وزیرستان کے باسیوں کیلئے خوشخبری، کفیلوں کی غلامی سے نجات


تحریر: فرمان نواز


آج صبح سماء نیوز پر ایک پراگرام کے دوران یہ بتایا گیا کہ پاکستان میں چائے کی کاشت کیلئے کشمیر اور وزیرستان بہترین جگہیں ہیں. ان علاقوں میں چائے کی کاشت کر کے کروڑوں کا زر مبادلہ بچایا جا سکتا ہے.
خبر بڑی اچھی تھی لیکن پھر یہ سوچ کر اداس ہوا کہ وزیرستان کے لوگ جہالت سے نکلیں گے تو ان کو کوئی بات سمجھ آئے گی. حکومت نے رزمک میں کیڈک کالج قائم کیا تو ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ رزمک جنوبی اضلاع کیلئے ایک تعلیمی سنٹر بنتا لیکن وزیرستان کے قبائلی جدید تعلیم کے زیور سے دور بھاگتے رہے. طالبان کا دور آیا تو قبائلی اُن کی تعریفیں کر کے نہیں تھکتے تھے. لیکن جب فوج نے آپریشن کیا اور دوبارہ قبائل کو وزیرستان آنے کی اجازت دی تو پاک فوج زندہ باد کے نعرے سننے کو ملے.
اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ہندوستان میں جرنلزم کی شروعات میں علماء اور مولویوں کا بھی کردار تھا. اسی طرح ہندوستان میں سیاست کا شعور بھی علماء کے ذریعے پھیلا. میری بات شاید علماء کو بری لگے لیکن بعد میں یہ لوگ ابوجہل کے پیروکار بن گئے. ہر جہالت کی وکالت ان کے حصے میں آئی.
لیکن اب حالات بدل گئے ہیں. جن جہالتوں کو علماء نے سپورٹ کیا آج خود ان جہالتوں کے ڈونرز اپنی پالیسی کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں. ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حال ہی میں سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ مغرب کے ایما پر ہم نے سرد جنگ کے دوران مسلم ممالک میں وہابی اسلام کو پروموٹ کیا تا کہ روس کا راستہ روکا جا سکے. سعودی شہزادے نے یہ بھی بتایا کہ کیسے سعودی عرب نے مغربی دوستوں کو خوش کرنے کیلئے مسلم ممالک میں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے مدرسوں کے جال کو پھیلایا.
اخبار دی گارڈین کے مطابق سعودی شہزادے نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کو دوبارہ معتدل اسلام کی طرف واپس لیکر جائیں گے.
اب ہمارے علماء کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ سرد جنگ کے دور میں ہی رہنا پسند کریں گے یا نئے پاکستان کی بنیاد رکھنا چاہیں گے. وزیرستان میں ایک پالیسی کے تحت قوم پرست اور معتدل علماء اور ملکان کو راستے سے ہٹایا گیا. کسی کو ڈرا کر بھگایا گیا تو کسی کو قتل . اب جب کہ دوبارہ فوج کی مہربانی سے حالات ٹھیک ہو گئے ہیں تو وزیرستان کے لوگوں کے پاس موقع ہے کہ وزیرستان کو تعلیم اور تجارت کا مرکز بنا دیں. بھارت کے ساتھ حالات جتنے بھی خراب ہوں لیکن واہگہ بارڈر پر تجارت بند نہیں ہوتی تو پھر افغانستان کے ساتھ کیوں تجارت بند کر دی جاتی ہے؟ یہ تجارت صرف پشاور کے راستے ہی کیوں ہو؟ جنوبی اضلاع کیلئے غلام خان کا راستہ کیوں بند کر دیا جاتا ہے؟ یہ راستہ بند تھا لیکن پھر بھی پورے پاکستان میں دہشت گردی ہوتی رہی.
چاہے چائے کی کاشت ہو یا تعلیمی اداروں کا جال، کیوں نہ ہم اپنے علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیں. ہم کب تک عرب کفیلوں کی غلامی کریں گے؟

ایکسپریس ٹریبیون اور دی گارڈین کی خبروں کے لنک مندرجہ ذیل ہیں.

The Guardian News

ّExpress Tribune

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s