ہم زندہ قوم ہیں


By Farman Nawaz

’’ ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں‘‘ یہ ملی نغمہ پاکستان بھر میں نہایت مقبول ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم واقعی زندہ قوم ہیں ؟یا یہ ایک نغمہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔

علامہ اقبال نے کہا تھا؛

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں اُن کی تقدیریں

پاکستان بننے کے بعد ہم نے کتنی دفعہ اپنی تقدیر بدلی، یہ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ کیا بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم نے کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ سرانجام دیا ہے جو زندہ قوموں کا شیوہ ہوتا ہے ؟ کیا ہم نے کوئی ایسی مشین بنائی ہے جس کو دیکھنے جرمنی یا جاپان کی کوئی کمپنی آئی ہو؟

کیا ہم نے ایسا کوئی اخلاقیات کا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کو اپنانے یورپ کے مفکرین سوچ رہے ہوں؟ ہم کب تک دوسروں کے کارنامے اپنے نام لکھواتے جائیں گے؟اگر ملائشیا ، ترکی اور ایران کوئی کارنامہ سرانجام دیتے ہیں تو یہ اُن کے قومی جدوجہد کا نتیجہ ہوتا ہے۔ہم کب تک سینکڑوں سال پہلے کے کارناموں یا دوسروں کے کارناموں کے پیچھے چھپتے رہیں گے؟

شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس سوئی ہوئی قوم کو جگانے کے لئے اپنی زندگی صرف کر دی۔ بڑی مشکل سے یہ قوم جاگی اور بالآخر پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کردیا۔ مگر بد قسمتی دیکھئے کہ یہ قوم یہاں آکر پھر سوگئی ۔نہ انہیں اپنی خبر ہے اور نہ کسی اور کی۔ اس قوم کو اب مہنگائی ، بد امنی ، بے روزگاری تنگ کرتی ہے نہ لوڈ شیڈنگ۔ نہ ہی بھوک اور بیماری جگا سکتی ہے نہ سیلاب اور حادثے۔

ہماری زندہ دلی کی ایک یہ مثال ہی دیکھ لیں۔ یہاں باچا خان بھارتی ایجنٹ، بھٹو شرابی اور قاتل، بے نظیر سیکورٹی رِسک، زرداری مداری،شہباز شریف شوباز شریف، عمران خان یہودی ایجنٹ،ڈاکٹر عبدالسلام کافر، ڈاکٹر قدیرا سمگلر اور ملالہ مغربی ایجنٹ کہا جاتا ہے۔ ایک ایدھی بچے تھے وہ بھی دن دھاڑے لوٹ لئے گئے۔ کیا یہی زندہ قوم کی نشانی ہے ؟

ایک بارود کی جیکٹ اور نعرہ تکبیر
راستہ خُلد کا آسان ہوا پھرتا ہے
جانے کب کون کس کو مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

غربت کو ہم خدا کی مرضی سمجھ لیتے ہیں۔ حلانکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ فقر کفر تک پہنچا دیتا ہے۔تو بھلاکفرخدا کی مرضی کیسے ہو سکتی ہے۔خود کُش حملوں کو ہم بلیک واٹر کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن جب مزاکرات کا وقت آتا ہے تو مزاکرات بلیک واٹر سے نہیں بلکہ کسی اور سے کرتے ہیں۔ کرپشن اور رشوت خوری کو ہم نظرانداز کر دیتے ہیں۔ کرپٹ لوگ نہ صرف زندہ رہ کر مزے کرتے ہیں بلکہ مرنے کے بعد اُن کے جنازے بھی دیکھنے لائق ہوتے ہیں۔ہم پورا سال سیاستدانوں کو گالیاں دیتے ہیں لیکن الیکشن میں ووٹ نہیں ڈالتے۔ہر شخص امریکہ کو گالی دیتا ہے لیکن سب امریکہ جانے کیلئے تیار بیٹھے ہوئے ہیں۔

گفتار کے غازی ایسے ہی لوگوں کو تو کہتے ہیں۔ زندگی اور زندہ رہنے کا احساس صرف سانس لینے اور دل دھڑکنے کے سبب نہیں ہوتا۔ اس طرح توزمین پر کروڑوں مخلوق ہیں جو رزق پاتی ہیں اور زندہ ہیں۔ کیا ان میں اور انسانوں میں کوئی فرق نہیں؟ زندگی اپنے اندر محبت، مروت اور فرائض کی ادائیگی کے احساس کا نام ہے ۔درحقیقت بحیثیت قوم ہم سب سو رہے ہیں۔ جانتے بوجھتے ہوئے ہمیں پڑوسیوں کی بھوک نظر نہیں آتی، استطاعت رکھنے کے باوجود پھیلے ہاتھوں کو نظرانداز کرد یتے ہیں۔ بے بس اور لاچار لوگوں کو دیکھ کر ہم یونہی گزر جاتے ہیں۔  مظلوم کی سسکیاں، آہیں، آنسو ہم پر کوئی اثر نہیں کرتے ، دراصل ہم مردہ اخلاقیات والی زندہ قوم ہیں۔

روح کا کرب زمانے کو دکھانے کیلئے
جسم کو آگ لگاتے ہوئے مر جاتے ہیں
صور کو تکتا ہے حسرت سے اسرافیل کبھی کبھی
لوگ جب روٹی چراتے ہوئے مر جاتے ہیں

دوسروں کو تکلیف میں چھوڑ کر اپنی دنیا میں مست رہنا، یا دوسروں کو تنگ کر کے خوش ہونا، کیا جینا اسی کا نام ہے ؟ اگر یہی زندگی ہے توہمیں خوش ہونا چاہئے کیونکہ ہم ایک زندہ قوم ہیں ۔

http://www.express.pk/story/306853/

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s