پاکستان میں برین اَپلوڈنگ ٹیکنالوجی‎‎


بی بی سی کی ویب سائٹ پر خبر پڑھی کہ کالعدم تنظیموں کے ارکان کے جسم کے اندر مائیکرو چپس لگا کر اُن کی نگرانی کی جائے گی تو اس سوچ میں پڑ گیا کہ ان تنظیموں کے ارکان یہ چپس رضاکارانہ طور پر اپنے جسموں میں لگائیں گے یا اُن کو پکڑ پکڑ کر یہ کام کرنا پڑے گا۔دوسرے یہ کہ یہ چپ کہیں ایسی جگہ تو نہیں لگائی جائے گی کہ یہ لوگ خود اپنے جسم کو نوچ نوچ کر وہ چپ نکال ہی دیں۔اسی سوچ میں پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی ۔
خوابوں کی دنیا بھی بڑی عجیب ہوتی ہے۔انسا ن کو جو چیز یا بات پسند ہے یا جس چیز یا بات سے خوف محسوس ہوتا ہے وہی بات خواب میں ہوہی جاتی ہے۔مجھے خواب میں مائیکرو چپس تو نظر نہیں آئے لیکن ایک اور ہی نظارہ تھا۔ میں ایک ایسی لیبارٹری کا انچارج تھا جس میں انسا نی ذہن کو کمپیو ٹر پر اَپلوڈ کرنے کی ٹیکنالوجی موجود تھی۔یہ بہت اچھا ہے کہ خواب میں دماغ یہ سوال نہیں کرتا کہ تُو یہاں پہنچا کیسے۔ بس فکر تھی تو اس بات کی یہ ایک ایسا کام ہونے جا رہا تھا جس کے ذریعے انسان امر ہو جائے گا۔اب کس قسم کے دماغ مستقبل کیلئے محفوظ کئے جائیں یہ بات سب کو پریشان کئے جارہی تھی۔میں سب سے زیادہ پریشان اس لئے تھا کیوں کہ یہ کام میری نگرانی میں ہونا تھا۔
کھڑکی سے باہر جھانکا تو ایسا لگا میں یوٹیلیٹی سٹور کا منیجر ہوں۔ایک لمبی لائین لگی ہوئی تھی لوگوں کی جو اپنا دماغ مستقبل کیلئے محفوظ کرنا چاہتے تھے۔مزے کی بات یہ تھی کہ یہ لوگ سب لائین میں کھڑے تھے اور رجسٹریشن کروا رہے تھے۔لیبارٹری سے باہر آیا تو سب لوگ مجھے سلام پہ سلام کئے جا رہے ہیں۔ اتنی عزت پاکر میں شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔لیکن ساتھ میں یہ بات بھی بار بار دماغ میں آرہی تھی کہ اس ٹیکنالوجی سے تو دُنیا کے بہترین دماغ کمپیوٹر پراَپلوڈ کرنے چاہئے تھے۔ یہ تو عام لوگ تھے۔عام لوگوں کے دماغ میں تو عام باتیں ہی ہونگی۔جیسے کہ آج گھر کا راشن لانا ہے، جمیلہ کی شادی کیلئے پیسے جمع کرنے ہیں،شمائیلہ کو محبت والا میسجکیسے بھیجوں گا وغیرہ وغیرہ۔
اس سوچ میں گم میں اِدھرُ ادھر دیکھ رہا تھا تو یاد آیا کہ سکول کی اُردو کی کتاب میں بھی تو ایک ایسا ہی سبق تھا جس میں لوگ ایک میدان میں کھڑیتھے اور اپنی پریشانیاں بدل رہے تھے۔یہ بلکل ویسا ہی منظر تھا۔ لیکن وہاں تو لوگ اپنی پریشانیوں سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے جبکہ یہاں تو پریشانیاں محفوظ ہو کر ہمیشہ کیلئے امر ہو جائیں گی۔بس یہ بات میں لوگوں کو سمجھانا چاہتا تھا لیکن تقریر کرنے کا سوچ کر یہ میرے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہو جاتے تھے۔
ہر طرح کا شخص آیا ہوا تھا۔ہمارے محلے کا حاجی صاحب بھی لائن میں کھڑا تھا۔اُن سے فوراََ پوچھا حاجی صاحب آپ کیوں اپنا دماغ محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فوراََ اپنا پراجیکٹ پیش کر دیا۔بھئی مستقبل میں میرا دماغ روبوٹ میں لگا کر میں اپنے گھر والوں کو پانچ وقت نماز کی تلقین کروں گا۔میں نے دوبارہ سوال کیا اور آپ خود بھی نماز پڑھیں گے کہ نہیں؟ حاجی صاحب سوچ میں پڑھ گئے کیوں کہ یہ نہیں پتہ تھا کہ انسانی دماغ والے روبوٹ پر نماز واجب ہے کہ نہیں۔
