مولانا شیرانی صاحب عورت کو تحفظ دینے کیلئے کوئی سفارش تیا ر کریں‎


یہ آرٹیکل میں نے 23تاریخ کو روزنامہ نئی بات بھیجا ۔ ایڈیٹر صاحب نے میرا آرٹیکل تو نہیں شائع کیا لیکن 24تاریخ کا ایڈیٹوریل اسی آرٹیکل کی روشنی میں تیا ر کیا۔ وہ رے پاکستانی جرنل ازم۔۔۔

مولانا محمد خان شیرانی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف دہشتگردی کے خلاف آواز اُٹھائی بلکہ شیعہ سُنی اتحاد کی بات بھی کرتے ہے۔اُن پر ماضی میں خود کش حملہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ دہشت گرد اُن کے بیانات سے خوش نہیں تھے۔
لیکن اُن کے بیانات بحثیت چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل اکثر میڈیا میں طوفان برپا کر لیتے ہیں۔ حال ہی میں اُن کا طلاق کے متعلق بیان نے نئی بحث شروع کی ہے۔گوکہ یہ بیانات مولانا کے ذاتی نہیں ہوتے بلکہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں لیکن چونکہ میڈیا کے سامنے وہ خود آتے ہیں تو ظاہر ہے سوالات کا سامنا بھی اُنہوں نے ہی کرنا ہوتا ہے۔
مولانا صاحب نے طلاق کے متعلق یہ سفارش حکومت کے سامنے پیش کی ہے کہ تین طلاقیں ایک ساتھ دینا خلافِ سنت ہے لہذا اس کو جرم سمجھا جائے۔لیکن ساتھ میں یہ بھی فرمایا ہے کہ تین طلاقیں ایک ساتھ دینے سے طلاق ہو جاتی ہے۔
مولانا صاحب سے مودبانہ گزارش ہے کہ اگر ایک طرف انہوں نے خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف تین طلاقوں والی روایت کی اس لحاظ سے نفی نہیں کی کہ بحرحال تین طلاقیں دینے سے طلاق ہو جاتی ہے۔ اب اگر ایک آدمی نے تین طلاقیں دینی ہی ہے تواُسے جرم کی کیا پروا۔ گو کہ اُن کے اس نئے موقف سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عورت کو فائدہ تو ہوگا لیکن عورت کو تو پھر بھی تحفظ نہ ملا۔ مرد کسی بھی وقت اُس کو تین طلاقیں دے کر فارغ کر دے گا۔ حکومت اُس کو آخر کیا سزا دے گی؟قید کر لے گی یا جرمانہ کر دے گی لیکن طلاق تو بحرحال ہو چکی ہوگی۔بنیادی مسئلہ تو عورت کو تحفظ دینے کا ہے۔
مولانا صاحب سے کم علمی کے باعث سوال کرنا چاہوں گا کہ کیا کوئی ایسی صورت نہیں نکل سکتی کہ تین طلاقیں ایک ساتھ دینے کے باوجود بھی وہ ایک ہی شمار ہوں۔بجائے الفاظ کے یہ ممکن نہیں کہ یہ تین مواقع تصور کئے جائیں۔ظاہر ہے مرد جب غصے میں آتا ہے تو اُسے یہ تو نہیں پتا چلتا کہ وہ اب احتیاط سے کام لے اور تین کی بجائے ایک دفعہ طلاق کہہ دے۔
مولانا صاحب آپ تو خود کُش حملے میں خدا کا شکر ہے سلامت رہے لیکن اگر آپ پر تین خود کش حملے یکے بعد دیگرے ایک ہی وقت کر دئے جاتے تو میرے منہ میں خاک لیکن شاید پھر آپ سلامت نہ رہتے۔ مرد کو تین طلاق کی تلوار دے کر آپ خواتین کی زندگی پر خود کش حملہ کی اجازت نہیں دے رہے کیا۔
مجھے یاد ہے کہ جاوید احمد غامدی صاحب ،جو کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے ہیں ، نے کہا ہے کہ جس طرح نماز، روزے، حج ، زکواۃ ، اور نکاح کیلئے نیت کی ضرورت ہوتی اسی طرح طلاق کیلئے بھی نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔غامدی صاحب کے نزدیک غصے کی صورت میں طلاق نہیں ہوتی۔)لا طلاق ولا عتاق فی غلاق۔۔۔ابوداؤد،رقم۳۹۱۲(
آپ سے گزارش ہے کہ جب غصے میں نکاح، نماز، روزہ، حج اور زکواۃ ادا نہیں ہوتے تو طلاق میں ہم غصے کا عنصر نظر انداز کیوں کر دیتے ہیں۔ یہ کیوں کہہ دیا جاتا ہے کہ طلاق تو غصے میں ہی ہوتی ہے۔مولانا صاحب طلاق کے معاملے میں غصے کے عنصر کے متعلق کوئی سفارش تیا ر کریں۔یہ آپ کا قوم پر ایک ایسا احسان ہوگا جو قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔خدا را اس کام کیلئے اجماع کا انتظام کیجئے ۔ بہت سی عورتیں طلاق یافتہ ہوکر جیتے جی جہنم کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔آپ کا یہ اقدام مسلم اُمہ کیلئے ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s