ڈاکٹر پیر صاحب زمان سے ملاقات: بنوں کے سیاسی حالات کے بارے میں اُن کے خیالات


By Farman Nawaz


بنوں کے سماجی اور سیاسی شخصیات سے میری ملاقات کا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلے دن بنوں کے معروف چائلڈسپشلسٹ اور سیاستدان ڈاکٹر پیر صاحب زمان سے اُن کے کلینک میں میری ملاقات ہوئی۔ڈاکٹر صاحب نے مصروفیت کے باوجود اپنا قیمتی وقت دیا اور بنوں کے سیاسی منظر نامے پر مختصر لیکن مدلل گفتگو ہوئی۔
ڈاکٹر صاحب کاتحصیل بکاخیل کے مسئلے پر یہ موقف تھا کہ تحصیل کو بکا خیل کا نام دینا حلقہ کے عوام کے زیادتی اور ناانصافی ہوگی۔یہ تحصیل 13یونین کونسل پر مشتمل ہے جس میں 8یونین کونسل بنوچی قوم اور 5یونین کونسل وزیر قوم کے ہیں۔ نہ صرف بنوچی بلکہ تین وزیر یونین کونسل بھی تحصیل کے مقام کے تعین کے لحاظ سے تحفظات رکھتے ہیں۔بکاخیل نہ صرف سیکورٹی کے لحاظ سے غیر موزوں ہے بلکہ مالیاتی لحاظ سے بھی اگر تحصیل کا نام اور دفتر کیلئے جگہ حلقہ کے عوام اور نمائندگان کے مشورے سے نہیں کیا گیا تو یہ باقی یونین کونسل کے ساتھ سراسر زیادتی ہوگی۔

تحصیل بکاخیل کا مسئلہ موجودہ ایم پی اے کی جانب سے بنوچی قوم کی شناخت ختم کرنے کی کوشش ہوگی جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

یہ موجودہ ایم پی اے کی جانب سے بنوچی قوم کی شناخت ختم کرنے کی کوشش ہوگی جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
2018کے الیکشن میں بنوں کے سیاسی دنگل کے متعلق ڈاکٹر پیر صاحب زمان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بنوں میں شخصی اور نظریاتی ووٹ بنک کا مقابلہ ہوگا۔ایک طرف درانی کی شخصیت اور جمعیت کا نظریاتی ووٹ ہوگا تو دوسری طرف پی ٹی آئی کا نظریاتی اور ملک ناصر خان کا شخصی ووٹ بنک ہوگا۔لیکن مختلف پارٹیوں کے درمیان اتحاد بھی اُمیدواروں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر پیر صاحب زمان مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی سفر کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے اور آنے والے انتخابات میں وہ صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑیں گے۔اُن کے حلقے PK72میں متوقع اُمیدوارشاہ محمد، عدنان،حامد شاہ اور ڈاکٹر صاحب خود ہو سکتے ہیں۔حلقے میں نظریاتی کے مقابلے میں شخصی اور قومی ووٹ زیادہ ہوگا۔

ڈاکٹر صاحب کی نظر میں آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد کے بعد حالات بدل گئے ہیں اور اگر فئیر اور شفاف انتخابات ہوئے تو اُن کے جیتنے کے واضح چانسز ہیں۔

 ڈاکٹر صاحب کی نظر میں آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد کے بعد حالات بدل گئے ہیں اور اگر فئیر اور شفاف انتخابات ہوئے تو اُن کے جیتنے کے واضح چانسز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی دھاندلی سے الیکشن جیتنے کو ترجیح نہیں دی جس کا اعتراف مخالفین بھی کرتے ہیں۔
بنوں سٹی ٹو نورڑ روڈ کے متعلق ڈاکٹر صاحب مقامی انتظامیہ سے نہیں بلکہ صوبائی حکومت سے شکوہ کرتے ہیں کیونکہ صوبائی حکومت فنڈ مہیا نہیں کر رہی ۔
میریان یوتھ کونسل کے متعلق ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جس اغراض و مقاصد فلاحی ہیں۔یہ علاقے کے لوگوں کے چھوٹے بڑے مسائل حل کرنے کی اچھی کوشش ہے اور نوجوانوں خاص کر تعلیم یافتی نوجوانوں میں بیداری کی علامت ہے جو اچھی بات ہے جس کو ہم سراہتے ہیں۔
بنوں کے عوام کیلئے اُن کا مشورہ یہ تھا کہ ووٹ ایک امانت ہے جس کا استعمال وقتی مفاد کیلئے نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر اجتماعی مفاد کو مد نظر رکھ کر کرنا چاہئے۔چونکہ ووٹ سے قوم کی تقدیر بدلتی اس لئے الیکشن میں عوام کو بھرپور حصہ لینا چاہئے۔اپنے سیاسی حریفوں کیلئے انہوں نے صرف اتنا کہا کہ عوام اُن سے پانچ سالہ ناانصافیوں کا حساب مانگتے ہیں۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s