طالبان رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد طالبان کا مستقبل


By Farman Nawaz

پاکستانی سرزمین پر طالبان رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد پاکستانیوں کو کچھ اس طرح کے بیانات سننے کو ملتے ہیں۔مرنے والا شہید تھا، امریکہ کے خلاف لڑنے والا کتا بھی شہید کہلائے گا،یہ آپریشن پاکستان کی فراہم کردہ معلومات کے نتیجے میں کیا گیا،امریکہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرے، ڈی این اے رپورٹ کے آنے تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، طالبان نے نیا امیر چُن لیا۔
جو بیانات پاکستانیوں کو سننا نصیب نہیں ہوتے وہ کچھ اس طرح ہوتے ہیں۔مرنے والے کی لاش کہاں ہے؟، مرنے والے کی لاش کون لے گیا؟امریکی ڈرون کس ائیر بیس سے اُڑا تھا؟اُس وقت پاکستانی شاہین کہاں تھے؟پاکستان کی خودمختاری کی تعریف کیا ہے؟
حال ہی میں ہلاک ہونے والے طالبان رہنما ملا منصوراس حوالے سے خوش نصیب ہے کہ اُن کی موت پر شہادت اور ہلاکت کا کھیل نہیں کھیلا گیا۔بہت کم پاکستانیوں کو علم ہوگا کہ شہادت اور ہلاکت کا کھیل افغان طالبا ن کی موت پر نہیں کھیلا جاتا حلانکہ امریکہ کے خلاف افغان طالبان ہی بر سرِ پیکار ہیں۔اس طرح کی سیاست اُریجنل پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والوں کی ہلاکت پر ہی کی جاتی ہے۔
کسی بھی طالبان رہنما کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے بیان سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مرنے والے کی ہلاکت کا افسوس تو کسی کو نہیں تھا ۔ نہ پاکستانیوں کو اور نہ ہی بیرونی دنیا کوکوئی حیرت ہوتی ہے کہ طالبان رہنما پاکستان حدود میں کیسے پایا گیا۔بس کچھ دن پاکستان اپنی خودمختاری کا رونا روتا ہے اور بات ختم۔طالبان بھی نیا لیڈر چنتے ہیں اور پرانے کو بھول جاتے ہیں یا پھر اُس کی یاد میں ایک دو خود کُش دھماکے کر لیتے ہیں اور بعض دفعہ تو اس کی بھی ضرور ت نہیں پڑتی۔
طالبان رہنماؤں کی برسی منانے کی رسم کا خیال فی الحال ابھی کسی کو نہیں آیا۔شاید اس کی ممکنہ وجہ یہ ہو کہ ایک تو پورا سال یہ سلسلہ جاری رہے گا اور دوسرے کس کس لیڈر کی برسی منائے جائے وہ جو طبعی موت مرے یا وہ جو شہید یا ہلاک ہوئے ۔اس میں قومیت کا مسئلہ بھی درپیش ہوگا۔اگر افغانی خود افغان طالبان لیڈر کی برسی نا منائیں تو پاکستانی کس منطق کی بنیاد پر ایسا کر پائیں گے۔
ایک بات جو ابھی تک عوام کو سمجھ نہیں آئی وہ یہ ہے کہ اگر یہ ہماری جنگ نہیں تو طالبان رہنما پاکستانی سر زمین پر ہی کیوں ہلاک ہوتے ہیں اور اگر یہ ہماری جنگ ہے جو ہم امریکہ کی مدد سے لڑ رہے ہیں تو پھر یہ خود مختاری کا رونا کیسا۔ہم کس کو دھوکہ دے رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہطالبان طالبان کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مذہبی جماعتیں پاکستان میں نیا ایشو ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔اسلامائیزیشن کا دور بھی دوبارہ لوٹ کر واپس آنے والا نہیں۔پاکستان انڈیا کی نفرت کے حوالے سے سیاست دم توڑ چکی ہے۔حال ہی میں بھارتی جاسوس کا مسئلہ فوراََ ہی منظر سے ہٹا دیا گیا۔مذہب کی بنیاد پر اشتعال دلانے کا سلسلہ فی الوقت حل طلب ہے لیکن یہ ایسا مسئلہ نہیں جس کی بنیاد پر جمہوری اور پارلیمانی سیاست کی جائے۔
طالبان اس حوالے سے قابلِ رحم ہیں کہ ان کو استعمال کیا گیا لیکن ان کے مستقبل کی فکر کسی کو نہیں۔فلسطین میں حماس نے سالہا سال کی محنت کے بعد سیاسی جدوجہد کو ہی چنا۔ کشمیر میں بھی صورتِ حال کچھ ایسے ہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مسلح گروپوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ مسلح جدوجہد کے نتائج اُن کے اندازوں کے مطابق نہیں۔سیاسی جدوجہد کی اہمیت کا اُن کو اندازہ نہیں۔سیاسی جدوجہد کی بنیاد پر ہی نظریات کو فروغ مل سکتا ہے۔
طالبان تشدد چھوڑ کر سیاست کی راہ پر جب تک نہیں آتے، تب تک اُن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ پاکستان اور افغانستان میں وہ یا تو اُن کا کردار ختم کر دیا جائے گا یا پھر کٹھ پتلی کی طرح کا کردار ادا کریں گے ۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s