منظور پشتین بنوں سیمینار، پاکستانی جھنڈا اور خود کش حملہ آور


پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے بنوں آڈیٹوریم ہال میں منعقدہ امن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت سے دہشت گردی نے جنم لیا ، لاپتہ افراد فوری طور عدالتوں میں پیش کئے جائیں جو گنہگار ہیں ان کو سزا دی جائے اور جو بے گناہ ہیں ان کو رہا کیا جائے ۔پاکستان کے آئین کے ساتھ ہمارا گہرا رشتہ ہے۔لیکن حکمرانوں نے اپنی بچاؤ کیلئے پشتون قوم کو قربانی کا بکرا بنایا ۔ سینٹرل جیل بنوں پر حملے کے وقت ریاستی ادارے کہاں تھے؟ اُنہوں نے کہا کہ پشتون علاقوں میں بارودی سرنگیں صاف کئے جائیں کیونکہ اس سے بے گناہ لوگ شہید ہورہے ہیں۔ فاٹا اور خیبر پختونخواہ کے وسائل پر آئین کے مطابق اختیار دیا جائے ۔ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق مانگتے رہیں گے۔ اگر پی ٹی ایم کا ایک کارکن بھی گرفتار کیا گیا تو ان کی رہائی کیلئے تمام پشتون قوم اکٹھے ہوکر نکلے گی۔
منظور پشتین نے کہا کہ مطالبات منوانے کیلئے رمضان سے پہلے ضلع بنوں میں عوامی جلسے کا جلد اعلان کرونگا ۔ اس موقع پر پی ٹی ایم بنوں کے چیئرمین ڈاکٹر حبیب اللہ ، جنرل سیکرٹری ندیم عسکر ، آل سیاسی اتحاد ککی کے صدر نثار خان ککی، شمالی وزیرستان کے نیک عمل خان ، حنیف وزیر ، سلیم کامریڈ ، ملک نصراللہ خان نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان کے آئین کی پاسداری اور احترام کرتے ہیں ۔پاکستان ہمارا اپنا ملک ہے پاکستانی پرچم کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دینگے لہذا قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر ہمارے مطالبات تسلیم کئے جائیں۔ اس موقع پر پی ٹی ایم امن سیمینار میں ایک نوجوان قومی پرچم کے ساتھ شریک ہوا جس پر ہال کے اندر شور برپا ہوا تاہم سیمینار منتظمین نے انتشار پھیلانے کی سازش قرار دیتے ہوئے قومی پرچم کو سٹیج پر لہرا دیا ۔
اس سیمینار سے ایک دن پہلے بنوں میں تخریب کاری کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ حساس اداروں کی طرف سے ڈی پی او بنوں کو اطلاع ملی کہ دہشت گرد عناصر بنوں میں کسی عوام جلسہ میں تحریب کاری کا منصوبہ رکھتے ہیں اور حملہ میں استعمال ہونے والی خود ساختہ خود کش جیکٹ بمعہ دیگر آلات بنوں اور ایف آر بنوں کی سرحد پر منتقل کرکے کسی خفیہ مقام میں چھپا ر کھے ہیں۔ اطلاع کو مصدقہ جانتے ہوئے ڈی ایس پی کینٹ کی سربراہی میں بم ڈسپوزل اسکواڈ اور دیگر پولیس نفری مشتبہ علاقہ میں پہنچے اور زیرِ زمین بارودی مواد کو تلاش کرنے والی مشینوں کو استعمال کرتے ہوئے تھانہ بکا خیل کی حدود نالہ ٹوچی میں دفن شدہ خود ساختہ جیکٹ کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ اس جیکٹ میں آٹھ دستی بم کو مہارت کے ساتھ جوڑا گیا تھاکہ ایک گرنیڈ کے پھٹنے سے باقی گرنیڈ بھی بیک وقت پھٹ جاتے جس سے انسانی جانوں کو وسیع پیمانے پر نقصان ہو جاتا ۔علاوہ ازیں موقع سے مخابرہ اور پرائما کارڈ بھی برآمد کیا گیا۔تھانہ بکا خیل میں نامعلوم شرپسند عناصر کے خلاف بارودی مواد ایکٹ کے تحت پرچہ درج کیا گیا ۔

ایڈیٹر نوٹ: منظو ر پشتین کے سیمینار سے ایک دن پہلے ڈی پی او بنوں کو یہ خبر ملنا کہ کسی جلسے میں تخریب کاری کا منصبوبہ بنایا گیا ہے، اس کے متعلق منصوبہ بندی کرنے والے کیلئے اور یہ خبر میڈیا تک پہنچانے والے  کیلئے ایک شعر لکھنا چاہوں گا۔
ترچھی نظروں سے نہ دیکھو عاشق دلگیر کو
کیسے تیر انداز ہو سیدھا تو کر لو تیر کو
ہفتے کے دن میں کمیشن امتحان کیلئے پشاور گیا تھا ورنہ خواہش تھی کہ منظور پشتین سے کچھ سوالات کر لیتا. منظور پشتین جو باتیں کر رہا ہے ایسی ہی حرکت نواز شریف سے ہوئی تو ڈان لیکس کا ایپی سوڈ سامنے آیا۔نواز شریف سے پہلے مرحوم جونیجو صاحب یہی غلطی کر چکے ہیں جب انہوں نے افغانستان کے جہاد سے ہاتھ کھینچنا چاہے تو ضیا ء کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے۔ گو کہ ضیا ء الحق خود بھی بعد میں کہہ بیٹھا کہ کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا ہوگیالیکن تب ان کا پتہ درخت سے گر چکا تھا۔میں اس موضوع پر روزنامہ آوٹ لُک افغانستان کیلئے کچھ سال پہلے پاکستان بیٹینگ آن دا رانگ ہارس کے ٹائٹل سے ایک مفصل مضمون لکھ چکاہوں جو ابھی بھی آن لائن موجود ہے۔
لیکن منظور پشتین ایک نئی سوچ لیکر آگے آیا ہے۔وہ دہشت گردی کے متعلق پالیسی پر تنقید تو کر رہا ہے لیکن مقصد یہ نہیں کہ امریکہ کی طرح پاکستان کو بد نام کرے اور خود دہشت گردوں کا سپورٹر ہو۔وہ اچکزئی کی طرح خود کو افغان ثابت کرنے پر بھی بضد نہیں۔خود کو افغان نسل سے منسلک کرنا اور افغانستان کی حمایت کرنا دو الگ الگ موضوع ہیں۔ویسے بھی ہم اس قوم کا ساتھ کیوں دیں جنہوں نے ہمیں انگریز کے ہاتھوں فروخت کیا تھا اورٹیکس لیتے تھے۔
منظو ر پشتین پر پختونستان کے شوشے والا ٹھپہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ان کے باتوں کی نوعیت الگ ہے اور فی الحال پنجابی میڈیا اس پر کچھ موقف اپنانے سے قاصر ہے۔لیکن یہ فرق تو پڑا ہے کہ بیس سال بعد مولانا فضل الرحمان کو فاٹا یاد آیا اور پچھلے دنوں میر علی میں ان کو جلسہ کرنا پڑا۔
نظور پشتین کی تحریک کا اثر غیر مرعی ہاتھوں پر پڑے نہ پڑے اس کے متعلق کچھ کہنا قیاس آرائی ہوگی لیکن اگلے الیکشن میں اس تحریک کا فائدہ کونسی پارٹی اٹھاتی ہے اس زاوئے کا تعین منظور پشتین خود کر لے تو اچھا ہوگا۔

Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s