بنوں میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج ۔ حقیقت یا فسانہ


پچھلے کئی ماہ سے بنوں کا خان ریاض خان سوشل میڈیا پر مسلسل شور مچا ر ہا ہے کہ بنوں سٹی کے ساتھ بجلی کے معاملے میں زیادتی ہو رہی ہے۔ خان ریاض کچھ اعداد و شمار بھی پیش کرتا ہے کہ کیسے واپڈا بنوں سٹی کے ساتھ ظلم کر رہا ہے۔انہوں نے بنوں کے ایک معزز وکیل سے بھی درخواست کی تھی کہ یہ کیس عدالت کی سطح پر لڑا جائے لیکن وکیل صاحب پیچھے ہٹ گئے۔
کچھ دن پہلے ایک محترم سیاستدان ، جن کا نام تب سے سنتے آئے ہیں جب وہ کالج لیول پر سیاست کرتے تھے، نے خان ریاض کو فیس بُک پر خودنمائی کا طعنہ دیا۔ دکھ اس لئے ہوا کہ اے این پی آج جیسے بھی ہے لیکن با چا خان کی سیاست کی وجہ سے ہم آج بھی اے این پی کو اپنی پارٹی سمجھتے ہیں اور فلسفہ عدم تشدد کے پیروکار ہیں۔ تشدد صرف جسمانی نہیں ہوتا بلکہ ذہنی بھی ہوتا ہے۔ کوئی خلوص سے کام کر رہا ہو تو طعنہ ذہنی تشدد بن جاتا ہے۔
خان ریاض نوجوان ہے اور ہو سکتا ہے کہ فیس بُک پر گفتگو کے دوران اُس سے کوئی غلطی ہو گئی ہو لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ایک نوجوان فیس بُک پر جوانی کو بہلانے کی بجائے کوئی تعمیری کام کر رہا ہے۔ محترم سیاستدان انتہائی مہذب انسان ہیں لیکن رمضان ہے شاید زبان پسل گئی ہوگی۔ چلو یہ اچھا ہے کہ گفتگو کا اختتام اچھا ہوا۔ محترم عرفان پیرزادہ وکیل نے گفتگو میں حصہ لیا اور انتہائی متوازن خیال پیش کیا۔
حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ بنوں میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ انتہائی سنگین ہوتا جا رہا ہے لیکن منبر اپنا کردار ادا نہیں کر رہا۔منبر سے امریکہ یہود ہنود اور نصریٰ کو بد دعائیں تو دی جاتی ہیں لیکن سماجی مسائل جیسے لوڈشیڈنگ، قتل و غارت، خود کش حملے وغیرہ پر کوئی عملی رد عمل سامنے نہیں آتا۔جبکہ ہمارے حضور ﷺ کی زبان سے کبھی کفار کیلئے کوئی بد دعا نہیں نکلی اور سماجی مسائل پر کھل کر اظہار کرتے تھے۔
صرف مولانا عبدالستار شاہ بخاری صاحب لوڈ شیڈنگ کے مسئلے میں پیش پیش ہیں۔گو کہ مولانا صاحب سے کئی امور پر میرا اختلاف ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مولا نا صاحب کا جمعے کا خطبہ سنیں تو کوئی نہ کوئی ایک بات ا یسیکر جاتے ہیں جن سے اُن کے متوازن سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔
عرفان پیرزادہ صاحب بنوں سٹی کے ایک انتہائی اہم مسئلے کو قانونی طرز پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انتہائی افسوس کہنا پڑ رہا ہے کہ اُن کے ساتھ بہت ہی کم لوگ کھڑے ہیں۔ میری اس بات کو غلط نہ سمجھا جائے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اُن کے ساتھ دوسرے یا تیسرے درجے کے سیاستدان کھڑے ہیں۔ بنوں کے کچھ چیدہ چیدہ سیاست دان اور علماء اگر ان کی حمایت میں نکل آئیں تو کایا پلٹ سکتی ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان کسی جنگ ، جہاد یا احتجاج کے نتیجے میں حاصل نہیں ہوا تھا بلکہ یہ ایک قانونی جنگ تھی جو قائد اعظم نے پارلیمنٹ کی سطح پر لڑی اور جیتی۔ لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ اگر احتجاجوں سے حل ہونے والا ہوتا تو محترم ڈاکٹر پیر صاحب زمان کے احتجاج کے بعد یہ حل ہو چکا ہوتا جب عوام نے واپڈا دفتر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہر پیشی پر بنوں کے چیدہ چیدہ سیاست دان اور سیاسی ورکرز ، تاجر تنظیمیں،طلباء تنظیمیں اور صحافی حضرات وکیل صاحب کی حوصلہ افزائی کیلئے جاتے۔ لیکن کہیں ایسا نہ ہوکہ پیرزادہ صاحب تھک ہار کر بیٹھ جائیں یا کچھ لوگ سیاسی سکورنگ کیلئے اُن کے راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔اُن کی لوڈ شیدنگ کے خلاف میں جنگ میں ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہئے۔اگر عدالت کے ذریعے قانونی طریقے سے بنوں کے مسائل کا حل نکلنا شروع ہوا تو یہ انتہائی خوش آئند ہوگا۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s