کچھ دور زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگانے والے نوجوان بھی کھڑے تھے۔اُن سے دریافت کیا تو معلوم ہو کہ یہ حضرات مستقبل کی احتجاجی سیاست کیلئے روبوٹ ورکر بنانے کے چکر میں تھے۔ایک اسی نوے سال کی جوڑی بھی موجود تھی۔ اُن سے پوچھا کیوں ابا اماں جی آپ کا کیا پروگرام ہے۔کہنے لگے ہم نے لو میرج کی تھی اور سات جنم تک ساتھ رہنے کے وعدے کئے ہیں، مستقبل میں ہم روبوٹ کی شکل میں امر ہونا چاہتے ہیں۔میں نے سوال کیا کہ روبوٹ کی شکل میں بچے آپ کو قبول کریں گے؟ سوال سُن کر اُن کو اپنی محبت اور بچوں کی خوشحال زندگی میں ایک کو چننیکا خیال آیا۔
ایک جانے مانے صحافی بھی نظر آئے۔ اُن کے پاس بھاگ کر پہنچا اور سوال کیا ۔ آپ کیوں اپنا دماغ محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔موصوف نے اکھڑ کر جواب دیا، مستقبل کو مجھ جیسے لوگوں کی اشد ضرورت ہوگی۔ہم ہر دور میں حقائق کو منظرِ عام پر لائیں گے۔ میں نے سوال کیا کہ مستقبل میں تو کالم لکھنے نہیں پڑنگے کیوں کہ روبوٹ صحافیوں، سیائنسدانوں، سیاستدانوں وغیرہ کا ذہن توہر وقت انٹرنیٹ کے ساتھ منسک کر دیا جائے گا تا کہ وہ سماج کی چوبیس گھنٹے خدمت کر سکیں۔یہ بات سُن کو موصوف لائین سے باہر ہو گئے اور چلتے بنے۔
پریشانی کے عالم میں میں یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ مستقبل کیلئے کیسے ذہن کمپوٹر پراَپلوڈ کرکے محفوظ کئے جائیں۔وہ جو انسانی سماج کو ترقی کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں یا وہ جو اپنا ذہن دوسروں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔اگر ہم نے غلط ذہن ایک بار کمپیوٹر پر منتقل کر دئیے تو انسانی سماج کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔
اِسی پریشانی کے عالم میں میں اِدھر اُدھر بھاگ رہا تھا کہ کسی نے میرا ہاتھ زور سے پکڑ لیا۔مڑ کر دیکھا تو ہمارے نامی گرامی سب سیاستدان کھڑے مسکرا رہے تھے۔میں نے پوچھا آپ لوگ کیوں آئے ہیں۔سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا آپ کی پریشانی ختم کرنے۔ میں نے پوچھا وہ کیسے۔ جواب ملا ہم جمہوری لوگ ہیں مل بیٹھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ کس کا دماغ مستقبل کیلئے محفوظ کیا جائے۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے بے ہوش ہو رہا ہوں۔
دیکھا تو میرے بچے مجھے صبح جگا رہے تھے۔اُن سے میں نے خواب کی بات کی تو ہنسنے لگے۔کہنے لگے دوسروں کی فکر چھوڑو آپ اپنا ذہن ہمارے ذہنوں میں اَپلوڈ کر دو بس۔میری بیوی نے لیٹے لیٹے ہی حکم صادر کر دیا۔اپلوڈنگ سے پہلے اینٹی وائیرس اپ ڈیٹ کرلینا۔

 

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s