بنوں کے ہجڑے رکھیں گے داڑھی ورنہ ضلع بدر


بنوں کے خواجہ سراؤں کو پولیس کی جانب سے ضلع چھوڑنے یاڈی جے پروگرامات چھوڑ کر داڑھی رکھنے کا حکم دینے انکشاف ہوا ہے۔ بنوں کے خواجہ سراؤں نے بنوں پریس کلب آ کر اپنی فریاد سناتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں سے ہمارے ناچ گانوں اور ڈ ی جے پروگرامات پر بنوں پولیس انتظامیہ کی طرف سے پابندی لگائی گئی ہے مگر یہی پروگرامات ہمارا ذریعہ معاش ہے۔ اسی سے ہم اپنا چولہا جلاتے ہیں کوئی دوسرا ذریعہ معاش نہ ہونے اورپروگرامات پر پابندی کے باعث ہماری معاشی حالت خراب سے خراب تر ہو گئی ہے۔ اب نوبت فاقوں تک آ گئی ہے۔ ہم نے دس اور پندرہ ہزار روپے ماہانہ کرایہ پر کمرے لئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے جاری ہیں لیکن پولیس کی جانب سے ہم پر لگائی جانے والی پابندی نہیں اُٹھائی جاتی۔ الٹا ہمیں ضلع چھوڑنے ، پروگرامات چھوڑ کر داڑھی رکھنے بلکہ یہاں تک کہ ہمیں مسلمان ہونے کو کہا جا رہا ہے کہ اسلام قبول کر لو۔ لیکن ہم تو مسلمان ہیں ۔روزہ رکھتے ہیں ،نماز پڑھتے ہیں مگر داڑھی اس لئے نہیں رکھ سکتے کہ ہم خواجہ سراں ہیں اور پروگرامات ہمارا ذریعہ ہے اور اس سے بھی بڑھ کر کہ ہم داڑھی کی بے عزتی ہر گز نہیں کر سکتے۔ ہم ناچ گانے بھی کیا کریں اور داڑھی بھی رکھیں یہ ہر گز نہیں ہو سکتا۔ پولیس ہمیں یہ بھی کہتی ہے کہ ضلع چھوڑ کر دوسرے ضلع کو جاؤ کیونکہ یہاں بنوں میں مہذب لوگ رہتے ہیں لیکن اگر ہمیں اس بناء پر ضلع بدر کیا جا تا ہے تو کیا صوبے کے دیگر اضلاع میں اسلام نہیں ہے ؟ ہم ضلع بنوں کے رہائشی ہیں بنوں چھوڑ کر کدھر جائیں گے۔ اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے ان کے مطالبات تسلیم کرکے پروگرامات پر سے لگائی جانے والی پابندی اُٹھائی جائے۔ ادھر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے اپنے مؤقف میں بتایا کہ خواجہ سراؤں سے جس شخص یا محکمہ پولیس کے کسی بھی اہلکار یا آفسر نے ایسی ہدایت کی ہے تو اسے سامنے لایا جائے ہم بھر پور کارروائی کریں گے ۔

ایڈیٹر نوٹ: گو کہ ڈی پی اونے اس بات کی تردید تو کر دی ہے لیکن یہاں یہ بتانا مناسب ہوگا کہ اب تو مذہبی پارٹیوں میں بھی ایسے افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کی داڑھی نہیں۔ بنوں کا تحصیل ناظم ملک احسان ، ملک شکیل،ملک ریاض،زاہد دُرانی اور درانی صاحب کی خود بھی شروع میں داڑھی نہیں تھی لیکن وہ جے یو آئی کے ممبر تھے۔ یہ سب سیاستدان داڑھی نہیں رکھتے لیکن مذہبی پارٹی کے مخلص کارکن ہیں. داڑھی رکھنا سنت ہے اور کسی کو داڑھی کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی لیکن اسلام میں بزور کسی کی داڑھی رکھوانا بھی روا نہیں۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اسلامی معاشرے کے دعویدار ہو کر ہم دوسروں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں۔کتنی سنگین صورت حال ہے کہ ہمارے معاشرے کے کچھ افراد کو بھیس بدل کر اور ناچ کر روزی کمانی پڑھ رہی ہے۔بجائے اس کے کہ حکومت ایسے لوگوں کی روزی روٹی کا انتظام کرتی اُلٹا ان کو مذاق کا نشانہ بنیا جا رہا ہے۔اگر کسی پولیس والے ے واقعی ایسا قدم اٹھایا ہے تو ان کو اپنی اس حرکت پر معافی مانگنی چاہئے اور اگر واقعی داڑھی رکھنے سے ان کو لگتا ہے تو یہ لوگ بدل جائیں گے تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام سب سے پہلے خود کو ٹھیک رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ تو پھر فوری طور پر بنوں پولیس کو اپنے اہلکاروں کو حکم دینا چاہئے کہ وہ داڑھی رکھ لیں۔باریش پولیس والے کسی کو جرم سے منع کریں گے تو اچھا لگے گا۔شاید نصیحت کا اثر بھی زیادہ ہوگا۔
کل ہی کی بات ہے کہ بلوچستان کے چاغی ضلع میں اسسٹ کمشنر نے نائیوں کو حکم جاری کیا کہ ڈیزائین والی داڑھیاں نہ بنوائی جائیں لیکن دو گھنٹے بعد ہی اسے اپنا حکم واپس لینا پڑ گیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ ایسا حکم دینا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ بنوں پولیس میں اگر ایسے لوگ موجود ہیں تو ڈی پی او کو ان کے خلاف اقدام اٹھانا چاہئے. دین میں جبر کو تصور نہیں .خاص کر جب ریاست اپنی ذمہ داری کا بوجھ نہ اُٹھا سکے تب تو رعایا انتہائی رحم کی مستحق ہوتی ہے. خواجہ سرا یا ہجڑے سماج کا پسا ہوا طبقہ ہوتے ہیں. ان کے رنگ برنگ کپڑے خوبصورت تو نظر آتے ہیں لیکن یہ رنگ ان کی بے بسی چھپا نہیں پاتے. اگر پارلیمنٹ کی سطح پر یا اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے ان پر فی الحال کوئی پابندی نہیں تو ضلعی سطح پر کیسے ان کو مجبور کیا جا سکتا ہے. زکواۃ فنڈ یا وطن کارڈ ٹائپ کوئی سکیم شروع کر کے اس مسئلے کا حل ڈھونڈا جائے. نا کہ ان کو داڑھی رکھنے کا حکم دیکرپورے پاکستان اور دنیا بھر میں بنوں کو جگ ہنسائی کا نشانہ بنایا جائے.

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s