میرے بچے میرے نونہال‎


کہتے ہیں کہ دُنیا میں نئے بچے کی آمد اس بات کی نشانی ہے کہ خدا ابھی مایوس نہیں ہوا۔سادہ معنوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تخلیق کا عمل جب تک جاری ہے تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ خالق ابھی مایوس نہیں ہوا۔بچے کی تخلیق کا عمل جس طرح خالق کے ارادے کی طرف اشارہ کرتا ہے بالکل ویسے ہی ہر نیا بچہ پیدائش سے پہلے ہی ماں باپ کیلئے اُمید کی کرن کا کام سرانجام دیتا ہے۔
ماں کے بطن میں ہی والدین اُس کی حرکات و سکنات دیکھ کر ایسے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے وہ بچے کے ساتھ کھیل رہے ہوں۔اور پھر جب یہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو والدین کی بے انتہا خوشی بچے کی فکر میں بدل جاتی ہے۔یہ تو ٹھیک ہے کہ بچہ ماں باپ دونوں کا ہوتا ہے لیکن بچے کے بننے کے پہلے دن سے ہی ماں کا خون بچے کے بدن کا جز بن جاتا ہے۔بچے کا گوشت ، اُس کی ہڈیاں،اُس کا خون، اُس کا دماغ بلکہ بچے کا سب کچھ ماں کے بدن سے ہی بنتا ہے۔پیدا ہونے کے بعد بھی بچہ اپنی بنیادی ضروریات ماں کے دودھ سے ہی پوری کرتا ہے۔
باپ کو بیٹے میں اور ماں کو بیٹی میں اپنا ماضی اور مستقبل دونوں دکھتے ہیں ۔ باپ بیٹے کو اچھا باپ بننے اور ماں بیٹی کو اچھی ماں بننے کی تربیت دیتی ہے۔ لیکن ماں باپ دونوں اپنا کردار وقتاََ فوقتاََ بدلتے بھی رہتے ہیں۔کبھی باپ ماں کا اور کبھی ماں باپ کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔مقصد صرف بچے کی تربیت کرنا ہوتا ہے۔یہ بھی خدا کی ایک نعمت ہے کہ اُس نے عورت کو مرد کی طرح کا دماغ نہیں دیا۔ بچہ باپ کے ساتھ دو دن اکیلے گزار لے تو اکتاہٹ کا شکارہو جاتا ہے ۔ لیکن ماں کے ساتھ بچہ ایک ہفتہ بھی گھر کے اندر بند ہو تو شکایت نہیں کرتا۔
پھر یہ بچے بڑے ہوتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرتے ہیں لیکن ماں باپ کیلئے بچے کبھی بڑے نہیں ہوتے۔بچپن میں اگر والدین کو یہ خوف ہوتا ہے کہ بچہ کہیں سیڑھی سے نہ گر جائے تو بڑے ہوکر وہی خوف یہ شکل اختیا ر کر لیتا ہے کہ کہیں بچے کا کوئی ایکسیڈینٹ نہ ہو جائے۔بچپن میں اگر یہ خوف ہوتا ہے کہ بچہ کہیں پانی میں نہ گر جائے تو بعد میں والدین کو یہ فکر ہوتی ہے کہ بچہ کہیں غلط سوسائٹی میں نہ گر جائے۔
بچہ جب سکول جاتا ہے تو والدین کو سو طرح کے وسوسے تنگ کرتے ہیں۔بچہ سکول وین سے آرام سے اُتر تو گیا ہوگا،بچہ کہیں واش روم میں بند نہ ہو گیا ہو، کہیں گٹر میں نہ گر گیا ہو،سکول کی چھٹی کے وقت کہیں ادھر اُدھر نہ چلا جائے۔جس طرح ماں باپ کیلئے روزانہ کے کام روزانہ ڑیپیٹ ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی بچے کی فکر روزانہ تنگ کرتی ہے۔
اور پھر ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ درجنوں بچے سکول میں سفاک درندوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔وہ خون جو والدین نے برسوں کی محنت سے بچوں کے جسم کا حصہ بنایا تھا وہ لمحوں میں زمین پر ایسے پڑا ہوتا ہے جیسے کسی نے جانور ذنح کئے ہوں۔وہ بچے جن کا معمولی بخار اور چوٹیں والدین کو رات بھر سونے نہیں دیتے وہ بچے خون میں لت پت پڑے ہوتے ہیں۔وہ بچے جن کی جھوٹ موٹ کی فرمائشیں بھی والدین پوری کرتے ہیں اُن کی فریاد اور التجاوؤں نے اُن درندوں پر کوئی اثر نہیں کیا۔
ایسے میں اسرافیل نے خدا کی طرف ایک بار تو ضرور دیکھا ہوگا۔صور پھونکنے کی التجا تو ضرور کی ہوگی۔اسرافیل میں یہ ہمت تو ہے کہ صور پھونک کر کائنات کو ملیامیٹ کر دے لیکن یہ منظر تو وہ نہیں دیکھ پایا ہوگا۔پھر جب ان بچوں کی لاشیں ماؤں نے دیکھی ہونگی تو اسرافیل نے صور پھونک دیا ہوگا ۔ ہم تو گونگے بہرے اور اندھے ہیں ۔ ہمیں سُنائی نہیں دیا ہوگا۔ماؤں کی چیخیں ’’منفوش‘‘ کی طرح ہواؤں میں بلند ہو تو رہی تھی، ماؤں کے دل پھٹ تو گئے تھے، وہ پیٹ جس میں یہ بچے نو مہینے پلتے ہیں اُن میں آگ لگ تو گئی تھی۔
جب اِن بچوں کی سفید پٹیوں سے بندھی تھوڑیاں اور انگوٹے ماؤں نے دیکھے ہونگے تو کہا تو ہوگا میرے بچے میرے نونہال۔۔۔

 

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s