کیا ہم ابراہیم کو تلاش کر پائیں گے؟


By Farman Nawaz (Unpublished Article)

آ ج کل یہ روایت بن چکی ہے کہ انتہائی سنجیدہ موضوعات جذباتیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مسائل کا حل ڈھونڈنے کی بجائے غیر منطقی دلائل کا جال بنا کر محفل لوٹنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔۔پچھلے دنوں موضوع ’’ یہ دور اپنے ابراھیم کی تلاش میں ہے‘‘ پر ایک تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔لیکن ہوا یہ کہ حضرت ابراہیم کی تلاش میں من پسند منظر نامہ پیش کرکے غیر حقیقی حل پیش کر دیا گیا۔
یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ عصرِ حاضر کی دھکائی ہوئی آگ سے کوئی چیز امان میں نہیں لیکن سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں صرف ابراہیم کی تلاش ہے یا اِس دورکے نمرود کو بھی ہم پہچان چکے ہیں؟ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ابراہیم کی تلاش سے پہلے ہم نمرود کو تلاش کر لیں؟اور کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آتشِ نمرود کی درست نشاندہی بھی کر لی جائے؟
لیکن افسوس صد افسوس۔ ہم تو ابھی تک حقیقی اور فرضی دشمن میں فرق کرنے کے بھی قابل نہیں۔ جس کو ہمارامیڈیا اُمتِ مسلمہ کا دشمن پیش کرتا ہے، اُس کے ساتھ تو مسلم دُنیا کا ہرملک تقریبا 50فیصد سے زیادہ کاروبار کرتا ہے۔اُس ملک کا ویزہ ہمارے لئے جنت کے پروانے سے کم نہیں۔ ایسی صورت میں اِس دور کے ابراہیم کو ڈھونڈ کر ہم کیا منہ دکھائیں گے؟
اسلام نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ختمَ نبوت کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب مسلمان قوم کو اپنے مسائل جماعت یعنی ٹیم ورک کی شکل میں حل کرنے ہونگے۔اسلام ہمیں ٹیم ورک کا درس دے رہا ہے اور ہم ابراہیم کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔
یہاں تک تو ٹھیک ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑ کر سماج کو نمرود کی غلامی سے آزاد کرایا ، بالکل ویسے ہی ہمیں آج اپنے بنائے ہوئے بتوں کو توڑنا ہوگا۔جس طرح حضرت ابراہیم نے بت پرستی پر مدلل حملے کئے بالکل ویسے ہی ہمیں آج کے سماج میں پھیلی جہالت کو ختم کرنا ہوگا۔
لیکن اس کے لئے ہمیں تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا۔لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم نے تاریخ کو بھی تالے لگا دئے ہیں۔ سب واعظ یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اس یوسف نے اپنے ملک کو کیا \”معاشی پروگرام\” دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے مرنہیں پایا۔ سب صرف یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت سلیمان کی بادشاہت اتنی دبدبے والی تھی کہ جنات بھی ان کے ماتحت تھے مگر کوئی نہیں بتاتا کہ وہ بے پناہ \”سیاسی بصیرت\” رکھنے والے بادشاہ تھے ،اپنے ملک فلسطین اور ملکہ بلقیس کے ملک یمن کے درمیان دو طرفہ معاہدات کے نتیجے میں خطے کو جس طرح خوشحالی دی آج کی جدید دنیا بھی اس کی مثال نہیں ملتی ۔سب واعظ صرف اتنا سا تو بتاتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ عبادت کیسے کرتے تھے اور مسواک کیسے استعمال کرتے تھے مگر اس سے آگے کبھی کوئی یہ نہیں بتاتا کہ جس معاشرے میں لوگ غربت سے تنگ آ کر لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت کرتے رہتے ، وہاں حضرت محمد ﷺ ایسی طرح \”ہمہ گیر تبدیلی\” لاتے ہیں کہ وہ وقت بھی آتا ہے کہ زکوۃ دینے والے تو بہت ہو گئے مگر کوئی غریب نہ رہا ۔ اُس وقت آدھی دنیا قیصر روم اور آدھی کسری ایران کے ظلم کا شکار تھی وہاں انسانیت کی تذلیل کرنے والا اور ان کر حقوق کو پامال کرنے والا کوئی نہ رہا۔
ہمیں انبیاء کے \”کردار\” کا صحیح تعارف چاہیے۔ کیا تھی وہ عیسٰی کی عدم تشدد کی حکمت عملی،کیا تھی وہ موسی کی فرعون کے خلاف آزادی کی تحریک،کیا تھی حضرت ابراہیم کی حنفیت ۔ کیا تھی یہود کی یہودیت، کیا تھی فرعون کی فرعونیت، کیا تھی نمرود کی آگ اور کیا تھی کفارِقریش کی اجاراداریت؟
آج کے اس دور میں ہم حکمت، تحقیق اور سائنس کا مقابلہ قیاس، مفروضوں اور ٹوٹکوں سے کرنا چاہتے ہیں۔ ہم غلیل سے جہاز کرانا چاہتے ہیں۔ ہم جہالت سے علم پر سبقت لے جانے کی توقع رکھتے ہیں۔ہم گھپ اندھیرے میں کالی عینک پہن کر کالی بلی پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس طرح کے جاہلانہ اور احمقانہ رویے رکھ کر کیا ہم ابراہیم کو تلاش کر پائیں گے؟

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s