بنوں پولیس عوام اور سوشل میڈیا کے نشانے پر: تحریر فرمان نواز


پولیس والوں کو شاید یاد ہو کہ تقریباََ19سال پہلے بنوں میں پولیس کے خلاف عوام اٹھے تھے اور پولیس چوکیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔عوام حق پر تھے یا نہیں یہ الگ ایشو ہے لیکن پولیس کے خلاف عوام نے اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔تین دن کا کرفیو بنوں میں پہلی بار لگا تھا اور فوج کو حالات کنٹرول کرنے پڑے تھے۔
اب سوشل میڈیا کا دور ہے۔ جو بات مین سٹریم میڈیا نہیں چاپ سکتی وہ بات سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی ہے۔ مقصد عوام تک بات پہنچانا ہے۔بنوں پولیس کے خلاف عوام کی پریس کانفرنسیں اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام پولیس کی کارکردگی سے خوش نہیں۔
پچھلے دنوں عربیوں کو ضلع بدر کرنے کے مسئلے پر ڈی آئی جی کو معذرت کرنی پڑی۔جس سے دو ہی باتیں ذہن میں آتی ہیں ۔یا تو پولیس کا عمل غلط تھا اور یا پھر پولیس سیاستدانوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی۔ تیسراکوئی آپشن نہیں بنتا اور ہے بھی تو وہ بھی پولیس کے خلاف جائے گا۔
پچھلے دن سوشل میڈیا پر ایک ایس ایچ او کے خلاف آواز اُٹھائی گئی اور حالیہ واقعہ کے علاوہ بھی ماضی کی باتیں چھیڑی گئی۔حقیقت جو بھی ہو لیکن عوام خبر کی سچائی سے زیادہ سنسنی میں دلچسپی لیتے ہیں۔اُس خبر نے عوام کو اپنی طرف متوجہ کیا اور سب نے دل کھول کر کمینٹس دیئے۔واقعہ سے کوئی جانکاری رکھتا تھا یا نہیں لیکن ایس ایچ او کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔یہی سوشل میڈیا کا نیچر ہے۔
بس بنوں پولیس کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ چاہے اُن کے خلاف میڈیا میں کوئی بات جائے نا جائے سوشل میڈیا ایک ایسا چینل ہے جو عوام کی ترجمانی کرتا ہے۔بین الالقوامی طور پر گُڈ گورننس کے جو بھی پیمانے ہوں ، عوام کا پیمانہ بہت سادہ ہے۔ اگر بجلی، پانی اور ضرورت کی اشیا فراہم ہوں اور عام آدمی خود کو محفوظ سمجھے تو یہی اچھی طرز حکمرانی ہے۔ بنوں پولیس جتنا بھی اسلحہ پکڑے،گرفتاریاں کرے لیکن اگر عام آدمی خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا تو یہ سب بے کار ہے۔
اگر عوام پولیس کے خلاف تھانے کے باہر دھرنوں پر مجبو ر ہوتی ہے تو پولیس کو اپنی کارکردگی پر دوبارہ غورر کرنا چاہئے۔سوشل میڈیا کا پولیس پر کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں عوام پر اس کا اثر بہت گہرا ہوتا جا رہا ہے۔جب نائیوں کی دکان پر سوشل میڈیا کی باتیں ہونا شروع ہو جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ حالات بدل گئے ہیں۔آج صرف شکایت ہوئی ہے کل کو لوگ پولیس والوں کی ویڈیوز بنا کر بھی پوسٹ کرنا شروع کر دیں تو پولیس کیلئے کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ مشعل خان کے قاتلوں کی نشاندہی میں سوشل میڈیا نے ہی کردار ادا کیا تھا۔
ایک فلم میں بڑی زبردست بات کہی گئی تھی۔ پولیس والا جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں شہید ہوتا ہے تو بیوی کے پاس خبر آتی ہے اور جھوٹ موٹ بتایا جاتا ہے کہ شہید نے مرنے سے پہلے کہا کہ میری بیوی بڑی بہادر ہے بچوں کی دیکھ بھال کر لے گی۔بیوی یہ بات سن کر کہتی ہے کہ ایسا ہچ کہا ہوگا۔رات کو جب ڈیوٹی لگتی تھی تو کہتا تھا کہ رات کو جب لوگ آرام سے سوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گلی کے نکڑ پر پُلس والا ہے نا ۔۔تو سمجھتا ہوں کہ فرض ادا کر دیا۔
بنوں پولیس کو سوچنا چاہئے کہ پولیس کی قربانیوں کے باوجود لوگ کیوں خوش نہیں۔۔۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s