اپنا گھر سکیم ۔ حقیقت یا فسانہ


By Farman Nawaz

پچیس اپریل کو انگریزی روزنامہ پاکستان آبزرور میں اکرم خان دُرانی کا بیان آیا کہ اپنا گھر سکیم وزیراعظم نواز شریف فوری طور پر شروع کرنا چاہتے ہیں۔یہ بیان انہوں نے وزارت ہاوسنگ و ورکس کی سب کمیٹی کی میٹنگ کے دوران دیا۔میٹنگ میں احسن اقبال،عبدالقادر بلوچ،سٹیٹ بینک ،پرائم منسٹر سیکریٹیریٹ،اور منسٹری آف فائنانس کے سینئر افسران شریک تھے۔
دُرانی نے اعلان کیا کہ یہ سکیم اپنا گھرلمٹیڈ کمپنی مکمل کرے گی اور وزارت اس سکیم کو مکمل کرنے کیلئے تمام ممکنہ وسائل استعمال کرے گی جبکہ اسلام آباد اور صوبوں میں سکیم کیلئے زمین ڈھونڈھی جا رہی ہے۔
دوسری طرف انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبون نے آٹھ جون کو اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ اپنا گھر سکیم وزارت ہاوسنگ و ورکس کے بعض افسران کے مطابق تقریباََ ردی کی ٹوکری کی نظر ہو چکا ہے کیونکہ حکومت اس سکیم میں سنجیدہ نہیں باوجود اس کے کہ وزیراعظم اس سکیم میں انتہائی سنجیدہ تھے اور مریم نواز اس حوالے سے وزیراعظم ہاوس میں ایک میٹنگ بھی کر چکی تھی۔

اکرم دُرانی وزیراعظم کو ایک میٹنگ کے دوران یاد دلا چکے ہیں کہ ڈیڈھ سال سے اس منصوبے کی مالی ضروریات کی سمری وزیر اعظم کی طرف سے پینڈنگ ہے۔ جس کے بعد وزیر اعظم کی ہدایت پر اس منصوبے پرسب کمیٹی کو کام تیز کرنے کا کہا گیا لیکن دو میٹنگز کے بعد محسوس کیا گیا کہ افسران سنجیدہ نہیں۔
رپورٹ کے مطابق وزارت پلانگ و ڈیولپمنٹ کے نمائندوں  کا خیال تھا کہ حکومت کو ایسے منصوبے میں ملوث نہیں ہونا چاہئے جس میں سرکار عوام کیلئے زمین خریدے اور پھر گھر بنائے۔اکرم دُرانی کو تب محسوس ہوا کہ یہ منصوبہ پیپر ورک سے آگے نہیں جا سکتا۔ اس منصبوے کیلئے اسلام آباد میں جو سیکریٹیریٹ بنانا تھا وہ بھی ابھی نہیں بن پایا ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر خبر گردش کر رہی ہے کہ نواز شریف نے اس سال بھی بنوں ائیرپورٹ کیلئے بجٹ میں رقم مختص نہیں کی۔ بنوں ائیر پورٹ کے حوالے سے آخری بار خبر ریڈیو پاکستان کی ویب سائٹ پر تین فروی کو شائع ہوئی تھی۔
اس طرح اور بہت سے منصوبے جو بنوں کی سر زمین پر مکمل ہونے ہیں اور جن کے اعلانات بار بار ہو چکے ہیں اُن کے متعلق عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔لازمی طور پر اکرم دُرانی بھی ممکنہ طور پر ان منصوبوں کی تکمیل جلد سے جلد چاہتے ہوں گے کیونکہ اگلا سال الیکشن کا سال ہوگا۔ پچھلے الیکشن میں بنوں کے چار صوبائی حلقوں میں سے دو جے یو آئی کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں ۔2008کے الیکشن میں ضلعی سطح پر جے یو آئی کی حکومت تھی اور اکرم دُرانی کی پشت پر ایم ایم اے دور کے ترقیاتی منصوبے تھے ۔ جیت یقینی تھی۔2013کا الیکشن دہشت گردی کی وجہ سے یکطرفہ الیکشن تھا جب کہ اس بار حالات بدل چکے ہیں۔
گو کہ ضلعی سطح پر جے یو آئی کی حکومت ہے لیکن اسلام آباد کی سطح پر پانامہ کیس کی وجہ سے اگلا الیکشن نواز شر یف اور ان کے رفقاء کیلئے بہت ہی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ کیس کا جو بھی فیصلہ ہوگا لیکن الیکشن کمپین کیلئے بہت کچھ چھوڑ جائے گا۔نواز شریف کی ناکامی کا اثر پورے پاکستان کی سیاست کو اپ سیٹ کر سکتا ہے۔لیکن کرکٹ کی طرح پاکستانی سیاست بھی بائی چانس ہے۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s