عید کا امکان پٹھان کی شہادت کے مطابق کیوں نہیں؟


By Farman Nawaz

محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال عید کا چاند 25جون کو دکھنے کا امکان ہے۔ایکسپریس ٹریبون کے مطابق حکومت نے پہلے ہی تنازعہ سے بچنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں طلب کیا ہے۔مفتی منیب الرحمان کافی عرصے بعد یا پھر شاید پہلی دفعہ پشاور میں عید کا چاند دیکھنے آئیں گے۔
میرا مقصد کسی کو متنازعہ بنانا نہیں لیکن اس مہینے رمضان کا چاند پہلے روزے پر اتنا بڑا تھا کہ حیرت ہوتی تھی کہ یہ چاند مفتی صاحب کو کیوں نظر نہیں آیا۔ویسے یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ مفتی صاحب کو بھی چاند نظر آئے؟ ہم نے تو بنوں میں یہ دیکھا ہے کہ علماء کرام شہادتوں کا انتظار کرتے ہیں ۔ گواہ پورے تو عید ۔
اسلام آباد کے ایک کالم نگار اور ٹی وی اینکرآصف محمود نے ایک بار بڑی زبر دست بات لکھی تھی۔ ایک دفعہ مفتی منیب صاحب کسی محفل میں موجود تھے کہ مذاقاََ کہہ دیا کہ دوزخ میں پٹھان بہت زیادہ ہونگے۔ کسی نے پوچھا کیوں تو کہنے لگے کہ چاند کی جھوٹی شہادت کی وجہ سے۔آصف محمود صاحب لکھتے ہیں کہ مفتی صاحب مذاح میں بھی اگر اتنے تنگ نظر ہیں تو وہ پٹھان کی گواہی کیوں لیں گے۔
مولانا طاہر اشرفی صاحب نے ایک بار مفتی منیب صاحب سے ٹی شو کے دوران بڑی اچھی بات کہی تھی۔ مفتی صاحب نے کہا تھا کہ آج تو چاند نظر آنے کا امکان ہی نہیں تھا تو پشاور والوں کو کیسے نظر آ گیا۔ مولانا صاحب نے جواباََ کہا کہ مفتی صاحب جب امکان ہی نہیں تھا تو آپ کیوں کمیٹی لیکر کراچی میں بیٹھ گئے تھے۔
ویکی پیڈیا پر رویت ہلال کمیٹی کا پیج میں نے ہی بنایا ہے۔ تب میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اس کمیٹی کی کوئی قانونی یا آئینی حیثیت نہیں۔یہ کمیٹی 1974میں بنائی گئی تھی تاکہ رویت کے تنازعے کو حل کیا جا سکے لیکن تب سے اس کمیٹی کیلئے کوئی رولز ریگلویشنز نہیں بنائے گئے۔صحافی برادری کی طرف سے کئی بار آواز اُٹھائی گئی کہ متفقہ اُصول وضح کر دئے جائیں لیکن اُنہیں بتایا گیا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم کے پلیٹ فارم پر بھی یہ آواز اُٹھائی گئی تھی لیکن اس وجہ سے کوئی متفقہ حل نہیں تلاش کیا جا سکا کہ کچھ ممالک پر شک تھا کہ وہ یہ اُصول نہیں مانیں گے۔انگریزی روزنامہ پاکستان ٹوڈے کی 23فروری 2012کی رپورٹ کے مطابق اس کمیٹی سے ہمیشہ یہ شکایت بھی رہتی ہے کہ یہ دوسرے فرقوں کی شہادتیں قبول نہیں کرتے۔
پشاور کے مفتی شہاب الدین پاپولزئی سے مفتی منیب کی اختلاف کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مفتی صاحب کے چچا عبدالرحیم پاپولزئی انگریز کے خلاف ہر محاذ پر پیش پیش ہوتے تھے۔بنوں اور پشاور میں انگریز کے خلاف کامیاب جلسے منعقد کرائے تھے۔قصہ خوانی بازار میں شہادتوں کے بعد عبدالرحیم کو 9سال قید کی سزا ہوئی جو بعد میں بڑھا کر 14سال کر دی گئی۔مفتی عبدالرحیم باچا خان کے دوست تھے اور تحریک خلافت میں بھر پور حصہ لیا تھا۔شیخ الہند مولانا محمود الحسن سے دینی او ر سیاسی تعلیم پائی تھی لیکن سوشلسٹ تحریک سے بھی وابستہ تھے او ر کمیونسٹ مُلا کے نام سے مشہور تھے۔اب ایسے شخص کے بھتیجے کو پاکستان میں کیسے قبول کیا جائے گا۔
یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پٹھانوں کو سیاسی طور پر ایک الگ سے مذہبی پا رٹی کی ضرورت ہے۔کتنے پنجابی یا سندھی ہمارے خیبر کی پارٹی جمیعت علمائے اسلام کا حصہ ہیں؟ میں صوبائی تعصب کو ہوا نہیں دے رہا لیکن کسی مقام پر آکر یہ احساس ضرور ہوتا ہے۔جہاد ہمارے سینے پر اور چین کی سڑکیں پنجاب میں حلانکہ دنیا میں جتنی بھی تجارتی راہداریاں بنائی گئی ہیں وہ شارٹ کٹ راستہ ہوتا ہے۔دہشت گردی سے متاثر ہم لیکن ترکمانستان سے آنے والی گیس پائپ لائن خیبر سے نہیں گزرتی۔انڈیا کے ساتھ حالات جیسے بھی ہوں واہگہ بارڈر پر تجارت نہیں رکھتی لیکن افغانستان کے جھڑپ ہوئی نہیں کہ سڑکیں ہفتوں بند۔ ہر قومی دن کے موقع پر بھارتی فوجیوں کے ساتھ بارڈر پر مٹھائیاں ایکسچینج کی جاتی ہیں لیکن ایسی کوئی تصویر یا ویڈیو افغان بارڈر پر نہیں بنائی گئی یا پھر شاید میں نے نہیں دیکھی۔نہ ہماری عید قبول نہ رمضان۔ہم نے اٖفغانستان نہیں جانا ، نہ اٖفغانستان کا حصہ بننا ہے کیونکہ جو لوگ ہمیں انگریز کے ہاتھ بیچ کر سالانہ آمدن وصول کرتے تھے اُن سے دوبارہ کیا ملنا ۔لیکن پاکستان میں ہم اپنے حق کے لئے تو پارلیمان کے اند ر اور باہر ہر اُس فورم پر آواز اُٹھانے رہیں گے جس کو مہذب دنیا میں جرم نہ مانا جاتا ہو۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s