کردار کے متلاشی عوام


By Farman Nawaz (Unpublished Article)

عوامی رائے جدید سماج میں حکمرانوں اور حکومتوں کا لائحہ عمل طے کرتی ہے۔ عوام صرف حکمرانوں پر تنقید نہیں کرتے بلکہ ملک کو باقاعدگی سے ٹیکس بھی دیتے ہیں۔ حکومت ٹیکس کے پیسوں سے عوامی فلاح کے کام کرتی ہے اور عوام کو جواب دہ ہوتی ہے۔ عوام کرپشن کا سُن کر سیخ پا ہوتے ہیں اور سیاسی جماعتیں کرپشن کی بنیاد پر نہ صرف اپنے ارکان کی رکنیت منسوخ کرتی ہیں بلکہ کرپشن کرنے والوں کو کھڑی تنقید اور عدالتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس کے برعکس ہمارے ہاں جو ہوتا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ہماری عوام کوملک کی اندرونی پالیسیوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ ہم سب کو ملک کی خارجہ پالیسی کی پڑی ہوتی ہے۔ہم ملک پر امریکی قبضے سے تنگ ہیں جبکہ خواہش امریکہ، اسرائیل اوربھارت پر قبضہ کرنے کی ہے۔ الیکشن کے دنوں میں عوام سے ووٹ بھی کم و بیش خارجہ پالیسی کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔کرپشن کرنے والوں کو چوک پر لٹکانے کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن الیکشن کے بعد نہ خارجہ پالیسی بدلتی ہے اور نہ کرپشن ختم ہوتی ہے۔
عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی مسائل میں فرق کرنے سے قاصر ہیں۔اجتماعی مسئلے لوڈشیڈنگ کارونا رویا جاتا ہے لیکن بجلی چوری کو انفرادی سطح اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں پر تنقید کی جاتی ہے لیکن حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا۔پچھلے انتخابات میں تمام اُمیدواروں کے کوائف الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ کون کتنا ٹیکس دیتا ہے۔ عوام ووٹ اُسی شخص کو دیتے ہیں جس سے انفرادی مسائل کے حل کی توقع ہو لیکن حکمرانوں کو اجتماعی مسائل کو حل نہ کرنے پر قابلِ گردن زنی سمجھتے ہیں۔ یکساں نظامِ تعلیم کی بات کرتے ہیں لیکن خواص کی تعلیم کی مغربیت سے نالاں ہیں۔ انڈین فلمیں دیکھی جاتی ہیں ، خواتین سے فیس بک پر دوستی کی جاتی ہے ، انگریزی گانے سُنے جاتے ہیں لیکن شام کو فیس بک پر یہ جملہ پوسٹ کر دیا جاتا ہے کہ تمام مسائل کا حل اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے۔ پیٹرول اور گیس کی مہنگائی کا رونا رویا جاتا ہے لیکن آج تک کسی نے اپنے سیاسی نمائندے سے یہ نہیں پوچھا کہ ہماریملککے نیچے جو دولت چھپی ہے وہ کیوں نہیں نکالی جاتی۔
عوام کی خواہشات اور عوام کے اعمال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کی یہ ذہنیت کیسے بنی؟تعلیم کی کمی کی وجہ عوام کی سیاسی نشونما تو ہوتی نہیں جبکہ سیاست صرف الیکشن کے دنوں میں کچھ سیاسی خطبے دیتے ہیں جوسیاسی نوعیت کے کم اور سبز باغ ز یادہ ہوتے ہیں۔ الیکشن کمپین یہی ہے کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جائیں۔سیاستدان اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد قرار دیتا ہے۔
مذہبی رہنماوؤں نے تو ایک عرصہ ہوگیا کہ عوام کی رہنمائی کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اُن کا مفاد یا تو عوام کو غصہ ور خدا سے ڈرانا ہے یا پھر اپنے اداروں یا پھر اپنے چہیتوں کے لیے چندہ اکھٹا کرنا ہے۔ جبکہ سیاسی مذہبی رہنماوؤں نے خدا کے نظام کی سیاسی قیمت مقرر کی ہوئی ہے۔دانشور جو عقل بانٹتا پھرتا ہے وہ آج کل بجائے عقل کے قوم کو جذباتیت کا راستہ دیکھاتا ہے۔منطق کی بجائے غیر منطقی گفتگو کے ذریعے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں تو دانشور برائے نام رہ گئے ہیں ۔ باقی بچے میڈیا کے دانشور اُن کی دانشوری کے حدود تو میڈیا مالکان طے کرتے ہیں۔
وردی والے جب بھی آتے ہیں تو بیرونی مفادات کی تکمیل کے بدلے اُن کو چندے میں ڈالر ملتے ہیں جس سے عوام میں یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ اُن کی طرزِ حکمرانی ٹھیک ہے کیونکہ سب سیڈیزکی صورت میں عوام کو کچھ ریلیف ملنا شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن وردی والے جیسے یہ رُخصت ہوتے ہیں تو عوام کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا ہے۔
عوام سب کو آزما چکے ہیں اور اب بے صبرے ہو رہے ہیں۔اپنے ہی منتخب نمائندوں کیلئے پانچ سال انتظار نہیں کر سکتے۔لیکن عوام جب تک اپنے انفرادی مفاد کو سامنے رکھ کر ووٹ کاسٹ کریں گے تب تک یہ عمل ایسے ہی چلتا رہے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اجتماعی مفاد کو ذہن میں رکھ کر سیاستدانوں کی درجہ بندی کی جائے۔جو سیاست دان اُس پر پورا اُترتا ہے اُ س کو دوبارہ موقع دیا جائے۔ جب تک ہم سیاسی پارٹیوں سے یہ اُمید لگائے بیٹھے رہیں گے کہ وہ نظام خود درست کر لیں گے تو یہ ماحول نہیں بدلنے والا۔نئی پارٹیاں نہیں بننی ، انہی پارٹیوں کو مجبور کرنا ہے کہ عوام کی فلاح کیلئے کام کرتے رہیں۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s