قدامت پرستی کا مقابلہ مگر کیسے؟


By Farman Nawaz (unpublished Article)

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ قدامت پسند ذہنوں کو آزاد معاشروں کی مثالیں دیکر شکست دینا ناممکن تو نہیں لیکن پاکستانی معاشرے میں مشکل ضرور ہے۔ یہ لوگ آزاد ذہنوں پر مستشرقین کا ٹپہ لگا کر بے اثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں وہ کامیاب بھی ہیں۔ قدامت پسندوں کو مذہب کے اندر رہ کر اور معروفات کو نہ چھیڑ کر ہی شکست دی جا سکتی ہے۔
اکبر علی ایم اے مرحوم کا نام اُردو صحافت میں روشن خیالی، سائنسی ذہن اور معیشت کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ مرحوم سے میری ذاتی ملاقات تو نہ ہو سکی لیکن میرے کچھ انتہائی قریبی دوستوں نے ملاقات کی تھی۔ مذہب اور لبرل ازم کے حوالے سے بحث اُن کی ملاقات کا بنیادی مقصد تھا۔ مرحوم بحث کے اختتام تک روشن خیالی سے جڑے رہے اور میرے دوست مذہب کے ساتھ وفا نبھاتے رہے۔ لیکن دونوں اطراف شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ رہے تھے۔ اس ملاقات میں مولانا خالد محمود مرحوم شرکت نہ کر سکے۔ مولانا صاحب افغانستان سے تعلق رکھتے تھے لیکن پاکستان میں پھلے بڑھے تھے۔ تحریکِ طالبان پر ایک کتاب بھی لکھ چکے تھے اور آخر میں میران شاہ میں نا معلوم افراد کے ہاتھوں مارے بھی گئے۔ انہوں نے جب اپنی کتاب کیلئے مرحوم اکبر علی ایم اے سے رابطہ کیا اور مقدمہ لکھنے کی خواہش ظاہر کی تو مرحوم اکبر علی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد مولانا کی طرف دیکھ کر کہا کہ میرا کبھی خیا ل نہیں تھا کہ ایک کٹر مذہبی آدمی اُٹھے گا اور میریتمام نظریات کو مذہب کا لبادہ اُڑھائے گا اور میری جن باتوں سے مذہبی لوگ نفرت کرتے ہیں اب ایک مولانا کی کتاب میں شوگر کوٹڈ گولیوں کی طرح نگلیں گے۔
مولانا خالد محمود کی بد قسمتی تھی کہ حالات کی نزاکت کا خیال نہیں کیا اور میران شاہ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مرحوم اکبر علی مذہبیت کے خلاف لکھتے رہے لیکن چونکہ مذہب سے باہر نکل کر کام کیا اس لئے مذہبی طبقہ اُن سے خوف زدہ نہیں تھا ۔ مولانا خالد محمود چونکہ مذہب کے لبادے میں روشن خیالی پھیلا رہے تھے اس لئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ورنہ مولویوں کے خلاف تو بہت سے لوگ باتیں بھی کرتے ہیں اور لکھتے بھی ہیں لیکن اکثر طبعی موت ہی مرتے ہیں۔ موجودہ حالات میں قدامت پرستی کو مذہبی اعتدال پسندی سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ مذہب کے اندر سے ہی دلیلیں تلاش کی جا سکتی ہیں اور قدامت پسندوں کے ذہن کو تھوڑا بھی جا سکتا ہے۔ لیکن اس کیلئے ٹیم ورک کی ضرورت ہے۔ انفرادی کام علمی کام کے طور پر تو ہو سکتا ہے لیکن سماج کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اکیلے لڑ کر مثال تو قائم کی جا سکتی ہے لیکن سماج کو بدلا نہیں جا سکتا۔ شاید اس لئے تو کہا گیا ہے کہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔
سچ کڑوا نہیں ہوتا بلکہ ہمار لہجہ اُس کو تلخ بنا دیتا ہے۔ قدامت پسندوں کی تقریباََ ہر بات کا جواب مذہب کے اندر سے ہی ممکن ہے۔اس جدید سماج میں بھی یہ لوگ نوٹ پر تصویر کے خلاف ہیں۔ لیکن سعودی عرب میں بھی تو شریعت نافذ ہے وہاں نہ صرف اُن کے نوٹوں پر انسان کی تصویر ہے بلکہ ایک ریال کے نوٹ پر تو کلمہ بھی لکھا ہوا ہے۔ یہ لوگ جنس کی تبدیلی کو حرام سمجھتے ہیں اور غیر واضح جنس کو غیر واضح رکھنا ہی پسند کرتے ہیں۔ لیکن جنس کی تبدیلی والی بات کو ْ جنس کے حقوق اور مذہبْ سے بھی نتھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ بچپن کی شادی کو حلال سمجھتے ہیں۔ بچپن کی شادی والی بات حضور ﷺ کی شادی کی عمر ، حضرت علی کی شادی کی عمر کے ساتھ تقابلی جائزے کے طور پر رکھی جا سکتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کمزور روایات پر توکوئی قانون نہیں بن سکتا ۔ زنا بالجبر کے مسئلے کو وائل ابن حجر والی حدیث جو ترمذی اور ابن داود میں موجود ہے، سے حل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری شادی اور پہلی بیوی سے اجازت کیلئے ہمارے سامنے حضرت علی کی دوسری شادی والا مسئلہ اور حضورﷺ کی حدیث (بخاری 4887) موجود ہے جس میں آپ ﷺ نے واضح طور پر کہا کہ جو بات فاطمہ کو تکلیف دے وہ میرے لیے بھی تکلیف دہ ہے ، فاطمہ میری ذات کا حصہ ہے۔ ویسے دوسری شادی کی نہ مذہبی لوگ مخالفت کرتے ہیں اور نہ لبرل۔ مسئلہ صرف پہلی بیوی کے حقوق کا ہے۔
عوام سماجی حوالے سے مذہبی ہیں تو مذہب کو ٹارگٹ کرنے کی بجائے ہمیں سماج میں مذہب کی بنیاد پر ہی تبدیلی کا سوچنا چاہئے۔ مذہب سے نکل کر بہت سے لوگوں نے کام کیا لیکن صرف بدنامی ہی کما سکے۔معاشرے کو تبدیل کرنے نکلے تھے لیکن اپنی شناخت گنوا بیٹھے اور سماج میں کسی کے ساتھ تعلق رکھنے سے بھی کترانے لگے۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s