجودہ کشمکش سے ہٹ کر کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ کیا کبھی آپ لوگوں نے سوچا ہے کہ ہم پاکستانی بغیر کسی ہمہ گیر سیاسی نظریے کے سیاست کے تجربات کر رہے ہیں؟ کرپشن سے پاک معاشرہ، قومی خودمختاری، عدلیہ کی آزادی، پارلیمنٹ کی بالادستی، اسلامی معاشرہ، مڈل کلاس کی بالادستی جیسے نعرے نظریات نہیں بلکہ اہداف ہیں۔ نظریات قوم کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ جیسے کہ دو قومی نظریے نے مسلمان قوم کو علیحدہ ملک کا ہدف دیا تھا۔ پھردو قومی نظریے نے قوم کو ہدف تک پہنچا دیا ۔ ہدف کے حصول کے بعد نظریات کی تجدید کی جاسکتی ہے جیسے کہ ماؤ نے ایک نظریے کی بنیاد پر انقلاب برپا کیا لیکن ڈینگ کو بعد میں یہ کہنا پڑا کہ بلی چاہے کالی ہو یا سفید مگر اُس کو چوہا پکڑنا چاہئے۔ 
 آج کیا اُسی دو قومی نظریے سے عوام کے دلوں کو گرمایا جا سکتا ہے؟ کیا دو قومی نظریہ اور انڈیا سے دوستی کی کوششیں ایک ساتھ چل پائیں گی؟ کیا دو قومی نظریہ اور اینٹی یو ایس پالیسی پاکستان کیلئے ایک ساتھ چلانا مفید ہے؟ اسی طرح کیا آج اقبال اور قائدِاعظم کے افکار نئی نسل کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں؟ میں یہ نہیں کہتا کہ پُرانے نظریات اور شخصیات کو ہم بھول جائیں یا تنقید کا نشانہ بنائیں بلکہ میں تو اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ چینی قوم کی طرح ہمیں بھی ایسی کسی بلی کی ضرورت ہے جو چوہا پکڑ سکے۔ 
 میں ایک مشنری سکول میں ٹیچر ہوں اور ایک افغانستانی انگریزی اخبار کیلئے آرٹیکلز بھی لکھتا ہوں۔ میں یہ کر سکتا ہوں کہ بچوں کو شدت پسندی سے دور رکھوں اور مذہب کے اندر رہتے ہوئے ماڈرن دنیا کی تہذیب سکھاؤں۔ مجھ جیسے شخص کے پاس اتنا ہی وقت ہوتاہے کہ روزی روٹی کا انتظام کر سکے۔ نظریات اگر ہم بنا بھی لیں تو اُن کے اداروں پر اثرات کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے ۔یہ آپ جیسے پروفیشنل لوگ کر سکتے ہیں۔ 
 آپ سب خود سے ایک بار ضرور پوچھ لیں کہ کیا ہمیں ایک نئے ہمہ گیرنظریے کی ضرورت ہے؟ ایک ایسا نظریہ جو فارن اور لوکل دونوں پالیسیوں کا احاطہ کر سکے۔ کیا اُس نظریے کے خدوخال وہی ہونے چاہئے جس کا تجربہ ہم پچھلی کئی دہائیوں سے کرتے آئے ہیں؟ یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ پُرانے نظریات کو پنپنے کا موقع ہی کب دیا گیا ؟ اگر یہ بات ہے تو قوم کو کم از کم یہ بتا دیں کہ ہم نے جو کیا وہ بغیر کسی نظریے کے تھا۔ اقبال اور قائداعظم کا ان اعمال (1949،1956،1962،1973اور ایک طویل سلسلہ)سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ قوم کو یہ بھی بتا دیں کہ ہماری سیاسی قلابازیاں بھی کسی نظریے کے تابع نہیں۔ میرے خیال میں نظریات کی تجدید کا وقت آگیا ہے۔ موقع بھی ہے اور دستور آپ لوگوں نے مل کر بنانا ہے۔ لیکن ایک ایسا نظریہ جو ہمارے مسائل کی نشاندہی بھی کرے اور حکمتِ عملی بھی تجویز کرے۔ جو نہ مذہب کا انکار کرے اور نہ سیکولر قوتوں سے نفرت سکھائے۔ جو اداروں کو اس انداز میں مضبوط کرے کہ آج جو کام سیاستدان انفرادی طور پر کر رہے ہیں وہ ادارے سر انجام دیں۔ کرپشن کا واویلا تو اسی لئے ہو رہا ہے کیونکہ ادارے مضبوط نہیں۔ پارلیمنٹ کی خودمختاری تو اس لئے چیلنج ہو رہی ہیکہ اداروں کے درمیان ٹکراؤ پیداہو رہا ہے۔ مسئلہ تو یہ بھی ہے کہ قانون ساز ادارے ترقیاتی کام بھی کر رہے ہیں۔ ترقیاتی کام اور معیشت میں کوتاہی کی سزا بھی پھر قانون ساز اداروں کو دینی پڑتی ہے۔ ایک ایسا نظام لایا جائے جو کرپشن کی سزا پارلیمنٹ کو نہ دے۔ 
