دہشت گرد تو ختم ہو جائیں گے لیکن اُن کے کے حمایتی نہیں‎


By Farman Nawaz (Unpublished Article)

 

جماعتِ اسلامی اور تحریکِ انصاف نے ہمیشہ ڈرون حملوں کی مخالفت کی ہے اور بے گناہوں اور معصوموں کے ناحق خون کا رونا رویا ہے۔ لیکن اب جماعتِ اسلامی اور تحریکِ انصاف سے سوال ہے کہ آپریشن ضربِ عضب کے دوران جو ڈرون حملے ہو رہے ہیں اُن میں کون مر رہا ہے؟
ڈرون حملوں کے مخالفین کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ ان حملوں میں بے گناہ اور معصوم قبائلی ہلاک ہوتے ہیں۔ لیکن نہ کبھی انہوں نے اس بات کا جواب دیا کہ اِن بے گناہوں کو پھر عام لوگ کیوں نہیں دفناتے اور نہ اس بات کا جواب دیا کہ ان بے گناہوں کے پاس دہشت گرد کیوں مردہ پائے جاتے ہیں؟
یقیناًاس بات کا اُن کے پاس نہ جواب ہے اور نہ دینا چاہیں گے۔ کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ ڈرون حملوں میں ہمیشہ سے دہشت گرد ہی مرتے رہے ہیں اور یا پھر وہ لوگ اور اُن کے بچے جنہوں نے دہشت گردوں کو پناہ گاہیں دی ہوتی ہیں۔ ابھی تک پاکستان میں جتنے بھی ہائی ویلیوں ٹارگٹ گرفتار ہوئے ہیں وہ سب نہیں تو اکثر ایک مذہبی سیاسی جماعت کے کارکنوں کے گھروں سے ہی گرفتار ہوئے ہیں۔ اور اب بھی جب حکومت نے دفاع پاکستان آرڈینینس کی منظوری دی تو کسی اور نے نہیں بلکہ صرف اُسی مذہبی سیاسی جماعت نے شدید مخالفت کی۔ ظاہر ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہوگا وہی سب سے زیادہ چلائے گا۔
نہ تو میں دفاع پاکستان آرڈینینس کی حمایت کر رہا ہوں اور نہ ہی ڈرون حملوں کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی اقدام کی مخالفت ہمیشہ سے دہشت گرد وں کی حمایت یافتہ لوگوں نے ہی کی ہے۔ ایک عرصے تک قوم کو اس بات سے دھوکہ دیا گیا کہ خود کُش حملے کوئی اور نہیں بلکہ بلیک واٹر کر رہی ہے۔ لیکن انہی لوگوں نے ہمیشہ یہ موقف بھی اپنایا کہ مذاکرات طالبان سے کرنے چاہئے۔بھئی کیوں؟ جب حملے بلیک واٹر کر رہی ہے تو مذاکرات طالبان سے کیوں؟ یہی لوگ پھر یہ موقف بھی اپناتے ہیں کہ خود کُش حملے ڈرون حملوں کا ردِعمل ہیں۔ لیکن ڈرون حملے تو اکثر افغان طالبان پر ہوئے ہیں جبکہ خود کُش حملوں کی ذمہ داری ہمیشہ سے پاکستانی طالبان نے قبول کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردوں کی حمایتی جماعتوں نے جتنا بھی عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی وہ بار آور ثابت نہ ہوسکی۔ اور آخر کار فوج نے سب کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔ یہ الگ مسئلہ ہے کہ فوج جس گھوڑے پر شرط لگا رہی ہے اُس کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔ افغانوں نے دس سال اس لئے جمہوریت کی حمایت نہیں کی کہ آخر میں طالبان کو موقع دیا جائے۔ اور ویسے بھی جو طالبان پاکستانی حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات نہیں کر سکے اُن کے بھائی افغانستان میں کیسے کامیاب مذاکرات کر سکتے ہیں۔ جو منصوبہ پاکستان میں کامیاب نہیں ہو سکا وہ افغانستان میں کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔
شدت پسندوں کو بچانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ نام نہاد جہاد کا تسلسل شروع کیا گیا ہے۔ جب ایک جگہ آگ ٹھنڈی پڑتی ہے تو دوسری جگہ نئی گیم شروع کر دی جاتی ہے۔ یہاں تھوڑا امن آئے گا تو شام اور عراق میں کھیل شروع کر دیا جائے گااور پھر سے نئی بھرتیاں ہو ں گی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے لوگ بھی نئے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s