مذہبی سیاست اور نیا پاکستان


پاکستان میں سب پارٹیاں پھر سے سیاسی دکان چمکانے کیلئے متحرک ہو گئی ہیں۔ کوئی انقلاب کا نعرہ لگا رہا ہے تو کوئی تبدیلی کا، کوئی جمہوریت کا تسلسل قائم رکھ کر دوام چاہتا ہے تو کوئی مذہب کا نعرہ لگا کر پھر سے عوام کو بے وقوف بنانا چاہتا ہے۔
لیکن اب شاید مذہب کے نام پر عوام دھوکہ نہیں کھائیں گے۔ضیاء الحق کے اسلامائزیشن اور ایم ایم اے کی سیاست کی وجہ سے بہت حد تک مذہبی سیاست دم توڑ چکی ہے۔ضیاء الحق نے عوام کو جہاد میں مصروف کر دیا لیکن اُس کا بیٹا اعجاز الحق امریکہ کی Southern Illinois University سے ایم بی اے کر چکا تھا۔ جب ضیاء الحق پاکستان میں جہاد کی بنیاد ڈال رہا تھا تو اعجاز الحق بحرین میں CityBankکا نائب صدر تھا۔CityBankسودی کاروبار کا سنٹر تھااور ضیاء الحق کا بیٹا اُس کا نائب صدر۔باپ کی موت تک اعجاز الحق سودی بینک کی ملازمت کرتا رہا اور پاکستان میں اسلامائیزیشن کا ڈرامہ چلتا رہا۔بلا سود بنکاری میں بھی باپ کا ہاتھ نہیں بٹا یا (بٹھایا)۔ عوام کی اولاد جہاد جہاد کھیلتی رہی اور ضیاء الحق کا بیٹا سودی بینک چلاتا رہا۔باپ کی موت کے بعد افغان جہاد میں شمولیت کی بجائے سیاست میں قدم رکھا اور وزارت کے مزے لوٹے۔
پیپلز پارٹی سے لاکھ اختلافات سہی ، بے نظیر سیکورٹی رسک سہی،زرداری کرپٹ سہی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھٹو جیسے قاتل اور شرابی کی قبر مزار کا منظر پیش کرہی ہے اور شاہ فیصل مسجد کے احاطے میں ضیاء کی قبر پر کوئی فاتحہ پڑھنے والا بھی نہیں ہوتا۔ لوگ شاید مذہبی سیاست کے لیڈروں کے خلوص اور منافقت میں فرق کرنا سمجھ گئے ہیں۔
ایم ایم اے کی سیاست نے بھی مذہبی سیاست کوختم تو نہیں کیا لیکن بدنام کر دیاہے۔بنوں جمعیت علمائے اسلام کا گھڑ سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں جمعیت کی سیٹ پر خانزم کا قبضہ ہو گیاہے۔بنوں سے اب JUIکی سیٹ پر کوئی خان ہی کامیاب ہوتا ہے۔ اس رجحان کے خلاف پچھلے الیکشن میں مولانا نسیم علی شاہ نے بغاوت کر دی تھی لیکن کامیابی نہ مل سکی۔بنوں کی چار صوبائی سیٹوں پر JUI کے صرف دو خان کامیاب ہو سکے اور باقی دو سیٹیں پیپلز پارٹی اور PTIکے حصے میں آئیں۔
مذہبی سیاستکے زوال کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ عمران خان سٹیج پر کھڑے ہو کر مولانا فضل الرحمان کو للکارتا ہے اور ڈیزل کافتوہ جاری کرتا ہے۔پاکستان میں مولانا کو اس طرح للکارنا اگر ناممکن نہیں تھا تو مشکل ضرور تھا۔عمران خان کی سیاست میں ہزار خامیاں ہونگی لیکن یہ کریڈٹ عمران کو ہی جائے گا کہ مذہبی سیاست کے سب سے بڑے ٹھیکیدارکو اُس نے چیلنج کیا۔نہ صرف چیلنج کیا بلکہ مخالفین کے سب فتوے عوامی حمایت حاصل نہیں کر سکے۔عمران خان کو یہودی ایجنٹ اور پلے بوائے تک کہا گیا لیکن عوام نے مولانا کی ایک نہیں سنی۔مولانا کے سب سے بڑے ہتھیار’’ فتوہ ‘‘کو عمران خان نے بے اثر کر دیا ہے۔
گوکہ عمران نے جماعت اسلامی کے ساتھ ہاتھ تو ملایا ہے لیکن جماعت اسلامی برانڈ کا اسلام عمران خان کی سیاست کے ساتھ میچ نہیں کھاتا۔عمران خان کے جلسے جماعت اسلامی کے اسلامی برانڈ میں فٹ نہیں ہوتے۔یہ ایک وقتی اتحاد ہے جو پنجاب میں عمران کی مقبولیت کے بعد ختم ہو سکتا ہے۔علامہ طاہر القادری بھی ایک مذہبی تنظیم کے بل بوتے پر سیاست کر رہے ہیں لیکن کسی دوسری مذہبی سیاسی پارٹی کی حمایت حاصل نہیں کرسکے۔
مذہبی سیاست پر پاکستانیت کے نظریات غالب آرہے ہیں۔عوام بھلا سیاستدانوں کی کرپشن سے عاجز آگئے ہوں لیکن مذہبی سیاسی عنصر پر اعتماد آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ ویسے کبھی کسی نے سوچا ہے کہ مولانا نے اپنا ترجمان(جان محمد خان اچکزئی) پینٹ شرٹ ٹائی والا کیوں رکھا ہے؟

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s