پروفیسر ابراہیم صاحب عمران خان کے حوالے سے بیان پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں


تحریر : فرمان نواز

پچھلے ہفتے پروفیسر ابراہیم صاحب نائب امیر جماعت اسلامی کا ایک انوکھا بیان پڑھنے کا ملا۔ پروفیسر صاحب کا خیال ہے کہ عمران خان میں یہ صلاحیت نہیں کہ پاکستان کو امریکی اثرو رسوخ سے آزاد کرا سکے۔یہاں پہلا سوال تو یہ ہے کہ پروفیسر صاحب نے فوج کے کردار کے اوپر سوال اٹھایا ہے۔مطلب پروفیسر صاحب دوسرے لفظوں میں یہ کہہ رہے ہیں کہ فوج نے امریکہ کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پروفیسر صاحب کا مطلب یہ ہو کہ دفاعی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر پاکستان امریکہ کا غلام ہے۔ تو پھر یہ مناسب نہیں ہوگا کہ قوم کا بتا دیا جائے کہ وہ کونسے سیاسی فیصلے ہیں جو امریکہ کے پریشر میں آکر کئے گئے ہیں اور کیا فوج بھی اُن فیصلوں پر خوش تھی؟
امریکہ کس طرح کا اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے جو جماعت اسلامی کے بس میں تو ہے کہ قوم کو اُس پریشر سے آزاد کرا سکے لیکن عمران خان میں یہ صلاحیت نہیں؟ اور اگر عمران خان اتنا ہی نااہل آدمی تھا تو پھر جماعت اسلامی کو تحریکِ انصاف کے ساتھ اتحاد کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی؟ یا پھر اتحادی حکومت کا حصہ بننا الگ سیاست ہے اور امریکہ کا اثر و رسوخ ختم کرنا الگ ؟
یہی سوالات نواز شریف کے ساتھ جماعت اسلامی کے اتحاد پر اُٹھائے جا سکتے ہیں۔یہ کیسے ممکن ہے کہ دو پارٹیوں کے پاس عوام کی حمایت ہو اور وہ امریکہ کے آگے کھڑے نہ ہو سکیں۔کیا امریکہ کے سامنے کھڑے ہونے کیلئے عوامی حمایت کے علاوہ بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے ؟ تو وہ کیا ہے جو جماعت اسلامی کے پاس ہے اور دوسری پارٹیوں کے پاس نہیں؟
کبھی کبھی یہ سوال بھی دماغ میں آتا ہے کہ جب روس کے خلاف پاکستان امریکی جنگ کا حصہ تھا تو جماعت اسلامی اُس جنگ میں پیش پیش تھی ۔ جماعت اسلامی کے لیڈروں کی مجاہدین کے ساتھ تصوریں اب بھی انٹرنیٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ لیکن اب جبکہ امریکہ خود افغانستان میں موجود ہے تو کسی افغان طالب لیڈر جو امریکہ کے خلاف بر سرِ پیکار ہو ، اُس کے ساتھ جماعت اسلامی کے لیڈروں کی تصویریں دیکھنے کو نہیں ملی۔ روس معاہدے کے تحت افغانستان میں داخل ہوا تھا اور امریکہ حملہ آور ہے۔

 جماعت اسلامی افغان طالبان (لفظ پر غور کیا جائے یہاں صرف افغان طالبان کا ذکر کیا گیا ہے) کا ساتھ کیوں نہیں دے رہی یہ بات ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ کیونکہ جو لوگ امریکی اثر و رسوخ کے خلاف ہیں اُن کا ساتھ دینا تو جماعت اسلامی کا فرض بنتا ہے نا۔ روس کے خلاف تو چیچنیا تک دستے تیار کئے جاتے تھے لیکن اب کابل تک جانا کیوں دشوار ہو رہا ہے؟اب جبکہ روس اور پاکستان دوست ہو گئے ہیں اس نئی صورت حال میں جماعت اسلامی کا کوئی بیان نہیں دیکھا۔
پروفیسر صاحب بنوں سے تعلق رکھتے ہیں اور میرے والد مرحوم سے تھوڑابہت تعلق بھی تھا۔اُن کا جماعت اسلامی کا نائب امیر منتخب ہونا ہمارے لئے باعثِ فخر ہے۔جماعت اسلامی سے میرا جہاد پر نہیں بلکہ جہاد افغانستان کے متعلق نظرئے پر اختلاف ہے۔اس کے علاوہ موجودہ شدت پسندی کے وجوہات کا جو جواز جماعت اسلامی دیتی ہے وہ بھی میرے لئے قابلِ قبول نہیں۔جماعت اسلامی ایک پارلیمانی جماعت ہے اور مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ عوام کا دل جیت سکے۔ اختلافات کے باوجود میرے بہت سے جاننے والے جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں جن کے ساتھ میرا اچھا تعلق ہے۔
مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ مودودی صاحب کی ایک کتاب میرے ہاتھ میں تھی تو میرے ایک سکول کے اُستاد محترم نے میری کلاس کے سامنے بے عزتی کی تھی۔مجھے تب تو کچھ بات کی سمجھ نہیں آئی بعد میں پتا چلا کہ موصوف جماعت اسلامی کا مخالف تھا۔
جماعت سے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ پارلیمانی سیاست میں باقی پارٹیوں کی طرح اُن مسائل سے عوام کا ووٹ حاصل نہیں کرے گی جن کی عوام کو سمجھ ہی نہیں ہوتی۔امریکی اثر ورسوخ کا ایشو بھی کچھ اُسی نوعیت کا ہے۔میرا ذاتی مشورہ یہ ہے کہ جماعت اُن ایشوز کو منتخب کرے جو باقی پارلیمانی پارٹیاں نظر انداز کر دیتی ہیں۔ مثلاََ پاک چین راہدری کا مسئلہ،لوڈشیڈنگ کا مسئلہ،افغانستان کے ساتھ تجارت کا مسئلہ،ملک کے اندر بغاوتوں کا مسئلہ وغیرہ
جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے یہ وہ ایشوز ہیں جن پر پنجاب اور سندھ کی بنیاد رکھنے والی پارٹیاں نظریں بند کر لیتی ہیں۔پاک چین راہداری کی بات چھیڑ کر عمران خان سمیت کوئی بھی پارٹی پنجاب کے ووٹ سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔پنجابی بھارت کے ساتھ تجارت کرے تو بھلے بھلے لیکن پٹھان افغانستان سے تجارت کرے تو راستے بند۔لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل طلب ہے لیکن کوئی ٹھوس اقدام نظر نہیں آرہا۔الیکشن سے پہلے شاید یہ مسئلہ شاید تھوڑا بہت ٹھیک کر لیا جائے لیکن مستقل حل ہنوز دور است۔

پروفیسر صاحب جماعت کو ووٹ چاہئے تو ان مسائل کا حل تلاش کریں۔ عوام آپ کے ساتھ ہیں۔جماعت اسلامی کے امیر اور نائب امیر دونوں پٹھان ہیں۔جماعت کے کارکنوں کا خمیر عوام کی طرح عام مٹی سے اُٹھا ہے،خیبر پختون خوا کا ووٹ آپ کے ہاتھ لگ سکتا ہے لیکن اس کے لئے جہاد اور امریکہ کا رونا چھوڑ کر پختون کے مسائل حل کرنے ہونگے۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s