اسے قید کردو


 

فرمان نواز  جمعرات 13 نومبر 2014

خبر آئی ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے پُر کشش آنکھوں والی خواتین کو مکمل پردہ کرنے کا کہا ہے۔ اس حوالے سے کمیٹی کے ترجمان شیخ مُطلب نے کہا ہے کہ عورتوں کو پردہ کرانے میں زبردستی بھی کی جائے گی اور یہ کمیٹی (یعنی مردوں) کا حق بنتا ہے۔ یہاں یہ بات یاد دلاتا چلو کہ پچھلے سال سعودی حکومت نے یو اے ای کے ایک مردانہ وجاہت رکھنے والے ایکٹر کوبھی ملک بد ر کیا تھا۔ک یو نکہ اُس کی شخصیت خواتین کے حوالے سے شہری حکومت کیلئے مسائل پیدا کر سکتی تھی۔ اسی طرح ایران میں ایک عورت کو مردوں کا فٹ بال میچ دیکھنے کی خواہش پر سزا سنائی گئی ہے۔ ان خبروں کو ملا کر دیکھیں تو یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ عورت ایک ایسا انسانی جسم ہے جس کی خوبصورتی بھی شر ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ عورت کی آنکھیں خوبصورت ہیں تو وہ پردہ کرے لیکن مرد نہ اپنی نظر کی نہ حفاظت کرے اور نہ نگاہ نیچی رکھے۔ جن خواتین کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ کیا خوبصورت ہوتی ہیں؟ کتنے ایسے مرد ہونگے جن کو حکومتوں نے عورتوں کو دیکھنے کے جرم میں گرفتار کیا ہوگا؟ عورت کی نگاہ مرد کی طرف اُٹھ جائے تو عورت کے کردار پر فوراََ شک کیا جاتا ہے لیکن مرد اپنی نظریں کسی پر بھی جمائیں رکھیں اُ س کی خیر ہے۔ دیواروں پر وال چاکنگ کی گئی ہے کہ ’’ بے پردہ عورت شیطان کی ڈولی‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ دفتروں میں جو مردوں نے رشوت کا بازار گرم کیا ہے یہ کیا بے پردہ عورتوں کی وجہ سے ہے ؟ مرد سودی کاروبارکرتے ہیں، جس کے کئی ا سکینڈل منظر عام پر آچکے ہیں، تو کیا یہ شیطان کی ڈولی کی وجہ سے ہے؟ روزانہ درجنوں قتل ہوتے ہیں توکیا یہ بے پردہ عورت کی وجہ سے ہے؟ جسموں کا گھنا ؤنا کاروبار بے پردہ عورتوں کی وجہ سے ترقی کر رہا ہے یاکہ بے لگام مردوں کی وجہ سے ؟ قوانین پر قوانین بنائے جا رہے ہیں لیکن نفس کو کنٹرول کرنے کی کوئی پریکٹس نہیں کرائی جاتی۔ شیطان کی ڈولی اگر قابلِ نفرت ہے تو شیطان کے چیلوں کے متعلق پردہ داری کیوں؟