 جس طرح دو قومی نظریے کا خوب پرچار کیا گیا اور پھر اہداف کا تعین کیا گیا اُسی طرح آج پھر سے ایک نئے نظریے (مثلاََ قومی ترقی کا نظریہ، عوامی ترقی کا نظریہ) کی تشکیل کی جائے اور پھر اُس کا خوب پرچار کیا جائے اور اہداف کا تعین کیا جائے۔ 
 اُس نظریے کے احیاء کیلئے کیا موجودہ سیاسی اور غیر سیاسی سیٹ اپ کارآمد ہو گا؟ کیا ہمیں نئے پارلیمانی یا صدارتی نظام کی ضرورت تو نہیں پڑے گی؟ جس کے دو ایوان ہوں۔ نظریاتی ایوان اور عوامی ایوان۔ نظریاتی ایوان کے ممبران عوامی ایوان میں موجود پارٹیز سے منتخب ہونگے لیکن ان ممبران کو ہمہ گیر نظریے کا پاسبان اور ماہر ہونا چاہئے۔ فوج بھی اس ایوان کا لازمی حصہ ہوگی تاکہ قومی سلامتی کے حوالے سے اُن کا موقف بھی کھل کر سامنے آئے اور مارشل لاء کا راستہ بھی بند ہو۔ عوامی ایوان کے ممبران گو کہ ہونگے تو سیاسی پارٹیز سے لیکن وہ ممبران معاشرے کے مختلف طبقوں کی نمائندگی کریں گے۔ بجائے اس کے کہ لوگوں کو صرف ووٹ کا حق دیا جائے یہ بہتر ہوگا کہ لوگوں یعنی ووٹرزکی درجہ بندی کی جائے۔ جیسے استاد، ڈرائیور، دکاندار، کسان ، وکیل وغیرہ۔ موجودہ سیاسی پارٹیا ں پھر ان درجہ بندیوں کے مطابق اپنے امیدوار میدان میں اُتاریں اور عوامی پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔ بجائے اس کے کہ حکومت میں آنے کے بعد سیاسی پارٹیاں اپنے کارندے سرکاری محکموں میں بھرتی کریں سیاسی پارٹیاں اپنی مدد آپ کے تحت سکول، اخبار، ٹی وی چینل،ہسپتال جیسے ادارے قائم کریں اور اپنے کارندوں کو روزگار فراہم کریں۔ ہیڈ آف دی گورنمنٹ کا انتخاب عوام ڈائریکٹ کریں ۔ کابینہ کا کوئی بھی ممبر قانون ساز اداروں کا رکن نہیں ہوگا اور کابینہ اپنے سربراہ سمیت قانون ساز اداروں کے سامنے جوابدہ ہو گی اور ہیڈ آف دی گورنمنٹ قانون سازی کیلئے قانون ساز اداروں کا محتاج ہوگا۔ ہیڈ آف دی سٹیٹ کا انتخاب عوامی اور نظریاتی ایوان کریں گے۔ہیڈ آف دی سٹیٹ عوامی اور نظریاتی مفادات کا پاسبان ہوگا۔ 
 ایک ایسے وقت میں جب آپ سب آنے والے الیکشن کے لئے کسی نہ کسی انداز میں تیاری کر رہے ہیں، مندرجہ بالا تجاویز شاید آپ کے دماغ میں جگہ نہ پاسکیں۔ لیکن فی الحال ایک کام آپ سب کر سکتے ہیں وہ یہ کہ االیکشن کے نظام کو شفاف بنانے کیلئے ان چند مہینوں میں متفقہ طور پر تجاویز دی جا سکتی ہیں۔ شفاف الیکشن کے لئے آپ سب کو قربانی دینی ہوگی۔ اگر الیکشن کے نظام پر آپ سب متفق ہو گئے تو اُمید ہے نئے نظریات کے لئے بھی آپ صاحبان ایک دوسرے پر اعتماد کرنا سیکھ لیں گے۔ ورنہ انقلاب کا راستہ تو عوام کیلئے ہمیشہ کھلا ہوتا ہے بس کمی ہے تو منظم انقلابی جماعت کی۔

 

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s