خان صاحب کو ننگا کرنے میں مزا آتا ہے


کبھی عمران خان جس سابق چیف جسٹس کی بحالی کو پاکستان میں آزاد عدلیہ کی
بنیاد قرار دیتا تھا آج وہی خان صاحب اُسی جج کو نواز شریف کا دھاندلی
میں دستِ راست قرار دے رہا ہے۔ پر سوال تو یہ ہے کہ خان صاحب پہلے جھوٹ
بول رہے تھے کہ اب کی بار سچ بول رہے ہیں؟
خیر پاکستان میں سیاستدانوں کا سچ جھوٹ پکڑنااتنا آسان نہیں کہ میرے جیسا
پارٹ ٹائم جرنلسٹ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرکے دکھائے۔ ہاں البتہ
انٹرنیٹ نے یہ آسانی پیدا کر دی ہے کہ اب پُرانے اخبار ڈھونڈنے لائبریری
میں سر نہیں کھپانا پڑتا۔ گوگل جناب کی مہربانی سے کسی بھی سیاستدان کے
خاص مواقع کی مناسبت سے بیانات ایڈوانس سرچ کے ذریعے کافی آسانی سے ڈھونڈ
نکالے جا سکتے ہیں۔
خان صاحب کی سیاسی کیریئر کا جائزہ لیں تو سب سے پہلے جو اُن کی سیاسی
بصیرت پر کالک نظر آتی ہے وہ اُن کا مشرف کا ساتھ دینے کا فیصلہ
تھا۔عوامی نیشنل پارٹی کے اجمل خٹک اور خان صاحب دونوں نے مشرف کی بی ٹیم
بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ دونوں کوبعد میں اپنی بے وقوفی کا اندازہ ہو گیا
تھا۔ اجل خٹک تو بعد میں سیاست سے تقریباََ کنا رہ کش ہو گئے لیکن عمران
خان کو جب موقع ملا تو اپنی توپوں کا رُخ اُسی مشرف کی طرف موڑ دیا جس کی
کبھی خود مارکیٹنگ کرتے تھے۔ بعد میں اس حد تک مشرف کی مخالفت کی کہ مشرف
کی حکومت میں انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا۔ بعد میں شکایت کرتے
پھرتے تھے کہ میاں صاحب ہمیں نہر والے پُل پر چھوڑ آئے تھے۔
عمران نے پہلے مشرف کا ساتھ دیا پھر مخالف ہوگئے ، جج کا بھر پور ساتھ
دیا اور پھر مخالف ہوگئے۔ دوبئی میں کسی تقریب کے دوران یہاں تک کہہ دیا
تھا کہ اگر جج کو بحال نہیں کیا گیا تو پورے پاکستان میں سوات جیسے حالات
پیدا ہو جائیں گے۔ یہ بھی کہا کہ زرداری جج کو اس لئیبحال نہیں کر رہے
کیوں کہ وہ جج کے انصاف سے ڈرتا ہے۔ جبکہ آج خود خان صاحبجج کی بے انصافی
کی کویتائیں سنا رہے ہیں۔ میر شکیل الرحمان ، سابق چیف جسٹس افتخار
چودھری اور نواز شریف کے ٹرائیکا کا فارمولا بھی خان صاحب نے دریافت کیا
ہے۔
خان صاحب کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ فیصلے سیاسی بصیرت
کی بنیاد پر نہیں بلکہ حالیہ موقع محل دیکھ کر مچلنے لگتے ہیں۔ بعد میں
اپنے کئے پر پانی پھیرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ مشرف کے 12اکتوبر کے اقدام
کی مخالفت نہیں کی، جج کے سیاسی مقاصد کی نشاندہی پہلے کبھی نہیں کی،
نیٹو کنٹینرز کا راستہ بند کیا لیکن کراچی جو خان کے اتحادی جماعت اسلامی
کا گھڑ ہے ، سے نیٹو کی سُپلائی بند کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی، طالبان
کو ہیرو بنا کر پیش کرتے رہے لیکن پھر خود ہی طالبان کے اندر ملک دشمن
عناصر کی دبے لفظوں میں نشادہی بھی کی، خود کُش دھماکوں کی ذمہ داری خفیہ
ہاتھ پر ڈالتے رہے لیکن مذاکرات خفیہ ہاتھ کی بجائے طالبان سے کرنے پر
زور دے رہے ہیں۔
خان صاحب کی ساری سیاست دوسروں کے کپڑے اُتارنے کی ہوتی ہے، یا پھر جس کو
کبھی پھولوں کے ہار پہنائے ہوتے ہیں اُس کو جوتے کے ہار پہنانے میں دیری
نہیں کرتے۔ مذاکرات کا شوشہ ختم ہونے کو ہے تو دھاندلی کا شور مچا رہے
ہیں۔ شاید بلدیاتی انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔ اب دھاندلی تو پاکستانی
سیاست کا حصہ ہے لیکن جب تک جیو بد نام نہیں ہو تھا اور جج رُخصت نہیں
ہوا تھا تب تک خان صاحب دھاندلی کیلئے مطلوبہ ملزم تلاش کر رہے تھے۔ اور
پھر اچانک یاد آیا کہ دھاندلی ٹرائیکا نے کرائی تھی۔ دھاندلی کے ساتھ
ساتھ آج پھر اُن کا بیان چل رہا ہے کہ وزیر ستان کو ملک سے توڑنے کی کوشش
کی جا رہی ہے۔ اب معلوم نہیں اُن کی اس سیاسی بصیرت کے پیچھے کو ن سے
نادیدہ حقائق کار فرما ہیں؟
ویسے خان صاحب کو ایک کریڈٹ تو جاتا ہے کہ جس جج کو انصار عباسی جیسے
جرنلسٹوں نے فرشتہ بنا دیا تھا خان صاحب نے اُس فرشتے کا بھی حسب عادت
ناڑا ڈھیلا کر دیا ۔ تاریخ میں خان صاحب کا جو بھی مقام ہو لیکن کوئی یہ
نہیں کہہ سکے گا کہ خان صاحب نے کسی کوبغیر ننگا کئے چھوڑا ہو۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s