عورت کی بے وفائی خاندان کو تباہ کر سکتی ہے


 

فرمان نواز  جمعرات 10 جولائ 2014

میاں برادران کیلئے جہاز اور ائیر پورٹ کی بدشگونی کا تو سُنا تھا لیکن ایک عام لاہوری میاں(شوہر)بیوی کے ہاتھوں ایئر پورٹ پر خوار ہوگا ، اس کی توقع نہیں تھی۔پچھلے دنوں مسقط سے آنے والی فلائٹ میں دہشت گرد کے آنے کی اطلاع تھی۔ لاہوری میاں جس کا نام دلدار شاہ ہے، کی گرفتاری کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ساری سازش اُس کی بیوی سونیا نے اپنے آشنا کاشف، جو اُس کا پڑوسی بھی ہے ، کے ساتھ مل کر تیار کی تھی۔ 

دلدار حسین بھٹی مرحوم نے ایک بار منو بھائی سے پوچھا کہ حضرت آپ کو بیگم کس نام سے پکارتی ہیں۔ منو یا بھائی؟ منو بھائی نے جواب دیا کہ بیگم مجھے دلدار کہتی ہیں۔ لیکن ہمارے لاہوری دلدار شاہ کو بیوی دلدار تو کہتی رہی لیکن دلداری کسی اور کے ساتھ تھی۔  مرد کی بے وفائیاں اورعورت کی سماجی محرومیت ایک طرف لیکن اگر بیویاں اس طرح مردوں کو دھوکہ دینے لگ جائیں تو خاندانی زندگی کے تباہ ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔پھر کونسا مرد عورت پر اعتبار کرے گا۔ میں اپنی بیوی پر اس معاملےمیں ایسے ہی اعتبار کرتا ہوں جیسے ایک بچہ اپنی ماں پر کرتا ہے۔ شکوک شبہات پیدا کر کے میں نہ صرف اپنی زندگی تباہ کر دوں گا بلکہ اپنے بچوں کو بھی شاید نفسیاتی مریض بنا دوں گا۔

عورت پر اعتبار کرکے ہی بہترین زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ عورت سے مراد صرف بیوی نہیں بلکہ بہن بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ گھر کی عورتوں پر اعتبار کرکے ہی انسان سماجی اور تخلیقی کام کر سکتا ہے۔ لیکن اس طرح کے واقعات مردوں کے ذہن پر ایک غیر محسوس انداز میں اثر اندار ہوتے ہیں۔

مرد دوسری عورت کے بھوکے ہیں اس کے متعلق کچھ لکھوں گا تو مرد حضرات کے کمینٹس میری انا پر بوجھ بن جائیں گے ۔ لیکن اگر میں کہوں کہ عورتیں مردوں کی دیوانی ہیں تو یہ یقیناًمبالغہ آرائی ہوگی۔ لیکن بیوی کے آشنا کے ساتھ ملکر شوہر کے خلاف سازش  والی خبریں عورتوں کو معاشرے میں مزید تنہا کر سکتی ہیں۔عورت گھر کا مرکز ہے جس پر بچے طواف کرتے ہیں۔ مرکز ہی نہ رہے تو بچے کس کی پوجا کریں گے۔

مغرب نے عورت کو آزادی دی ہے اور مرد کے خلاف اُس کی آواز بھی سُنی جاتی ہے۔ لیکن مغربی عورت نے کبھی بھی بحثیتِ مجموعی مرد کی بے وفائی کو بنیاد بنا کر آشنا کے ساتھ تعلق کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش نہیں کی۔ عورت چاہے مغربی ہو یا مشرقی ، گھر کی مرکزیت اُسی سے ہے۔ مرد اور بچے سب ہی عورت کے گرد گھوم رہے ہوتے ہیں۔ بچے باپ کی کمائی پر ایک خاص عمر تک انحصار کرتے ہیں لیکن ماں کی مرکزیت عمر بھر قائم رہتی ہے۔

محبت اندھی ہوتی ہے ، یہ جُملہ حقیقت میں شاید کنوارے عاشقوں کیلئے کہا گیا ہوگا جو کسی کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئے محبت میں پاگل ہو جاتے ہیں۔ شادی شدہ لوگ محبت میں کیسے اندھے ہو سکتے ہیں؟ محبت تو ایک ساتھ کسی بھی صورت میں زندگی گزارنے کا نام ہے۔ طیارے میں سوار مسافروں کا کہنا تھا کہ دلدار شاہ کی دوران پرواز کئی مسافروں سے تلخ کلامی ہوئی اور اس کے چہرے پر پریشانی واضح تھی۔ بے شک عورت کی بے وفائی مرد کو پاگل کر دیتی ہے۔اب میں نہیں جانتا کہ دلدار شاہ کی زندگی محبت کے اندھے پن کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے یا اُس کے پیچھے کوئی اور ہی وجہ ہے۔

http://www.express.pk/story/270005/

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s