پیار کوئی پہیلی تو نہیں


By Farman Nawaz

کچھ لوگ محبت کا اظہار کرتے ہیں

 کچھ لوگ محبت کا انتظار کرتے ہیں
میں کیوں کہوں میں پیار کرتا ہوں
کچھ لوگ دل ہی دل میں پیار کرتے ہیں

میں کہہ تو دیتا میں پیار کرتا ہوں
میں ہر بات کا برملا اظہار کرتا ہوں
پر جو محبت کرے وہ ہی کیوں اظہار کرے
صنم کو نہیں پتہ کہ لوگ اُس سے پیار کرتے ہیں

پیار ایسی پہیلی تو نہیں کہ محبوب جان ہی نہ سکے
کہ سچی محبت کو یہ پہچان ہی نہ سکے
اگر تو محبت کی دنیا میں یہ لوگ اندھے ہیں
پھر ایسے اندھے لوگوں سے ہم کیوں ہی پیار کرتے ہیں

محبت کا میں قانون ہی بدل دیتا ہوں
نیا طریقہ بتا ہی اصل دیتا ہوں
اب ہم نہیں کہیں گے کہ پیار کرتا ہوں
یہ ظالم خود ہی جا نے کون اُن سے سچا پیار کرتے ہیں

یہ بھی تو گھٹ گھٹ کہ مریں جیسے ہم روز مرتے ہیں
پتہ ان کو بھی چلے کیسے یہ سادہ عاشق لوگ مرتے ہیں
ہم بتائیں تو بھی مجرم ،نہ بتائیں تو بھی مجرم
ایسے کم ظرف لوگوں سے کیونکرہم پیار کرتے ہیں

کبھی دل کہتا ہے زور زور سے کہوں ہاں میں پیار کرتا ہوں
کب سے، کیسے، کیونکر میں اُس پہ مرتا ہوں
پر اگر وہ ناز کی زبان سمجھ نہ سکے
پھر دل کہے گا ایسے ناسمجھ سے ہم پیار کرتے ہیں

tree

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s