پشاور دہشت گردی کچھ سوالات


تحریر: فرمان نواز

سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا کے سکول ، کالج اور یونیورسٹیاں ہی کیوں نظر آجاتی ہیں. کیا پنجاب اور سندھ میں سکول، کالج اور یونیورسٹیاں نہیں ہیں.
آخر پختونوں کی دہشت گردوں اور ان کے سپورٹرز کے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی ہے؟
اگر یہ حملہ عید میلا دالنبی کے موقع پر ہی کرنا تھا تو کسی جلوس پر کیوں نہیں کیا گیا؟
اگر جلوس میں سارے سچے مسلمان شامل ہوتے ہیں تو کیا طالب علم اچھے مسلمان نہیں؟
اگر حملہ پولیس والوں پر ہی کرنا تھا تو پولیس والے تو جلوس کی حفاظت پر بھی مامور ہوتے ہیں اور تھانوں میں بھی بکثرت پائے جاتے ہیں؟
اگر یہ حملے بھارت کروا رہا ہے تو صرف پختونوں پر ہی کیوں؟
سی پیک تو پنجاب میں ہے تو یہاں کی دہشت گردی وہاں پر کیسے اثر انداز ہوگی؟
پختون کو مارنے سے کیا دہشت گردوں کے مقاصد صحیح طرح پورے ہوتے ہیں؟
اگر یہ سب کچھ بھارت کروا رہا ہے تو واہگہ بارڈر پر تجارت کب بند ہو گی؟
اگر یہ سب کچھ افغانستان کروا رہا ہے تو مقصد کیا ہے؟
اگر یہ سب کچھ امریکہ کروا رہا ہے تو امریکی ایمبیسی کے سامنے کوئی احتجاج کیوں نہیں کرتا؟
جیسا کہ کچھ لوگوں کا خیا ل ہے کہ یہ ہمارے ادارے خود کروا رہے ہیں تو اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ سب کچھ ہم خود ہی کروا رہے ہیں تو اس سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
اگر ہم یہ خود ہی کر رہے ہیں تو انڈیا اور افغانستان پھر ہم پر برملا الزام کیوں نہیں لگاتے کہ یہ ہم نہیں‌تم لوگ خود ہی‌کر رہے ہو؟
اگر یہ ہمارے والے نہیں بلکہ ہمارے مخالف دہشت گرد کرتے ہیں تو پھر ہمارے والے اُن پر حملہ کیوں نہیں کرتے؟
اگر یہ دہشت گرد نہیں کر رہے تو دہشت گرد علی الاعلان کہہ کیوں نہیں دیتے کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں؟
اگر دہشت گرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان تو پھر یہ کون ہیں؟
اسلام آباد کو ہلا کر رکھنا تو بڑا اسان ہے. دھرنے نے سب کچھ ہلا کر رکھ تو دیا تھا. تو پھر دہشت گرد یہ گُر کیوں نہیں سیکھتے؟
دھرنوں کے ذریعے اپنی مرضی کے قوانین بنوائے تو جا سکتے ہیں تو پھر دھرنے کے ذریعے شریعت نافذ کیوں نہیں کرائی جاتی؟
اگر کوئی کہے کہ صوفی محمد یہ کوشش کر چکے ہیں ، کوئی فائدہ نہیں تو برملا اظہار کیوں نہیں کرتے کہ صوفی محمد کی کوششیں ناکام تھیں؟
اگر ملا عمر شریعت نافذ کر سکتے ہیں تو پھر کوئی اور کیوں نہیں ؟
سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا یہ دہشت گردی شریعت نافذ کرنے کیلئے ہے؟
اگر ہاں تو پھر افغان طالبان کا ساتھ دیکر ایک بار افغانستان میں کوشش کیوں نہیں کر لیتے ہیں اگر کامیابی ملی تو پھر اگلا ہدف پاکستان؟
لیکن افغانستان والے تو جلوس نکال کر نعرے لگاتے ہیں کہ دا جنت لارہ پہ افغانستان نہ دا…
عوام اگر دہسشت گردی سے تنگ ہیں تو دھرنا کب دینگے؟
اگر دھرنوں سے مسائل حل نہیں ہوتے تو پھر عمران خان کے دھرنوں میں شرکت کیوں کریں؟
اگر پاکستان کا مسئلہ دہشت گردی ہے تو اس کو حل کرنے کیلئے کس سیاسی پارٹی نے اپنے منشور میں اس ارادے کا اظہار کیا ہے؟
کیا دہشت گردی کا مسئلہ صرف فوج پر چھوڑ دینا بہتر ہوگا؟
چرچل نے تو یہ بھی کہا تھا کہ جنگ کو صرف جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا تو کیا دہشت گردی کی جنگ صرف فوج کی ذمہ داری ہے؟
پہلے ملک اور چودھری لوگوں پر کتے چھوڑتے تھے، معذرت کے ساتھ لیکن اب جرنلسٹ چھوڑے جاتے ہیں. پاکستانی جرنلسٹ دہشت گردی کے بعد نہ دہشت گردوں کے پیچھے پڑتے ہیں اور نہ ہی قانون نافظ کرنے والے اداروں کے پیچھے کہ آخر کب تک؟
ہم توپچھلے کچھ سالوں سے یہ بھی کہتے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے تو پھر ہمارا کیوں نہیں؟
جب فلسطین میں حماس سیاسی بن سکتی ہے تو پھر تحریک طالبان اور افغان طالبان کیوں یہ راستہ نہیں اپناتے؟
اگر حکومت ملنے کے بعد سیاسی ہوا جا سکتا ہے تو پھر ابھی سے کیوں نہیں؟
اور آخر میں بس ایک سوال کہ کامیابی جس کو بھی ملے کیا پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک تو بن جائے گا نا؟
ان سوالوں سے مسئلہ حل ہوتا محسوس ہوتا ہے یا الجھتا ہوا؟
جس طرح کچھ طبقے اُس مذہب کی تشریح کو مشکل بنانے پر تلے ہوئے ہیں جس کے متعلق اللہ خود کہتا ہے کہ ہم نے اس کو سمجھنے کیلئے آسان بنا دیا ہے ، ایسے ہی کچھ طبقے دہشتگردی کے مسئلے کے حل کو مشکل بنانے پر تلے ہوئے ہیں.

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s