کرنل نثار۔ ایک شخص جو بنوں کی خدمت کرنا چاہتا ہے


By Farman Nawaz

آج کل میڈیکل کالج کیلئے طلباء و طالبات آن لائن فارم جمع کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ درخواستیں ضلع پشاور کے ڈومیسائل رکھنے والوں نے جمع کی ہیں۔کرک1316، بنوں766،لکی مروت 528، شمالی وزیرستان سے 455درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔جنس کے لحاظ سے ابھی تک لڑکوں نے تقریباََ 15000اور لڑکیوں نے 10000درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔یعنی ابھی تک 25000 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔آخری تاریخ تک گو کہ درخواستیں تو زیادہ موصول ہو جائیں گی لیکن تناسب شاید یہی رہے گا۔
بنوں سے کم آبادی والے کرک سے بنوں کے مقابلے میں زیادہ درخواستیں موصول ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ کرک کی شرح خواندگی بنوں سے زیادہ ہے۔یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق 2008میں بنوں کی شرح خواندگی 48فیصد اور کرک کی 66فیصد ہے۔بنوں کی 25اور کرک کی 48فیصد خواتین پڑھی لکھی ہیں۔ان اعداد و شمارکا مقصد یہ بتانا تھا کہ پڑوس کا ضلع ہم سے آگے ہے اور بنیادی وجہ شاید وہاں کی ماوؤں کا تعلیم یافتہ ہونا ہے۔
اب آتا ہوں اصل موضوع کی طرف۔بڑے لوگوں کے متعلق لکھنا یا انٹرویو لینا ہمیشہ سے جرنلسٹوں کی کمزوری رہی ہے یا پھر یہ کہہ لیں کہ عوام انہی لوگوں کے متعلق پڑھنا چاہتے ہیں۔میں نے بھی کچھ ماہ پہلے دُرانی صاحب کو دس بارہ سوال بذریعہ ڈاک بھیجے تھے اور اُمید تھی کہ صاحب سوالوں کے جواب لکھ بھیجیں گے لیکن شاید صاحب کے پاس وقت کی کمی ہے یا پھر مجھ سے بہتر لوگ اُن کی تشہیر کیلئے موجود ہیں۔لیکن ایسی بھی کیا مصروفیت کہ نسوار کھانے وا لے اور اپنا ذاتی ایجنڈا لیکر جانے والی لوگ اُن کا گھنٹوں ٹائم لے سکتے ہیں لیکن میرے لئے دس پندرہ منٹ نہیں کہ کسی کلرک کو جواب ڈکٹیٹ کرا لیتے۔
کل شام کرنل نثار سے ملاقات ہوئی جو کہ بنوں ٹاون شپ میں رہبر سکول سسٹم اور نثار گرومنگ اکیڈمی چلا رہے ہیں۔مقاصد بہت سادہ اور واضح ہیں۔کرنل نثار کا موقف ہے کہ بنوں کے نوجوان فورسز اور ان جیسے دوسرے اداروں کے امتحانات میں اس وجہ سے ناکام ہوتے ہیں کہ کسی کو معلوم ہی نہیں کہ ان اداروں کو کیسے نوجوان چاہئے۔ان کا بڑا سادہ سا سوال تھا کہ کیوں عام کالج و سکول کے طالب علم سٹوڈنٹ کہلاتے ہیں لیکن یہی نصاب پڑھنے والے کیڈٹ کالجز کے طالب علم کیڈٹ کہلاتے ہیں۔ سوال کی طرح جواب بھی بڑا سادہ تھا کہ فورسز کو مخصوص ذہنیت اور تربیت کے لوگ چاہئے ہوتے ہیں جو کہ کیڈٹ کالج کے ماحول میں بخوبی تیار ہوتے ہیں۔
لیکن ہر شخص تو اپنے بچے کیڈٹ کالج نہیں بھیج سکتا کیونکہ لاکھوں میں داخلہ فیس اور ہزاروں میں ماہانہ فیس۔کرنل صاحب کا مقصد بنوں کے اُن نوجوانوں کی تربیت کرنا ہے جو فورسز میں جانا چاہتے ہیں یا کیڈٹ کالج جانے کی خواہش ہے۔
فوجی ذہنیت کے ساتھ میں ذاتی طور پر کمفرٹیبل محسوس نہیں کرتا۔اُن کو خود لیڈر بننے اور دشمن کو زیر کرنے کی ذہنیت دی جاتی ہے جبکہ میں سماج میں برداشت ، جمہوریت اور سائنسی رویے دیکھنے کا متمنی ہوں۔لیکن کرنل صاحب بنیادی طور پر اُستاد ہیں ۔ایک کیڈٹ کالج کی بنیاد رکھ چکے ہیں اور آئی ایس ایس بی میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ٹیچر جس بھی شعبے میں جاتا ہے اُس کی ذہنیت لوگوں کو کچھ دینے کی ہوتی ہے۔کرنل نثار بھی اسی جذبے کے تحت بنوں واپس آئے ہیں۔ریٹائیرمنٹ کے بعد جب انسان کو آرام اور اپنی فیملی کیلئے وقت نکلانے کی ضرورت ہوتی ہے کرنل نثار کوبنوں کے نوجوانوں کی تربیت کی فکر کھچ لائی۔
اپنی مٹی کی فکر بھی بڑی عجیب ہوتی ہے۔ میں خود بھی چار پانچ سال افغانستان، پاکستان اور چین کے انگریزی اخباروں کیلئے لکھتا رہا۔پھر سوچا کہ میرے ان کالموں کا فائدہ کیا ہے۔ بنوں تو ویسے ہی رہے گا۔کب تک ہم بھاگ بھاگ کر اپنی تقدیریں سنوارتے رہیں گے۔آنا تو اس بنوں میں ہے۔کہیں بھی چلے جائیں ہمارے بچے اسی بنوں میں ہی واپس آئیں گے۔تو کیوں نہ بنوں کو ہی سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔کرنل نثار بھی اسی جذبے کے تحت بنوں گُل آئے ہیں۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s