ایک نئی مثال


فرمان نواز  جمعرات 25 ستمبر 2014

بھارت میں ایک خواجہ سرا پدمنی پرکاش کو ٹی وی نیوز اینکر کی جاب مل گئی، اور یہ تب ہی ممکن ہوا ہے جب بھارتی سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤ ں کو تیسری جنس تسلیم کیا ہے۔ پدمنی پرکاش کی عمر 31 سال ہے اور کافی عرصے سے وہ نہ صرف ٹی وی ڈراموں میں کام کرتی رہی ہے بلکہ خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے بھی کام کیا ہے۔

یہ خبر سن کر مجھے حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی، ساتھ ہی ذہن میں خیال آیا کہ کیا ایسا پاکستان میں بھی ممکن ہے؟ اس بات کا جواب دینے سے پہلے میں آپ کو ایک واقعہ سنانا چاپتا ہوں۔ کچھ سال پہلے میرا قبرستان جانے کا اتفاق ہوا تو جنازہ گاہ میں آٹھ دس لوگوں کو اکھٹے دیکھا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ کسی خواجہ سرا کی موت ہوگئی ہے جس کو دفنانے کے لئے خواجہ سرا جمع ہیں۔خواجہ سرا اپنے دوست کی میت کے ساتھ تصویریں بنا رہے تھے اور زار و قطار رو رہے تھے۔ اُن کا رونانقلی نہیں بلکہ اصلی تھا۔ لیکن یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ اُن کو اپنے دوست کی موت کا بہت زیادہ دکھ تھا یا یہ کہ وہ اُس کے اس چھوٹے سے جنازے کو دیکھ کر رو رہے تھے۔ ایسا جنازہ تو شاید لاوارثوں کا بھی نہیں ہوتا۔

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہم نے خواجہ سراؤں کو انسان ماننے سے انکار کردیا ہے۔ اگر نہیں تو یہ جنازہ کس بات کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ اس سے بڑے جنازے تو رشوت خوروں کے ہوتے ہیں۔حالانکہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہوتے ہیں۔ جو حدیث کی رو سے جہنمی ہے ہم اُس کی سفارش کیلئے تو جنازے میں شریک ہوتے ہیں لیکن خواجہ سرا جو قدرت کی تخلیق کا بہترین نمونہ ہے وہ ہماری نفرت کے نشانے پر ہیں۔

ہم بڑے منافق ہیں۔ ہمیں وہ حدیثیں تو یاد ہوتی ہیں کہ جانوروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا ہے لیکن خواجہ سرا جو خود بھی ایک انسان ہیں اُن کو ہم انسانیت کا درجہ نہیں دیتے۔ ہمیں ایک بادشا ہ اور چیونٹی والا واقعہ تو یاد ہوتا ہے کہ کیسے ایک باہمت چیو نٹی نے نااُمید بادشاہ کو کامیابی کا راستہ دکھا دیا لیکن جب میں نے سوال پوچھا کہ کیا خواجہ سراؤں کو پاکستان میں بھی باعزت کام کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو یقیناً بہت سے لوگوں کو میرا یہ سوال کانٹے کی طرح چھبنے لگا ہوگا۔

آخر کب تک ہم اس حقیقت سے نظریں چرائیں گے کہ خواجہ سرا بھی ہمارے معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اگر وہ ایسے کام کرنے پر مجبور ہیں جو عام طور پر پسند نہیں کئے جاتے تو اس کی وجہ خواجہ سرا نہیں بلکہ ہم خودہیں۔ ہم نے ان لوگوں کو معاشرے میں کوئی اور کام کرنے کا موقع ہی کب دیا ہے۔ناچتے گاتے یہ لوگ ہماری ذہنی اور سماجی پستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہم تو خود کو سب قوموں سے بہتر قوم سمجھتے ہیں لیکن خدا کی مخلوق کے ساتھ ہمارا برتاؤ جانوروں سے بھی بد تر ہے۔

کبھی آپ گوگل پرshemale کا لفظ تلاش کرکے دیکھیں یقیناً آپ کو حیرانی ہوگی، کیونکہ وہاں کوئی ایک ڈھنگ کا لنک یا ویب سائٹ نہیں ملے گی صرف بے لباس اور رقص کرتی تصویریں ہی نظر آئی۔ اس بات سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دُنیا میں یہ مخلوق مظلوم ہے۔ ہم پوری کائنات میں کسی دوسری مخلوق کی تلاش کرنے میں مصروف ہیں جبکہ زمین پر خواجہ سرا جیسی ’’دوسری مخلوق‘‘ ہماری بے حسی کا شکار ہے۔ صرف ایک بار ان کے بارے میں بھی سوچئے۔

http://www.express.pk/story/290775/

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s