پاکستان کے بعض علاقوں میں عورت کو ووٹ ڈالنے کا بھی حق نہیں۔ اُن حلقوں کی حالت تو پھر پورے پاکستان سے بہتر ہونی چاہئے تھی کیونکہ وہاں سراسر عقل مند مردانہ ووٹ کاسٹ ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُ ن حلقوں کی حالت باقی تمام سے بھی بدتر ہے۔عورت پردہ کرے، عورت فیصلے نہ کرے، عورت نوکری نہ کرے،عورت کم عقل ہوتی ہے،عورت کا دماغ مرد کے مقابلے میں کم صلاحیت کا حامل ہے، عورت فتنہ ہے۔ چلو یہ سب مان لیتے ہیں۔ بلکہ عورت کے ذات کو ہی مٹا دیتے ہیں لیکن کیا مردوں نے ہزاروں سال میں سب کچھ ٹھیک کر لیا ہے؟ انسانی تاریخ کے بڑے بڑے حادثے کیا عورتوں کی وجہ سے ہوئے؟ کتنی جنگیں عورتوں کی وجہ سے ہوئیں ہیں؟مالی کرپشن کے بڑے بڑے ا سکینڈلوں میں عورتوں کا کیا کردار رہا ہے؟کیا پاکستانی کرپشن کی وجہ عورتیں ہیں؟ عرب ریاستیں ایک اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر پا رہی تو کیا یہ عورتوں کا قصور ہے؟ دہشت گردی کا مسئلہ کیا عورتوں کی وجہ سے ہے؟ کیا لوڈ شیڈنگ کی وجہ عورتیں ہیں؟عورت فتنہ ہے تو اسلام نے عورت کو کاروباری لین دین کے معاہدے میں گواہ بننے کی حیثیت ہی کیوں بخشی؟

انسانی نوع کے آدھے حصے کو قید کرنے سے کیا سارے مسائل حل ہو جائیں گے؟ سعودی عرب نے پر کشش آنکھوں کیلئے پردے کا قانون بنایا ہے لیکن غیر ملکی مزدور جو کفیل کے ہاتھوں مہینوں مہینوں تنخواہ کیلئے خوار ہوتے ہیں اُن کا کیاحل نکالا ہے؟ اقامہ کی تجدید نو کے متعلق فیس غریب مزدوروں کی کچھ مہینوں کی تنخواہ کے برابر ہے ، اس کا حل کب نکالا جائے گا؟ ہر سال کم عمر بچے اونٹوں کے ریس کیلئے عرب ممالک اسمگل ہوتے ہیں ، یہ جرائم کب کنٹرول ہونگے؟ ابھی تک کتنے اسمگلر گرفتار ہوئے ہیں؟ کتنے ایسے ا سمگلروں کے سر تن سے جدا ہوئے ہیں؟

اب ان سب دلیلوں کو ایک طرف رکھ لیا جائے گااور فتویٰ لگے گا کہ لکھنے والا کافر ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے جبکہ لکھاری پردے کامخالف ہے۔ لوگ یہ بھول جائیں گے کہ پارلیمنٹ میں بے پردہ خواتین اراکین سے ہمارے مذہبی رہنما تک ملتے ہیں لیکن چونکہ میں نے سماج میں مردانہ جرائم اور عورتوں کے پردہ کا تقابلی جائزہ لینے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے تو میں مجرم۔ اسلام نے پردے کا حکم دیا ہے یہ نہ صرف مجھے معلوم ہے بلکہ قبول بھی ہے لیکن اسلام نے عورت کو زندہ درگور کرنے سے منع بھی کیا ہے ۔ عورت کو پر دے کے نام پرقید ی بنانا زندہ درگور کرنے سے کم ہے کیا؟

حقیقت یہ ہے جس کے وجود کی وجہ سے تصویرِ کائنات میں رنگ ہے وہ وجود ہم سے برداشت نہیں ہوتا۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ جس کو ہم فتنہ کہتے ہیں ، جس کو ہم کم عقل کہتے ہیں، جس کو ہم فیصلے کرنے کا حق نہیں دیتے، جس کے دماغ کو ہم مرد سے کم صلاحیت کا تصور کرتے ہیں وہ ہماری ماں ہے۔ کم عقل ہے لیکن ہمیں پیاری ہے کیونکہ مرد کے مقابلے میں بہتر تربیت کرتی ہے، فتنہ ہے لیکن ہمارا خیال رکھتی ہے اور بچوں کو ہر فتنے سے بچاتی ہے۔ ہماری ماں کی پیاری آنکھیں کسی سے برداشت نہیں ہوتی تو جرم ہماری ماں کا نہیں دیکھنے والے کا ہے۔ عورتوں کو دیکھنے والوں کیلئے بھی کوئی قانون ہونا چاہئے یا نہیں؟

http://www.express.pk/story/302391/

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s