فتنوں اور فتوؤ ں کی سیاست کا مستقبل


تحریر: فرمان نواز

حال ہی میں جیو نیوز کی ویڈیو فیس بُک پر شئیر کی گئی ہے جس میں اکرام خان دُرانی نے پی ٹی آئی کو ایک فتنے سے تعبیر کیا ہے۔یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ دُرانی صاحب پی ٹی آئی کے خلاف بولے ہوں۔ الیکشن کے دوران بھی دُرانی نے ریحام خان کے حوالے سے گفتگو کی تھی۔
مخالف پارٹی کے خلاف بولنا جمہوری حق ہے۔یہ حق سب کو حاصل ہے لیکن کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہر شخص کو زیب نہیں دیتی۔ جے یو آئی کے کارکنوں نے  ماضی میں بھی لوگوں کے خلاف کفر کے فتوے لگائے ہیں لیکن یہ کام مولانا فضل الرحمان نے خود اپنی زبان سے نہیں کیا ۔
بنوں میں پی ٹی آئی کے خلاف بات کرنا اکرم خان کا جمہوری حق ہے۔ اُنہوں نے چیف منسٹر پر الزام لگایا کہ وہ بریف کیس لیکر بنوں میں ضمیر خرید رہا ہے۔ یہ اُن کا جمہوری حق ہے جو اُنہوں نے استعمال کیا۔ لیکن کسی کو کافر قرار دینا یا فتنہ قرار دینا کسی طور اُنہیں زیب نہیں دیتا۔
عام لوگ ایک دوسرے کے گالی دیتے ہیں، سیاستدان ایک دوسرے پر کرپشن الزامات لگاتے ہیں جبکہ مولوی کے پاس فتوے کا ہتھیار ہوتا ہے ۔ ہمارے سماج میں لوگوں کو گالی بھی دی جاتی ہے اور کرپشن کے الزامات بھی لگتے ہیں لیکن کوئی اُن سے نہ تعلق توڑتا ہے نہ قتل کرتا ہے۔ لیکن فتوے کی وجہ سے جو مسائل بنتے ہیں اُس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔
تحریکِ انصاف کو نہ ایک تحریک سمجھنا اور نہ انصاف سمجھنا بلکہ ایک فتنہ قرار دینا سراسر نا انصافی ہے۔ یہ تحریک ہی تو ہے کہ آج اکرم خان دُرانی کو اُن کے خلاف ٹی وی پر آکر مخاطب ہونا پڑتا ہے۔ یہ پارٹی ہی تو ہے کہ آج بنوں میں اکرم خان دُرانی کو ایک سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ یہ مقابلہ مسلم لیگ نہیں کر پائی تھی اور نہ پیپلز پارٹی اور اے این پی۔
وہ دور گزر چکا جب فتوے لگنے کے بعد کوئی پارٹی عوام میں غیر مقبول ہو جاتی۔اب فتووں سے تحریک انصاف کا کچھ نہیں بگڑنے والا۔ یہ کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے کہ انہوں نے خیبر پختون خوا میں مذہب کی بنیاد پر سیاست کو تھالے لگا دیئے ہیں۔ یہ کام اے این پی نہیں کر پائی تھی۔
تحریکِ انصاف کی سیاسی خامیوں کی نشاندہی کرنا مخالفین کا جمہوری حق ہے۔ سیاسی الزام تراشی سیاست کا حصہ ہے۔لیکن فتنوں اور فتووں کا دور گزر چکا ہے۔ نئی نسل ان باتوں سے متوجہ نہیں ہوتی۔

نئی نسل ان باتوں سے متوجہ نہیں ہوتی۔کسی کو فتنہ، کافرقرار دینا یا اُن کی عورتوں کے متعلق الزامات لگانا کسی طور صحت مند سیاست نہیں۔ نئی نسل کے سیاسی افکار نئی بنیادوں پر استوار ہو رہے ہیں ، پرانی ڈگر پر جو لوگ چلیں گے اُن کی سیاسی بنیادیں کمزور پڑتی جائیں گی۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s